ہوٹلز، شادی ہالز اور شادی بیاہ کے کپڑے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اللہ کتنے دن ہو ئے ہو ئے ساڑھی نہیں پہنی، نہ لہنگا، نہ میکسی، نہ کوئی گوٹے کناری کا جوڑا، نہ سلمے ستارے کاسوٹ۔ اب چلا پتا؟ صرف باغوں میں پھول، گلشن میں رنگ ہی نہیں، یہ دولت کی ریل پیل، یہ کارو بار بھی میرے دم سے ہے۔

شادی ہالز کا بند ہو نا، ہو ٹلز کا بند ہو نا اور ان سے منسلک ایک بہت بڑا کاروبار ہے۔ جو بند پڑا ہے۔ جس میں بہت سے افراد تو ایسے ہیں، جو یو میہ اجرت پہ شادی کے ایونٹ پہ کام کر کے گھر بار چلاتے ہیں، کچھ کا گزر بسر شادی کے بچے کھچے کھانوں سے ہوتا ہے، فینسی کپڑے کا کارو بار بند پڑا ہے۔ جو ہم خود بھی بناتے ہیں اور امپورٹ بھی کرتے ہیں۔

یہ سب سٹاک گوداموں میں پڑا ضائع ہو رہا ہے۔ کیو نکہ اس سٹاک کا تعلق فیشن سے ہو تا ہے۔ جو آج بد لا، کل دوسرا دن، اس کو کوئی نہیں پو چھتا۔ بیوٹی سیلونز، فوٹو گرافی یہ بھی اسی سے منسلک کارو بار ہیں۔ جو بہت سے گھروں کا کفیل تھے۔

پہلے عمومی شادیاں سادگی سے ہوا کرتی تھیں۔ مگر آہستہ آہستہ ان شعبو ں نے اپنی جگہ بنائی، فیشن، شو بازی سے ہو تے ہوئے، اس نے ایک کاروبار کی صورت اختیار کر لی۔ لیکن شادی ہالز کی وجہ سے گھر والوں پہ بوجھ کم ہو گیا تو یہ رواج وقت کے ساتھ سہولت بھی بن گیا اورکاروبار بھی۔ لوگوں نے اپنے سینماہالز، کو ٹھیاں اورپلاٹس پہ خوب انویسٹمنٹ کی اور اس کاروبار کے ساتھ کئی ضمنی کاروبار بھی جڑ گئے۔ یو ں وقت بدلتا چلا گیا اور نئے نئے ٹرینڈ شادیو ں کو سجانے اور مہمانوں کا دل بہلانے کا سامان کر نے لگے۔

خواتین میں ایک سے بڑھ کر ایک لباس زیب تن کر نے کی دوڑ لگ گئی۔ نئے سے نیا فیشن جلد اپنی جگہ بنانے لگا۔ اب دلہن ہی نہیں شادی میں شریک ہو نے والی خواتین بھی بیوٹی سیلونز سے تیا ر ہو کر شادیو ں پہ آ نے لگیں۔ بھلے سب کا میک اپ ان کو ایک جیسی صورت اور بالو ں والا بنا کر ان کی اپنی پہچان کھو دے۔ ان کو اس سے فرق نہیں پڑتا۔

اور پھر فوٹو گرافر کا کام اس ایونٹ کی ہر ہر یاد میں جان ڈال دینا ہو تا تھا۔ دولہا دلہن کا تو الگ سیشن اور اس سیشن کی قیمت بھی الگ سے طے ہو نے لگی۔

اسی طرح کھانے کی باری آئی تو ون ڈش کو بھی ہم نے ون، ون، ون کرتے دس کر دیا۔ نت نئے کھانے بنوانے کی بھی ایک دوڑ سے شیف بھی مقبولیت حاصل کر نے لگے۔ اور شادیو ں کے بعد شیف اور شادی کا کھانا بھی اہم موضوع بن گیا۔ یوں ایک شادی سے کئی کاروبار منسلک ہو گئے۔

اور اس کے بعد اچانک ”کرونا، نے پو ری معیشت کو ہلا کر رکھ دیا۔ ہم ترقی پذیر ملک ہیں۔ ہمارے مسائل ترقی یافتہ ممالک سے الگ ہیں۔ اگر ان کی معیشت ہلی ہے توہماری پہ تو سونامی آیا ہے۔ لیکن دھیرے دھیرے مجبوری کے تحت ہمیں اپنی معیشت کو رواں کر نے کے لئے کاروبار کھولنا پڑا۔ مگر یہ جروی کارروائی عمل میں آئی۔ جمع پونجی اتنے مہینو ں میں ساتھ چھوڑجاتی ہے۔

لہذا اب ان سب کاروبار سے منسلک افراد بھی سراپا احتجاج ہیں کہ ہمارے کاروبار کو بھی ہمارا روز گار، ہمارا کفیل سمجھا جائے۔ حکومت ہمارے ساتھ بھی ایس او پیز پہ تبادلہ خیال کرے اور اس کاروبار کو بھی نئی تجاویز کے ساتھ بحال کیا جائے تاکہ اس سے منسلک افراد کے گھر وں کا نظام بھی رواں ہو سکے۔ لیکن تاحال اس بات پہ سنجیدہ نہیں لیا جا رہا۔ تا حال یہی سمجھا اور سوچا جا رہا ہے کہ ہم سادگی سے شادی کو پر موٹ کر رہے ہیں۔ یہ سادگی نہیں مجبوری ہے۔ جونہی شادی ہالز کھلے۔ دیکھئے گا، سارا سادگی کا فلسفہ ساون کے سیلابی ریلے میں بہہ جائے گا۔

کیونکہ اب اس کاروبار کا تعلق سادگی سے نہیں، مجبوری سے ہے۔ عمومی لوگ گھروں میں اے سی، اور ہیٹر ضرورت کے مطابق مہیا نہیں کیے جا سکتے۔ جتنے افراد ہو نگے، اس کے مطابق ملازمین کا ملنا دشوار ہو جاتا ہے۔ کھانا پکانے کے الگ مسائل ہیں۔

بہرحال وقت کے ساتھ یہ سب کاروبار، اب کاروباری دنیا کا ایک اہم حصہ ہیں۔ اس لئے حکومت کو چوروں اور مڑوڑوں کے ساتھ ساتھ اس طرف توجہ دینا پڑے گی۔ ورنہ بھوک کی ایک اپنی زبان اور الگ قانون ہو تا ہے۔ جو کسی قانون اور زبان کی پاس داری نہیں کر تا۔ اور اب تو ہمیں ماننا ہی پڑے گا ”وجود زن سے ہے کاروبار میں رنگ۔ ۔ ۔ ،

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *