سورج گرہن ۔۔۔ کچھ ضروری معلومات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سورج گرہن لگنے کی وجہ کیا ہے؟

سورج، زمین اور چاند اس طرح گردش میں ہیں کہ سورج کے گرد زمین چکر لگا رہی ہے اور زمین کے گرد چاند چکر لگا رہا ہے۔ ہوتا کچھ یوں ہے کہ چکر لگاتے لگاتے سورج اور زمین کے درمیان چاند آ جاتا ہے جس کی وجہ سے سورج کو گرہن لگ جاتا ہے۔ چاند زمین پر آنے والی سورج کی روشنی کو روک لیتا ہے جس کے باعث زمین پر اندھیرا چھا جاتا ہے۔ اسے ہی سورج گرہن کہتے ہیں۔

آپ نے دیکھا ہو گا جب سورج گرہن لگا تو سورج مکمل یا آدھا غائب ہو گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اندھیرا بھی چھا گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ سورج اور زمین کے اس حصے کے درمیان چاند آ گیا تھا جس پر آپ رہتے ہیں۔ یوں چاند نے سورج کو ڈھانپ لیا تھا۔ اس لیے سورج مکمل یا آدھا دکھائی نہیں دیا۔ چونکہ چاند نے سورج کو ڈھانپ لیا تھا ؛ اس لیے سورج کی روشنی زمین پر نہ پہنچ پائی اور اندھیرا چھا گیا۔

سورج گرہن کی اقسام :۔
سورج گرہن کی چار اقسام ہیں :
1۔ Total solar eclipse (مکمل سورج گرہن)

مکمل سورج گرہن کے دوران چاند سورج کو مکمل ڈھانپ لیتا ہے اور سورج بالکل دکھائی نہیں دیتا ؛ جس کے باعث زمین پر مکمل اندھیرا چھا جاتا ہے۔ ایسا تب ہوتا ہے جب چاند زمین کے کافی قریب آ جائے۔ (تصویر نمبر 3 دیکھیں )

2۔ Hybrid solar eclipse (مخلوط سورج گرہن )
یہ سورج گرہن کم کم لگتا ہے۔ موجودہ صدی میں صرف چار مرتبہ مخلوط سورج گرہن لگے گا۔
3۔ Partial solar eclipse (جزوی/ ادھورا سورج گرہن)

سورج گرہن پوری زمین پر نہیں لگتا بلکہ زمین کے اس خاص حصے پر لگتا ہے جس کے سامنے چاند آ کر سورج کو ڈھانپ لے۔

کسی بھی قسم کا سورج گرہن لگے تو اس دوران جو زمینی علاقے گرہن کی لکیر (line of eclipse) سے باہر ہوتے ہیں، وہاں ادھورا سورج گرہن دکھائی دیتا ہے۔ یعنی سورج کا کچھ حصہ چھپا ہوتا ہے جبکہ باقی نظر آ رہا ہوتا ہے۔ (تصویر نمبر 1 اور 4 دیکھیں ) تصویر نمبر 1 میں penumbra کا علاقہ چونکہ گرہن کی لکیر سے باہر ہے، لہذا وہاں ادھورا سورج گرہن دکھائی دے گا۔

4۔ Annular solar eclipse (انگوٹھی نما سورج گرہن)

انگوٹھی نما سورج گرہن کے دوران چاند سورج کو اچھا خاصا ڈھانپ تو لیتا ہے لیکن چاند کے ارد گرد ایک انگوٹھی نما شکل بن جاتی ہے جسے رنگ آف فائر کہتے ہیں۔ یہ انگوٹھی نما شکل در اصل سورج کا وہ حصہ ہے جسے چاند نہیں ڈھانپ پایا۔ (

21 جون 2020 کا سورج گرہن :۔

پچھلے ماہ یعنی اکیس جون کو جو سورج گرہن لگا وہ انگوٹھی نما سورج گرہن تھا۔ لیکن پاکستان میں کوئی انگوٹھی نما شکل یا رنگ آف فائر نظر نہیں آیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان گرہن کی لکیر سے باہر تھا۔ اور جو علاقے گرہن کی لکیر سے باہر ہوتے ہیں، وہاں کے لوگ ادھورے سورج گرہن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس لیے ہمیں رنگ آف فائر کی بجائے سورج کا کچھ حصہ نظر آیا جبکہ باقی حصہ چھپا ہوا تھا۔

کیا سورج گرہن دیکھنا نقصان دہ ہے؟

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ عام دنوں کے سورج کی نسبت گرہن والا سورج دیکھنا آنکھوں کے لیے زیادہ نقصان دہ ہوتا ہے۔ ایسا جملہ بولنے والے حضرات دراصل سورج گرہن کے فلکیاتی عمل سے مکمل لا علم ہوتے ہیں اور محض تکا آزمائی کرتے ہیں۔ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ سورج گرہن کو مسلسل دیکھنا بھی اتنا ہی نقصان دہ ہے جتنا عام دنوں کے سورج کو مسلسل دیکھنا۔ ہماری آنکھیں نہایت حساس اور نازک ہیں۔ سورج کو مسلسل اور براہ راست یعنی کسی حفاظتی تدبیر کے بغیر دیکھنے سے آنکھوں پر منفی اثرات پڑتے ہیں۔ ⁦ سورج کی تیز شعاؤں سے آنکھوں کا retina خراب ہو سکتا ہے یا آنکھوں میں ٹیومر بن سکتا ہے۔ علاوہ ازیں نظر کمزور ہونے کا خطرہ بھی ہے۔

اگرچہ سورج گرہن کے وقت سورج چھپ جاتا ہے، اس کے باوجود اس کی نقصان دہ الٹرا وائلٹ شعائیں زمین پر آتی رہتی ہیں۔ اس لیے سورج گرہن دیکھتے وقت اس مقصد کے لیے بنائی گئی مخصوص عینکوں کا استعمال کریں جنھیں solar eclipse glasses کہتے ہیں۔ دوبارہ عرض ہے کہ گرہن کے دوران سورج کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ سورج گرہن محض اس لیے لگتا ہے کہ سورج اور زمین کے درمیان چاند آ جاتا ہے۔ اس عمل کے دوران کوئی نئی قسم کی شعائیں خارج نہیں ہوتیں۔ بلکہ جو شعائیں عام دنوں میں زمین پر آتی ہیں، وہی گرہن کے موقع پر بھی آتی ہیں۔ عام دنوں کے سورج کو مسلسل اور براہ راست دیکھنا اتنا ہی نقصان دہ ہے جتنا گرہن والے سورج کو دیکھنا۔

ناسا کے سائنسدان Fred Espenak نے موجودہ صدی کے تمام سورج گرہنوں کی قبل از وقت درست پیش گوئی کر دی ہے۔ اکیسویں صدی میں 224 دفعہ سورج گرہن لگے گا۔ ان سب گرہنوں کے درست اوقات اور مقامات بھی ریاضی اور علم فلکیات کی مدد سے قبل از وقت بتا دیے گئے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply