وطن کی مٹی گواہ رہنا
پاکستان اللہ کی ایک نعمت ہے اس ذات نے ہمیں بہترین جغرافیہ، بہتے دریا، وسیع سمندر، بندرگاہیں، سر سبز کھیت، کھلے میدان، اونچے پہاڑ، لامتناہی صحرا، معدنیات کے خزانے اور غیور لوگ عنایت کیے ہیں۔
اس وطن کے جوانوں کا ہر دور میں حب الوطنی کا جذبہ مثالی رہا ہے، ان جوانوں پر آزمائش کی کوئی بھی گھڑی آئی یہ ہر آزمائش پر پورا اترے ہیں۔
1965 ءکی جنگ کو ہی دیکھا جائے جب بھارت نے طاقت کے نشے میں چور ہوکر پاک فوج کی توجہ لاہور محاذ سے ہٹانے کے لیے 600 ٹینکوں اور ایک لاکھ فوج کے ساتھ سیالکوٹ کی سرزمین پر حملہ کیا
تو اہلیان چونڈہ نے پاک فوج کے ساتھ مل کر بھارتی فوج کا غرور خاک میں ملا دیا یہاں تک کہ چونڈہ کو بھارتی ٹینکوں کا قبرستان بنا دیاگیا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا میں ٹینکوں کا یہ سب سے بڑا حملہ تھا، شہادت کا جذبہ رکھنے والے جوانوں نے سینے سے بم باندھ کر بھارتی ٹینکوں کے پرخچے اڑادیے۔ چشم فلک نے آج تک اپنے وطن پر قربان ہونے کا یہ ایمان افروز منظر نہیں دیکھا، یہ سعادت انہی کے حصے میں آئی جن کی زبان پر لا الہ الا اللہ اور سینوں میں محمد رسول اللہ کاعشق سمویاہوا ہے۔ یہ ہر میدان میں بدر کی روایات کے امین ہیں۔ حالات کی تیز آندھیاں اور دشمن کے ناپاک عزائم ان کے قدموں کو کبھی متزلزل نہیں کر سکے یہ ہمیشہ پرخطر چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مستعد رہتے ہیں یہ ذوق خدائی دنیا کی کسی اور مخلوق کے حصے میں نہیں آئی یہ انہیں کا کام ہے جن کے حوصلے ہمالہ سے بلند ہیں :
مقام شوق ترے قدسیوں کے بس کا نہیں
انھی کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد
چونڈہ میں اس معرکے کے کئی شہداء کی قبریں اور بھارت سے چھینا گیا ٹینک آبدوز اور توپیں آج بھی موجود ہیں جو بھارتی فوج کی بزدلی اور پاک فوج کے تاریخی معرکے کی یاد دلاتی ہے۔
اس دھرتی پر قربان ہونے والوں نے ہر دور میں دلیری اور جرات کے لازوال کارنامے سر انجام دیے۔ اللہ تعالیٰ نے جو غیرت مند سپوت اس دھرتی کو دے ہیں وہ شاید کسی اور سر زمین کے نصیبے میں نہیں آئے۔
آزاد کشمیر ایک دور افتادہ خطہ ہے جہاں سے بہت سے نوجوان بڑے جذبے سے پاک فوج میں جاتے ہیں، ان میں سے بہت سے ایسے بھی ہیں جنھوں نے ہوش سنبھالتے ہی اپنی دادیوں، نانیوں اور ماؤں کے پاس ایسے قرآن پاک کے نسخے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہوتے ہیں جن کے غلاف سبز ہلالی پرچم سے بنے ہوتے ہیں، بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں جنھوں نے ماں کی آغوش میں پہلی لوری کے طور پر ”پاک سر زمین شاد باد“ سنا ہوتا ہے، میں نے ایسے بھی بشمار نوجوانوں دیکھے ہیں جو ہمہ وقت اپنے پاس پاک سر زمین کی خاک رکھتے ہیں جب ان کے جسم پر کوئی زخم آتا ہے تو وہ
خاک اپنے زخموں پر مل لیتے ہیں جیسے ہی دھرتی ماں کا لمس محسوس ہوتا ہے ان کے تمام زخم رفو ہو جاتے ہیں اور درد کی شدت کا احساس نہیں رہتا۔ یہاں کے نوجوان پاک فوج کی تقریباً ہر یونٹ میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں بعض یونٹس وزیرستان، کوئٹہ، اور ملک کے دور دراز علاقوں میں وطن عزیز کے دفاع پر معمور ہیں، جب کبھی کسی نوجوان کو شہادت کا رتبہ نصیب ہوتا ہے تو علاقے کی دوری کی وجہ سے اس کی میت کو بذریعہ سڑک پہنچانا انتہائی دشوار ہوتا ہے اس کے لواحقین انتظار کی شدید اذیت سے دوچار ہو تے ہیں گرمی کی وجہ سے بعض میتیں آزاد کشمیر پہنچتے پہنچتے خراب ہوجاتی ہیں۔
میری متعلقہ ارباب اختیار کو تجویز ہے کہ جو بھی شخص وطن عزیز پر کس بھی مقام پر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرے وطن عزیز کے اس سپوت کی میت کو بذریعہ ہیلی کاپٹر یا دیگر بوائی ذرائع سے اس کے آبائی علاقے میں پہنچایا جائے تاکہ اس کے لواحقین صحیح حالت میں اس کا آخری دیدار کر سکیں اور وطن عزیز کے اس سپوت کے جسد خاکی کو اچھی حالت میں مادر وطن کی آغوش کے حوالے کیا جاسکے۔


