نائی سب سے زیادہ سیانے ہوتے ہیں

کہتے ہیں کہ پرانے وقتوں میں ایک جنوبی ساحلی شہر میں ایک نہایت غریب جولاہا رہا کرتا تھا۔ ایک دن وہ کپڑا بن رہا تھا کہ اس کی کپڑا بننے کی کھڈی ٹوٹ گئی۔ اس نے اپنی کلہاڑی اٹھائی اور کسی مناسب درخت کی تلاش میں جنگل پہنچ گیا۔ وہاں اسے ایک نہایت ہی قدیم اور بڑا درخت نظر آیا۔ اب بندہ سوچے، کہ اس کی ضرورت لکڑی کے چند ٹکڑوں کی تھی اور معمولی سی محنت سے وہ پانچ

Read more

تیسرے جولاہے نے عقل لڑا کر سسرال میں عزت بچائی

تیسرے جولاہے نے اپنا قصہ شروع کیا: بلاشبہ ان دونوں کی ذہانت بے مثال ہے مگر میری عقل نے بھی میرے سسرال میں میری خوب عزت بنائی ہے۔میری بیوی پہلے ہی اپنے میکے جا چکی تھی۔ میں اپنے سسرال کی طرف چلا تو ساتھ دینے کو گاؤں کے نائی کو بھی ساتھ لے لیا۔ جب ہم سسرال پہنچے تو میری ساس نے نئی چادریں چارپائی پر بچھائیں اور ہمیں عزت سے بٹھایا۔ پھر پوچھا ”اتنے سفر کے بعد تمہیں بھوک تو بہت لگی ہو گی؟ “

Read more

راجہ کا شیر جاہل نکلا

پیارے بچو، بہت ہی زیادہ پرانے زمانے کا ذکر ہے کہ اندھیر نگری میں چوپٹ مہاراج نامی ایک راجہ حکومت کرتا تھا۔ راجہ کو جانور پالنے کا بہت شوق تھا۔ لیکن معاملہ یہ تھا کہ اگر وہ بکری یا گائے بھینس پالتا تو پرجا بھد اڑاتی کہ یہ مہاراجہ ہے یا گڈریا؟ آج بکری بھینس پالی ہے تو کل دودھ دہی بیچنا شروع کر دے گا۔ آخر ایک دن چوپٹ مہاراج نے سوچا کہ کیوں نا شیر پالا جائے، راجہ مہاراجہ شیر کی کھال اوڑھتے ہیں تو ان کے رعب میں اضافہ ہوتا ہے، اور اگر ہم کتوں کی بجائے محل کی حفاظت کے لیے بھی شیر رکھیں گے تو سب ہم سے بہت ڈرا کریں گے۔

چوپٹ مہاراج نے ایک خوب پلا ہوا شیر محل میں رکھ لیا۔ اسے خوب کھلایا پلایا جاتا۔ مگر شیر کوئی کتا تو تھا نہیں کہ جو راتب ڈالا جاتا، چپ چاپ کھا جاتا۔ اسے شکار کرنا پسند تھا۔ سو ایک دن وہ محل سے باہر نکلا اور بازار میں بندھی ایک غریب کسان کی بکری مار کر کھا گیا۔ کسان اگلے دن دربار میں فریاد کرتا ہوا آیا کہ ”مہاراج آپ کے شیر نے میری بکری کھا لی ہے۔“

Read more

ہینڈسم تمہارے خاندان میں ہاتھِی کا شکار نہیں کیا جاتا

ایک جنگل میں ایک شیر اور شیرنی رہتے تھے۔ شیرنی نے دو جڑواں بچوں کو جنم دیا تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ شیرنی اب بچوں کا خیال رکھے گی اور شیر شکار کر کے لایا کرے گا۔ کئی دن تک ایسا ہوتا رہا کہ شیر ہرن یا نیل گائے مار کر لاتا اور سب پیٹ بھر کر کھاتے۔

پھر ایک دن ایسا ہوا کہ سارا دن شکار کی تلاش کے باوجود شیر کو شکار نہیں ملا۔ چلتے چلتے جنگل میں اسے ایک گیدڑ کا بچہ بھٹکتا ہوا ملا۔ شیر نے اسے دیکھا تو اسے بہت رحم آیا۔ اس نے سوچا کہ جنگل میں اسے کوئی بھی مار ڈالے گا، اس لئے شیر نے اسے نرمی سے اپنے منہ میں پکڑا اور اپنی کچھار میں لے آیا۔

Read more

نائی کی چالاک بیوی اور سات چوروں کی کہانی

پرانے زمانے کا قصہ ہے کہ ایک ایسا بے وقوف سا نائی تھا جو کوئی کام سیدھا نہیں کر سکتا تھا۔ حتی کہ بال کاٹتے وقت وہ کان کاٹ دیتا تھا اور حجامت کرتے وقت گلا۔ نتیجہ یہ کہ اس کا کام ٹھپ ہوتا گیا اور وہ اپنی چیزیں بیچ کر گزارا کرنے پر مجبور ہو گیا۔ رفتہ رفتہ ایسا وقت آیا کہ اس کے گھر میں صرف دو چیزیں باقی بچیں، اس کا استرا اور اس کی بیوی، اور یہ فیصلہ کرنا دشوار تھا کہ ان میں سے زیادہ تیز کون ہے۔

ایک دن نائی کی بیوی اسے بے وقوفیوں پر طعنے دے رہی تھی کہ وہ بے بسی سے بولا ”یہ سب بار بار کہنے کا کیا فائدہ ہے؟ میں تم سے متفق ہوں، میں نے کبھی خود سے کچھ نہیں کمایا، میں کبھی خود سے کچھ نہیں کما سکتا، اور میں کبھی کسی کو کمانے بھی نہیں دوں گا۔ یہ حقیقت ہے“۔

Read more

معصوم گیڈر اور عیار تیتر کی کہانی

ایک گیدڑ اور تیتر میں دوستی کے عہد و پیمان ہو گئے اور انہوں نے دوسرے کے پسینے کی جگہ اپنا خون بہانے کا عہد کیا لیکن گیدڑ دوستی کے بدلے میں بہت کچھ طلب کرنے والا اور حاسد فطرت تھا۔ کچھ عرصے بعد اس نے تیتر کو کہا ”تم دوستی کی باتیں تو بہت بگھارتے ہو لیکن میرے مقابلے میں آدھا بھی نہیں کرتے۔ میرے نزدیک دوست وہ ہے جو مجھے ہنسانے اور خوب دکھی کر کے رلانے پر قادر ہو، جو مجھے خوب اچھا کھلائے پلائے اور ضرورت پڑے تو میری زندگی بچائے۔ تم یہ سب کچھ نہیں کر سکتے“۔

Read more

شیر کی دم سے بندھا گیدڑ

بہت پرانے زمانے کا ذکر ہے کہ ایک کسان اپنے کھیت میں بیلوں کی جوڑی سے ہل چلا رہا تھا۔ اچانک ملحقہ جنگل سے ایک بڑا سا شیر نکلا اور اس نے نہایت سلیقے سے کسان کو سلام کر کے کہا ”کیسی گزر رہی ہے میرے دوست؟ “

کسان کی پہلے تو شیر کو دیکھ کر جان نکل گئی مگر شیر کا دوستانہ انداز دیکھ کر اسے تسلی ہوئی۔ اس نے سوچا کہ شیر ڈائیلاگ کرنے آیا ہے تو خیریت اسی میں ہے کہ اس سے بات چیت کی جائے۔ وہ بولا ”بہت اچھی گزر بسر ہو رہی ہے جنگل کے بادشاہ۔ “

Read more

بدرو جولاہا جو پروپیگنڈے سے بادشاہ بن گیا

پرانے زمانے کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں میں ایک منحنی سے جسم والا جولاہا رہا کرتا تھا۔ اس کا قد چھوٹا تھا، ٹانگیں اور بازو کمزور اور جسم عجیب۔ اس کے ہمسائے اسے ٹڈا بدرو جولاہا کہتے۔

لیکن اپنے چھوٹے سے قد اور کمزور سے جسم کے باوجود بدرو خود کو بہت بہادر سمجھتا تھا۔ وہ گھنٹوں اپنی بہادری کی تعریف کرتا رہتا اور وہ کارنامے سناتا جو اس نے موقع ملتے ہی سرانجام دینے تھے۔ بس قسمت کی خرابی تھی کہ اسے موقع نہیں ملتا تھا اور قصے سننے والے اس پر ہنستے تھے۔

Read more

سیانے چوہے کی شادی اور ڈیل کرنے سے توبہ

ایک مرتبہ ایک موٹا تازہ اور خوب سیانا چوہا تیز بارش میں پھنس گیا۔ بوچھاڑ سے بچنے کے لئے اس نے جلدی جلدی ایک بل کھودا اور اس میں دبک گیا۔ وقت گزاری کے لئے وہ بل کو مزید کھودتا گیا۔ کھودتے کھودتے اسے ایک مردہ درخت کی جڑ ملی جو بالکل خشک تھی۔ چوہے بہت کفایت شعار اور سلیقہ مند مخلوق ہوتے ہیں۔ سیانے چوہے نے سوچا کہ میں اس لکڑی کو گھر لے جاؤں گا اور اسے جلا کر کھانا پکاؤں گا۔ مینہ تھما تو سیانا چوہا اس جڑ کو منہ میں دبائے اپنے بل کی طرف روانہ ہوا۔

وہ کچھ آگے گیا تو اس نے دیکھا کہ ایک غریب آدمی بہت مایوسی کے عالم میں آگ جلانے کی ناکام کوششیں کر رہا ہے اور اس کے گرد چھوٹے چھوٹے بیٹھے بچے رو رہے ہیں۔
سیانے چوہے نے دلگرفتہ ہو کر پوچھا ”کیا ہوا؟ یہ بچارے کیوں رو رہے ہیں؟ “

Read more

بندر، جگنو اور سماجی اقدار کی مسخ شدہ لاش کا نوحہ

’’سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے۔ ‘‘کیا ہوتا ہے؟ اور کیوں ہوتا ہے؟ یہ ہم سے بہتر اور کون جانتا ہو گا؟ یقین نہ آئے تو ایرانی افسانہ نگار ’’جمال میر صادقی‘‘ کا فارسی افسانہ ’’بوزینہ ہاؤ کرم شب تاب‘‘ (جس کا ترجمہ ڈاکٹر معین نظامی نے ’’بندر اور جگنو‘‘ کے نام سے کیا ہے) پڑھ کر دیکھ لیجیے۔ یہاں آپ کو جنگل اور اپنے سماج میں اگر کہیں مشابہت نظر آئے تو اس میں قصور نہ

Read more

بھینسیں بیچنا کیوں ضروری ہے؟

روایت ہے کہ ایک گاؤں میں تین جولاہے رہتے تھے۔ تینوں بھائی تھے۔ ایک دن سب سے بڑے نے کہا کہ میں ایک ددھیل بھینس خریدنے جا رہا ہوں، یہ کہہ کر اس نے روپیوں کی کھنکتی ہوئی پوٹلی اٹھائی اور گجر سے جا کر ایک بھینس خرید لایا۔ منجھلا بھائی بھینس کو دیکھ کر بہت امپریس ہوا۔ اس نے بھینس کی موٹی موٹی آنکھیں دیکھیں تو ان میں کھو گیا۔ سینگوں پر ہاتھ پھیر پھیر کر ان کی مضبوطی

Read more