چائلڈ ابیوز: وجوہات اور ہماری ذمہ داری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خیر پور میں چائلڈ ابیوز اور پورنوگرافی کا کیس سامنے آیا ہے جس میں ایک ریٹائرڈ سکول ٹیچر اپنے ٹیوشن سنٹر میں یہ کام کرتے رہے لیکن کسی بچے کو جرات نہیں ہوئی کہ وہ اس بارے میں گھر میں بتا سکے۔ جس کی وجہ سے اس گھٹیا آدمی کو اتنی جرات ملی کہ یہ بے دھڑک یہ قبیح کام کرتا رہا۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے نہ ہے پہ اٹھنے والا شور اور سوشل میڈیا کمپین نئی بات ہے۔ ایسے واقعات تواتر سے ہوتے ہیں اور کوئی ایک آدھ واقعہ ہی ہائی لائٹ ہو پاتا ہے۔ اور پھر کچھ ہی وقت کے بعد سب بھول جاتے ہیں اور ایک نئی نسل یہی کچھ بھگتنے کے لیے ان ہوس کے ماروں کے آگے ڈال دیتے ہیں۔

اس کی وجوہات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے اور ہم اس بارے میں شعور پیدا کرنے میں کیوں ناکام ہیں۔

بچوں کو بڑوں اور ٹیچرز، مولویوں کا احترام سکھانا یہ کہنا کہ ان کی بات ماننا ہے۔ جواب نہیں دینا انہیں لاشعوری طور پہ یہ سکھا دیتا ہے کہ بڑے ہمیشہ ٹھیک ہیں۔ بچے ویسے ہی معصوم ہوتے ہیں اور پھر یہ تربیت انہیں ایسے لوگوں کے چنگل میں آسانی سے پھنسا دیتی ہے۔ اس کا فائدہ ایسے لوگ کھل کے اٹھاتے ہیں۔

اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ بچوں کو رشتہ دار یا والدین کے دوست گود میں اٹھا لیتے ہیں۔ بوسہ دیتے ہیں یا ان کے جسم پہ ہاتھ پھیرتے ہیں ایسی ہلکی پھلکی حرکت وہ والدین یا قریبی رشتہ داروں کے سامنے مکمل اعتماد سے کرتے ہیں۔ بچہ شعور نہیں رکھتا کہ یہ کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے وہ یہی سمجھ لیتا ہے کہ اگر بعد میں وہی شخص ان کے ساتھ لمٹ کراس کر رہا ہے تو وہ اپنے والدین کو بھی نہیں بتا سکتا۔ کیونکہ وہ ان کے سامنے اس کے ساتھ ہلکی پھلکی حرکت کر چکا ہوتا ہے۔

والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات سے بلا جھجک منع کر دیں چاہے رشتہ کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو ان کو اتنا شعور ہونا چاہیے کہ ایسا کرنے والا کس ارادے سے ایسا کر رہا ہے۔ پھر بچوں کو بھی خودبخود اندازہ ہوجاتا ہے کہ لمٹ کیا ہیں۔

تیسری بات کسی پہ اندھا دھند اعتماد ہے۔ جن میں قریبی رشتے، ملازمین اور اساتذہ شامل ہوتے ہیں۔ یہ یکسر غلط بات ہے آپ کس کے لیے اعتماد کر رہے ہیں۔ اپنے بچے کے لیے جبکہ ویسا اعتماد تو آپ اپنے گھر کے لیے بھی کسی پہ نہیں کرتے نہ پیسے کے لیے کرتے ہیں کہ سب ان کے حوالے کر کے بے فکر ہو جائیں۔ تو بچے کے حوالے میں ایسی لاپرواہی کیوں کی جاتی ہے، بچہ آپ کی ذمہ داری ہے آپ اسے دنیا میں لائیں ہیں تو اس کی ذمہ داری بھی نبھائیے۔

وقت کے ساتھ بچوں میں ہارمونل تبدیلیاں آتی ہیں ان کے محسوس کرنے کا انداز بدلتا ہے، لیکن اس بات سے اکثر والدین لاعلم ہوتے ہیں۔ بچے میں بیڈ ٹچ کا احساس شعور سنبھالتے ہی پیدا ہو جاتا ہے لیکن وہ اس بات کو نہ تو سمجھ سکتا ہے نہ ہی بتا سکتا ہے۔ والدین کو یہ بات سمجھنا چاہیے کہ انہیں تربیت دیں کہ اگر کسی کا چھونا انہیں برا لگتا ہے تو بچے انہیں بلا جھجک بتا سکیں۔ ہم بچوں سے فرینڈلی رہتے ہیں ان کی ہر بات سنتے ہیں صرف ایک اسی بات کو لے کر ہم پہ شرم و حیا کیوں طاری ہو جاتی ہے۔ اس کا شعور اور تربیت کرتے ہوئے ہمیں کیوں جھجک محسوس ہوتی ہے۔ جب کہ یہ ایک بنیادی تربیت کی بات ہے بالکل ویسے جیسے آپ بچے کو سچ بولنے کی تربیت دیتے ہیں۔

احترام کا تصور کہ بولنا نہیں ہے جواب نہیں دینا، بات ماننا ہے انتہا غلط ہے۔ جو ہمارے ہاں رائج ہے۔ احترام کا تعلق ان باتوں سے نہیں ہے۔ یہ انسانیت کا احترام ہے کہ آپ دوسروں کا خیال رکھیں انہیں سپیس دیں، مہربان رہیں، صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہیں۔ اگر یہ بات بچوں کو سکھائی جائے تو ایسے واقعات کم ہو سکتے ہیں وہ سمجھ سکتے ہیں کہ انہیں اپنے لیے کہاں بولنا ہے اور کیسے اپنی حفاظت کرنا ہے۔

ہمارا ایک اجتماعی رویہ جو ہم کسی غلط بات کے حوالے سے اختیار کرتے ہیں قابل مذمت ہے۔ ہم غلط بات اور مجرم کی مذمت کرنے کی بجائے اس کا موازنہ شروع کر دیتے ہیں اسے جسٹیفائی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مدرسے میں ہو تو مثال لاتے ہیں کہ فلاں سکول یا یونیورسٹی میں بھی ہوا تھا سکول یا یونیورسٹی میں ہو تو مدرسوں کی مثال دیتے ہیں کہ وہاں بھی ہوا۔ مطلب ہم جرم کو جرم سمجھتے ہی نہیں بلکہ اپنے ہم خیال لوگوں کی بے جا طرف داری کرنے کے لیے ہر حد سے گزر جاتے ہیں۔

یہ ذہنی بیمار معاشرے کی علامت ہے کہ ہم جانتے ہی نہیں کی جرم کیا ہے اور اس سے کیسے نبٹا جائے۔ اسی لیے ہم مجرم کو حوصلہ دیتے ہیں کہ وہ جرم کرے اس کے اس عمل سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں ہم اسے تحفظ دے سکتے ہیں۔

ہم لوگوں کو اپنے فرائض کا احساس ہونا چاہیے بچے کو اون کرنا آنا چاہی، بچے کی تربیت میں اچھے برے، حقوق و فرائض کی تربیت اہم ہے اور ساتھ ہی بطور سماج ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ جرم کرنے والا خواہ کوئی بھی ہو جب تک وہ اس کے نتائج نہ بھگت لے ہم محفوظ نہیں رہ سکتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply