بادشاہ شطرنج کے کھیل میں پھنس گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برصغیر میں ساڑھے تین ہزار سال قبل گپتا خاندان کی بادشاہت قائم تھی اور اس دور کا گپتا بادشاہ روایتی کھیلوں سے بیزار ہوچکا تھا۔ بادشاہ کی جانب سے منادی کرائی گئی کہ جو کوئی بھی بادشاہ کے لئے نیا، دلچسپ اور مزیدار کھیل بنائے گا اسے بیش بہا انعام دیا جائے گا۔ بادشاہ کے اعلان پر سیسا نامی ایک شخص جو ریاضی میں مہارت رکھتا تھا، نے کئی ہفتوں کی محنت کے بعد ایک کھیل ”شطرنج“ ایجاد کیا۔ یہ کھیل چونکہ بادشاہ کے کھیلنے کے لئے تیار کیا گیا تھا اس لئے سیسا نے کھیل میں بادشاہ، ملکہ، وزیراور پیادہ جیسے کردارشطرنج میں شامل کیے ۔

سیسا شطرنج کا کھیل لے کر بادشاہ کے پاس حاضر ہوا تو بادشاہ دلچسپ کھیل سے بہت خوش ہوا اور خوشی کے عالم میں سیسا سے پوچھا ”مانگو کیا مانگتے ہو؟“ سیسا نے چند لمحے سوچا اور بادشاہ سے کہا کہ ”حضور چاول کے چند دانے“ بادشاہ نے پوچھا ”کیا مطلب؟“ سیسا بولا ”آپ شطرنج کے 64 خانے میری ترتیب کے مطابق چاول سے بھر دیں، یہی میرا انعام ہوگا“ بادشاہ نے پوچھا ”کیا ہے یہ ترتیب“ ۔ سیسا بولا ”بادشاہ سلامت پہلے دن پہلے خانے میں چاول کا ایک دانہ رکھ کر مجھے دے دیا جائے، دوسرے دن دوسرے خانے میں پہلے خانے کے مقابلے میں دگنے چاول یعنی چاول کے دو دانے رکھ دیجئے، تیسرے دن تیسرے خانے میں دوسرے خانے کے مقابلے میں پھر دگنے چاول یعنی چار دانے رکھ دیں اور اسی طرح آپ ہر خانے میں چاولوں کی مقدار کودگنی کراتے چلے جائیں یہاں تک کہ چونسٹھ خانے پورے ہو جائیں“ ۔ بادشاہ نے قہقہ لگایا اور سیسا کی شرط کو بے وقوفانہ تصور کرتے ہوئے اسے مان لیا۔

چنانچہ بادشاہ نے پہلے دن شطرنج کے پہلے خانے میں چاول کا ایک دانہ رکھا اور اسے اٹھا کر سیسا کو دے دیا، دوسرے دن دوسرے خانے میں چاول کے دو دانے رکھ دیے گئے، تیسرے دن تیسرے خانے میں چاولوں کی تعداد چار ہو گئی، چوتھے روز آٹھ چاول ہو گئے، پانچویں دن ان کی تعداد 16 ہو گئی، چھٹے دن یہ 32 ہو گئے، ساتویں دن یہ 64 ہو گئے، آٹھویں دن یعنی شطرنج کے بورڈ کی پہلی رو کے آخری خانے میں 128 چاول ہو گئے، نویں دن ان کی تعداد 256 ہو گئی، دسویں دن یہ 512 ہو گئے، گیارہوں دن ان کی تعداد 1024 ہو گئی، بارہویں دن یہ 2048 ہو گئے، تیرہویں دن ان کی تعداد 4096، چودہویں دن یہ 8192 ہو گئے، پندرہویں دن یہ 16384 ہو گئے۔ سولہویں دن یہ 32768 ہو گئے اور یہاں پہنچ کر شطرنج کی دو قطاریں مکمل ہو گئیں۔ بادشاہ اور اس کے سارے وزیر وں، مشیروں کا پورا دن چاول گننے میں گزر جاتا۔ بادشاہ کو اندازہ ہونے لگا کہ وہ کسی بڑی مشکل میں پھنس چکا ہے۔

شطرنج کی تیسری قطار کے آخری خانے تک پہنچ کر چاولوں کی تعداد 80 لاکھ تک پہنچ گئی اور بادشاہ کو چاولوں کو میدان تک لانے اور سیسا کو یہ چاول ا۔ ٹھانے کے لئے درجنوں لوگوں کی ضرورت پڑ گئی۔ جب شطرنج کی چوتھی رو یعنی 33 واں خانہ شروع ہوا توپورے ملک سے چاول ختم ہو گئے۔ بادشاہ حیران پریشان ہو گیاکہ ابھی تو شطرنج کے خانے پورے بھی نہیں ہوئے اور چاول ختم ہوگئے۔ بادشاہ نے اسی وقت ریاضی دان بلائے اور ان سے پوچھا ”کہ شطرنج کے 64 خانوں کو بھرنے کے لئے مزیدکتنے چاول درکار ہوں گے ور ان کے لئے کتنے دن چاہئیں؟“ ریاضی دان کئی دنوں تک حساب کرتے رہے لیکن وہ وقت اور چاولوں کی تعداد کا اندازہ نہ لگا سکے جس پر بادشاہ شدیدغصے کی کیفیت میں آ گیا اورسیساکا سرقلم کروا دیا۔

شطرنج کے 64 خانوں کو چاولوں سے بھرنے کا اندازہ تب سے معمہ بنا رہا جسے ساڑھے تین ہزار سال بعد بل گیٹس نے حساب لگا کر بتایا کہ اگر ہم ایک کے ساتھ انیس 19 زیرو لگائیں تو شطرنج کے 64 خانوں میں اتنے چاول آئیں گے، ایک بوری میں ایک ارب چاول بھریں تو ہمیں چاول پورے کرنے کے لئے 18 ارب بوریاں درکار ہوں گی، ان چاولوں کو گننے، شطرنج پر رکھنے اور اٹھانے کے لئے ڈیڑھ ارب سال چاہئیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تمام حساب عام کلکولیٹر کی بجائے صرف کمپیو۔ ٹر کے ذریعے ہی کلکولیٹ کیا جا سکتا ہے۔

تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ شطرنج کا آغاز چھٹی صدی قبل مسیح میں بھارت میں ہوا۔ بھارت سے یہ کھیل ایران پہنچا اور جب مسلمانوں نے ایران فتح کیا ہوا بعد ازاں مغربی ممالک کا رخ کیا تو یہ کھیل جنوبی یورپ تک پہنچ گیا۔ یورپ میں اس کی جدید شکل 18 ویں صدی میں سامنے آئی۔ اقوام متحدہ کی ثقافتی تنظیم یونیسکو کے فیصلے کے مطابق 1966 ء سے 20 جولائی کو شطرنج کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 12 دسمبر 2019 کو متفقہ طور پر اس دن کو تسلیم کرنے کی قرارداد کی منظوری دی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply