بندر، جگنو اور سماجی اقدار کی مسخ شدہ لاش کا نوحہ


’’سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے۔ ‘‘کیا ہوتا ہے؟ اور کیوں ہوتا ہے؟ یہ ہم سے بہتر اور کون جانتا ہو گا؟ یقین نہ آئے تو ایرانی افسانہ نگار ’’جمال میر صادقی‘‘ کا فارسی افسانہ ’’بوزینہ ہاؤ کرم شب تاب‘‘ (جس کا ترجمہ ڈاکٹر معین نظامی نے ’’بندر اور جگنو‘‘ کے نام سے کیا ہے) پڑھ کر دیکھ لیجیے۔ یہاں آپ کو جنگل اور اپنے سماج میں اگر کہیں مشابہت نظر آئے تو اس میں قصور نہ تو آپ کی فہم کا ہے اور نہ ہمارے بیان کا، البتہ دونوں میں سے ’’بہتر کون ‘‘ کا فیصلہ کرنے کی ذمہ داری صرف آپ پہ عائد کی جاتی ہے۔ کہانی کا آغاز ’’کلیلہ و دمنہ‘‘ کی معروف حکایت کے اس حصے سے ہوتا ہے:

’’کلیلہ نے کہا: جو چیز نا قابلِ علاج ہو اس کے معالج کی تکلیف نہ اُٹھاؤ۔
دمنہ نے پوچھا : وہ کیسے؟
کلیلہ نے کہا :بیان کیا گیا ہے کہ بندروں کا ایک گروہ کسی پہاڑ پر رہتا تھا۔۔ ‘‘
(کلیلہ و دمنہ، ابوالمعالی نصراللہ منشی بہ تصحیح مجتبیٰ مینوی)

یہ علامتی کہانی بندروں کے ایک ایسے گروہ سے تعلق رکھتی ہے جو اپنی قدامت پرستی کی بنیاد پر احساسِ تفاخر میں مبتلا ہے جب کہ ان کے وہ روشن خیال ساتھی جو وقت کے ساتھ قدم بہ قدم چلتے رہے، کامیاب ہوئے اور شہر وں میں گھر بنا کر رہنے لگے ان کے نزدیک معتوب اور موردِ لعن و طعن ٹھہرے۔ ان کے لیے اس قدامت پرست طبقے کے زریں خیالات ملاحظہ کیجیے:

’’غافل قوم ہیں ! حرص آلود مادّی زندگی نے انھیں خود میں غرق کر رکھا ہے۔ یہ لوگ معنویات سے محروم رہ گئے ہیں۔۔ تس پر یہ ہمیں جاہل گردانتے ہیں۔۔ ان میں قناعت نام کو بھی نہیں ہے، یہ مادہ پرستی کے سمندر میں غرق ہیں اور جہانِ روحانی سے بے خبر۔۔ ‘‘

دوسروں کو ملامت کرنا اور خود اپنے آپ کو بر تر، برحق اور واجب اتعظیم خیال کرنا ایک ایسا کارِ خیر تھا جس کی ہمہ وقت ادائیگی، بَن میں رہنے والے یہ بندر ایک مقدس فریضے کی مانند ضروری خیال کرتے تھے۔ لیکن جب ان کی توجہ ان کی اپنی خستہ و شکستہ حالت کی طرف دلائی جاتی تو اِس کا وہ عجب جواز تراشتے:

’’یہ ٹھیک ہے کہ پہاڑوں پر بھیڑیے ہوتے ہیں۔۔ جو ہمیں چیر پھاڑ کر اپنا کھاجا بنا لیتے ہیں، لیکن یہی قانونِ فطرت ہے اگر موت چھانٹی نہ کرے اور ہم سبھی زندہ رہیں۔۔ تو پھر درختوں پر کوئی پتا، کوئی پھل باقی نہ بچے گا۔۔ ‘‘

تبھی وہ وقت بھی آیا جب باقی سب ساتھیوں نے سخت سردی اور حالات سے تنگ آ کر شہروں کی جانب ہجرت شروع کی۔ لیکن کچھ لکیر کے سخت فقیر اپنی پرانی روایات پہ اٹل رہے اور بَن نہ چھوڑا۔ انھوں نے آنے والے سرد وقت کا نہ تو خود کوئی مناسب بندوبست کیا اور نہ ہی اپنے پیروکاروں کو کرنے دیا۔ جب ساتھی آنے والے مشکل وقت کے بارے میں استفسار کرتے تو ان کے پاس گھڑا گھڑایا ایک ہی جواب ہوتا:
’’اگر سردیاں زیادہ سرد ہوں تو اُس کی مشیت ہے۔۔ حقیر بندر بھلا کیا کر سکتا ہے۔ تقدیر سے کسی کو مفر نہیں۔۔ ‘‘

پھر وہ وقت بھی آیا جب کہ سخت سردی نے حالات کے مارے اور اپنی پرانی روایات پہ سختی سے ڈٹے بد حال بندروں کو ادھ موا کر ڈالا۔ تب ایک دن انھوں نے ایک جگنو دیکھا۔ وہ نا سمجھ اسے ایک چنگاری سمجھے۔ ہر ایک کی خواہش ہوئی کہ اس کے زیادہ قریب ہو تاکہ تپش پائے۔ ان کی ہاتھا پائی اور چیخم دھاڑم نے جنگل کا سکوت توڑ ڈالا اور وہ غُل مچایا کہ الاماں۔ تب ایک دانا پرندے نے انہیں اس کارِ بیکارسے باز رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ:

’’ہر چیز جو روشن ہو وہ آگ نہیں ہوتی۔ ‘‘

تِس پہ وہ بد مزہ ہو کر بولے:
’’ذرا اس پدی کو دیکھو۔۔ اس کی یہ مجال کہ ہمیں حکمت و دانش کا درس دے۔۔ جب ہمارے بزرگوں نے کہا یہ آگ ہے تو یہ کیسے کہتی ہے کہ نہیں ہے۔ ‘‘

ناصح پرندے نے جب بارِ دگر کہنے کی جرأت کی اور مروت میں ذرا اور قریب آیا تو ان میں سے ایک جاہل کو جلال عود آیا :
’’اس نے پنجہ مار کر مشفق پرندے کو دبوچا اور اس کا سر کاٹ کے زمین پر دے مارا۔ ‘‘

کہانی کا یہ دردناک انجام ہمارے لئے کچھ نیا تو نہیں۔ جنگل کے اس دستور کی جھلک تو آج بھی ہم اپنے سماج میں بخوبی دیکھ سکتے ہیں۔ ایک ایسی ریاست جہاں طاقت کا قانون چلتا ہو جہاں مذہب مسمار کئے جائیں اور درگاہوں کی دیواروں پر خون سے آرائش کی جائے، جہاں کئی انسانی جانوں کی وقعت محض ایک خود کش بم دھماکہ ہو، جہاں فرد کی آزادئ اظہار پہ قدغن ٹھہرے، ایسے سماج میں وہ کون ناصح ہوگا جو ہمارے جیسے قدامت پرستوں کو اپنی جان ہتھیلی پہ رکھ کر سیدھا رستہ دکھانے چلا آئے گا؟

دیکھا جائے تو ہمارے لیے آج بھی حضرتِ ناصح اتنا ہی برا ہے جتنا کہ کل تھا۔ انسان اور انسانیت کا ڈھنڈورا پیٹنے والے ملعونوں کے لیے ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ کون سی دفعہ لگائی جائے کہ جس کے تحت ان کی زباں بندی یا انھیں دیوار میں چنوانا ہمارے لیے آسان ٹھہرے۔ کیونکہ ہماری حد سے بڑھی عدم برداشت ہمیں انسان سے حیوان میں بدلنے میں ذرا تاخیر نہیں کرتی۔ اپنے جیسے انسانوں کی عزت کرنا تو درکنار وحشی درندوں کی مانند ان کی پشت ادھیڑ ڈالنا ہمارے لیے باعثِ تفاخر قرار پاتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اپنے مسلک، عقیدے اور نظریے سے اختلاف رکھتی زبانوں کو ہم لگام دینا بھی خوب جانتے ہیں اور انہیں کھینچ کر باہر نکالنا بھی عین عبادت و سعادت سمجھتے ہیں۔ ہمارا مذہبی اور سیاسی جلال تہذیب و مروت کی سب حدود پھلانگتا جانے کب، کہاں، کیسے ہم پہ طاری ہو جائے یہ ہمیں نہیں معلوم۔ ہماری سلگتی زبانیں کب تہذیب کی دھجیاں اڑاتے ہوئے انگارے اگلنے لگیں ہم اس بات سے بھی نا آشنا ہیں۔ کب ہم میں اور جنگل کے جانوروں میں فرق محض دو اور چار ٹانگوں کا رہ جائے ہم اس بات سے بھی نا بلد ٹھہرے۔

بد قسمتی سے ہم قدامت پرستی اور طاقت کے زعم میں حال کے اس دوراہے پر آ کھڑے ہوئے ہیں جہاں تیز رفتار وقت کی اڑنے والی گرد میں نہ تو ہم اپنا چہرہ ٹھیک سے دیکھ سکتے ہیں نہ اپنے آنے والے کل کا صحیح علم رکھتے ہیں۔ ہمارا ماضی ہمارے سروں پہ ایک تاریک سائے کی مانند مسلط ہے۔ اپنی قومی سلامتی اور مفاد پرستی کے اصولوں کے تحت ہم جب چاہیں، جسے چاہیں کھلے بازوؤں سے خوش آمدید کہیں اورجب چاہیں، جسے چاہیں دیس نکالا دے ڈالیں، یہ ہماری مرضی ہے، کیونکہ اپنے تلخ اور سرد رویوں سے دوسروں کو ہر طرح کے قلبی و روحانی آزار پہنچانے کی ذمہ داری لیے، ہم باہم دست و گریباں، متضاد قول و فعل کے بلند و بالا عہدوں پہ براجمان ہیں۔ پے در پے ہونے والے حادثات و سانحات ہمارا کچھ نہیں بگاڑ پاتے کیونکہ مثبت تبدیلی کے عمل سے گزرنے کو ہم تیار نہیں اور اگر ہمارے چند ساتھی اس عمل سے گزرنے کی جسارت کر بیٹھیں تو ہم جو قدیم روایات کے پاسبان و امین ٹھہرے، اُن کے اگلے پچھلے کرم بخشوانے کے خود ساختہ فریضے کی ادائیگی میں کسی قسم کا تغافل کیے بغیر اُنہیں اُن کی گور تک بھی با آسانی منتقل کر سکتے ہیں۔ گویا انسان سدھارنے میں بھی ہم بے مثل و یکتا ہیں۔

بہت تکلیف دہ بات ہے کہ اپنی سماجی اخلاقی اقدار کی مسخ شدہ لاشوں کا نوحہ پیٹتے وقت ایک سوال جو ہر بار ہمارے سامنے آکھڑا ہوتا ہے اور ہم اس کے متوقع اثباتی جواب سے خوف زدہ ہو کرخود سے نظریں نہیں ملا پاتے، وہ یہ کہ کیا واقعی ہمارا سماجی بگاڑ ہمیں بدحالی کی اس نہج پہ پہنچا چکا ہے کہ جہاں ہم نا قابلِ علاج قرار دے دیے جائیں؟ اگر نہیں تو پھر مثبت تبدیلی کا وہ کون سا عمل ہے جو بغیر کسی خونی انقلاب کے ہمیں راہِ راست پہ لا سکے؟ ہماری عبادت گاہوں کو خود ہمارے ہاتھوں سے محفوظ رکھ سکے نیز ہمیں ہمارے جیسے انسانوں کی عزت و ناموس کا درس دے اور جنگل کی طرح طاقت کے اندھے قانون کو ایک مثالی جمہوری نظام میں تبدیل کر سکے۔ یاد رکھیے احساس سے عاری انسانوں سے تو درندے بھی پناہ مانگتے ہیں!

Facebook Comments HS