ڈیجیٹل آمریت: اکیسویں صدی کے اکیس سبق (قسط نمبر 14)۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ کبھی بھی بہت زیادہ محتاط نہیں رہ سکتے ہیں۔ آج کل فلسطینی مغربی کنارے پر جس صورتحال سے دوچار ہیں، اس حقیقت کا ادنیٰ سا منظرنامہ ہے جس کا سامنا آخر کار سارے کرہ ارض میں اربوں افراد کو کرنا ہوگا۔

بیسیوں صدی میں آخر کار جمہوریتوں نے آمریتوں کی نسبت بہتر پرفارم کیا، کیونکہ جمہوری نظام ڈیٹا پراسیسنگ میں بہتر تھا۔ جمہوریت معلومات کی پراسیسنگ اور فیصلہ سازی کے لیے طاقت کو بہت سارے لوگوں اور اداروں کے مابین بانٹ دیتی ہے، جبکہ آمریت ایک جگہ پر معلومات اور طاقت کو مرتکز کرتی ہے۔ بیسویں صدی میں ٹیکنالوجی کی موجودگی میں ایک جگہ پر زیادہ سے زیادہ معلومات کا مرتکز ہونا ناممکن ہے۔ کسی بھی فرد واحد میں اتنی صلاحیت نہیں ہے کہ وہ ان تمام معلومات کو تیز رفتار انداز میں پراسیسنگ کر کے درست فیصلے کرے۔ یہی وجہ ہے کہ سوویت یونین امریکہ کی نسبت بہت خراب فیصلہ کرتا ہے اور سوویت کی معیشت امریکی معیشت سے بہت پیچھے رہ گئی ہے۔

تاہم مصنوعی ذہانت صورت حال کا منظرنامہ یکسر الٹ سکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے معلومات کا ذخیرہ بہت تھوڑے وقت میں ایک ہی جگہ جمع کیا جاسکے گا۔ بلاشبہ مصنوعی ذہانت اب نظاموں کو مرکزیت عطا کرے گا۔ ایسا سب اس لیے ممکن ہے کہ کیونکہ ’مشین لرننگ‘ معلومات کا بہتر انداز میں تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگر آپ ایک ڈیٹا بیس میں ایک ارب افراد سے متعلق معلومات پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہیں (رازداری کے تمام تر خدشات کو ایک طرف رکھتے ہوئے ) تو آپ الگورتھم کو بہتر طور پر تربیت دے سکتے ہیں۔

یہ سب اس عمل سے کافی بہتر ہوگا اگر آپ انفرادی رازداری کا احترام کرتے ہیں اور اپنے ڈیٹا بیس میں محض ایک ملین لوگوں کی جزوی معلومات رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ایک آمرانہ حکومت اپنے تمام شہریوں کو اپنا ڈی این اے ٹیسٹ کروانے اور تمام تر طبی ڈیٹا مرکزی اتھارٹی کے ساتھ شیئر کرنے کا حکم دیتی ہے تو اس کی بدولت ان معاشروں کی نسبت جینیات اور طبی تحقیق کے میدان میں بے حد بہتری آئے گی جن معاشروں میں طبی ڈیٹا کی شیئرنگ پر سخت پابندی ہے۔ بیسویں صدی میں آمرانہ حکومتوں کی سب سے اہم رکاوٹ (تمام معلومات کو ایک ہی جگہ اکٹھا کرنے کی کوشش) اکیسویں صدی میں ان کے لیے فیصلہ کن حد تک فائدہ مند بن سکتی ہے۔

چونکہ الگورتھم ہمیں اچھے سے جانتے ہیں اس لیے آمرانہ حکومتیں اپنے شہریوں پر نازی جرمنی سے بڑھ کر مکمل کنٹرول حاصل کر سکتی ہیں۔ اس طرح کی حکومتوں کے خلاف مزاحمت کرنا ناممکن ہو سکتا ہے۔ کیونکہ حکومت کے علم میں نہ صرف یہ حقیقت ہوگی کہ آپ کیا محسوس کرتے ہیں بلکہ وہ اپنی مرضی کے مطابق آپ کے احساسات کو ترتیب بھی دے سکتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ڈکٹیٹر شہریوں کو صحت کی دیکھ بھال یا مساوات فراہم نہ کرسکے۔ لیکن وہ آپ کو خود اس کی ذات سے محبت اور دوسروں سے نفرت کرنے پر اکسا سکتا ہے۔ جمہوریت اپنی موجودہ شکل میں بائیو ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انضمام سے نہیں بچ سکتی ہے۔ لہذا جمہوریت کامیابی کے ساتھ ایک بالکل نئی شکل میں اپنے آپ کو ترقی دے گی یا انسان ڈیجیٹل آمریت میں زندگی گزاریں گے۔

یہ ہٹلر اور اسٹالن کے دور میں واپسی جیسا نہیں ہوگا۔ ڈیجیٹل آمریت نازی جرمنی سے اس قدر مختلف ہوگی جیسا کہ نازی جرمنی قدیم دور کے فرانس سے مختلف تھا۔ شاہ لوئی بنیادی طور پر ایک مرکزی آمر تھا مگر اس کے پاس جدید تسلط پسندانہ ریاست کی تشکیل کے لیے ٹیکنالوجی نہیں تھی۔ انہیں اپنی حکمرانی کے خلاف کسی مخالفت کا سامنا نہیں کرنا پڑا، پھر بھی ریڈیو، ٹیلی فون اور ٹرینوں کی عدم موجودگی میں برطانیہ کے دور دراز کے دیہات میں، حتی کہ پیرس کے مرکز میں واقع بستیوں میں بھی کسانوں کی روزمرہ زندگیوں پر ان کا بہت کم کنٹرول تھا۔ اس کے پاس نہ تو ایک بڑی پارٹی تشکیل دینے، ملک گیر یوتھ موومنٹ اور قومی تعلیمی نظام قائم کرنے کی صلاحیت تھی اور نہ ہی وژن تھا۔

یہ بیسویں صدی کی نئی ٹیکنالوجی ہی تھی جس نے ہٹلر کو اس طرز کا کام کرنے کی ترغیب اور طاقت عطا کی۔ ہم پیشن گوئی نہیں کر سکتے ہیں کہ 2048 کی ڈیجیٹل آمریت کے محرکات اور طاقت کس طرز کی ہوگی؟ لیکن اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ ہٹلر یا اسٹالن کی نقل نہیں ہوگی۔

یہاں تک کہ اگر جمہوریت اس نظام کو اپنانے اور زندہ رہنے کا انتظام کرتی ہے تو لوگ اس نئے قسم کے جبر اور امتیازی سلوک کا شکار ہوسکتے ہیں۔ آج پہلے ہی زیادہ سے زیادہ بینک، کارپوریشنز اور ادارے اعداد و شمار کا تجزیہ کرنے اور ہمارے بارے میں فیصلے کرنے کے لیے الگورتھم کا استعمال کرتے ہیں۔ جب آپ قرض کے حصول کے لیے بینک کو درخواست دیتے ہیں تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ آپ کی درخواست کسی انسان کی بجائے الگورتھم کے ذریعے پراسس سے گزرے۔

آج الگورتھم آپ کے بارے میں موجود اعداد و شمار اور لاکھوں دوسرے افراد کے اعداد و شمار کا تجزیہ کرتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ آیا آپ قرض دیے جانے کے لیے قابل اعتماد ہیں یا نہیں۔ اکثر الگورتھم انسانی بینکر سے بہتر کام کرتے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اگر الگورتھم کچھ لوگوں کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کرتا ہے تو اس کے بارے میں پتہ چلانا مشکل ہے۔ اگر بینک آپ کو قرض دینے سے انکار کرتا ہے اور آپ اس انکار کی وجہ جاننے کے لیے سوال کرتے ہیں کہ ایسا کیوں کیا جا رہا ہے تو بینک جواب دیتا ہے کہ الگورتھم نے آپ کو قرض دینے سے انکار کر دیا ہے۔

اس ردعمل کے جواب میں آپ سوال کرتے ہیں کہ الگورتھم نے انکار کیوں کیا ہے؟ میرے اعداد و شمار میں کیا خرابی ہے؟ تو بینک جواب دیتا ہے کہ اس بابت ہمیں کچھ معلوم نہیں ہے کیونکہ انسان اس الگورتھم کو نہیں سمجھتا ہے۔ یہ جدید مشین لرننگ نظام پر مشتمل ہے۔ لیکن ہمیں اپنے الگورتھم پر اعتبار ہے، اس لیے ہم آپ کو قرضہ نہیں دے سکتے ہیں۔

جب اس طرز کا امتیازی سلوک تمام گروہوں جیسے خواتین یا سیاہ فام افراد کے خلاف ہو تو یہ گروہ اجتماعی امتیاز کے خلاف اکٹھے ہو کر احتجاج کر سکتے ہیں۔ لیکن اب الگورتھم آپ کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے تو آپ کو پتہ بھی نہیں چلے گا کہ ایسا کیونکر کر رہا ہے۔ عین ممکن ہے کہ الگورتھم کو آپ کے ڈی این اے، ذاتی بائیو ڈیٹا یا فیس بک اکاؤنٹ میں کوئی ایسی چیز ملی ہو جسے وہ پسند نہیں کرتا ہے۔ الگورتھم آپ کے ساتھ امتیازی سلوک اس لیے نہیں کرتا ہے کیونکہ آپ ایک عورت یا افریقی امریکی ہیں، بلکہ اس امر کی وجہ آپ خود ہیں۔

آپ کے بارے میں لازماً کوئی خاص بات ایسی ہے جو الگورتھم کو پسند نہیں ہے۔ آپ نہیں جانتے کہ یہ کیا ہے اور اگر آپ جانتے بھی ہیں تو آپ باقی لوگوں کو اپنے ساتھ منظم کر کے احتجاج نہیں کر سکتے ہیں، کیونکہ باقی لوگ اسی طرز کے امتیازی سلوک کا شکار نہیں ہو رہے ہوں گے۔ بلکہ یہ اکیلے آپ ہی ہیں۔ یوں اجتماعی امتیاز کی بجائے اکیسویں صدی میں ہمیں انفرادی امتیاز کے بڑھتے ہوئے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اتھارٹی کی اعلیٰ ترین سطح پر ہم شاید انسانی اعداد و شمار کو برقرار رکھیں گے، جو ہمیں یہ وہم فراہم کرے گا کہ الگورتھم صرف مشیر ہے اور حتمی اختیار ابھی بھی انسان کے ہاتھ میں ہے۔ ہم مصنوعی ذہانت کو جرمنی کا چانسلر یا گوگل کا سی ای او متعین نہیں کریں گے۔ تاہم چانسلر اور سی ای او کے ذریعہ لیے گئے فیصلے مصنوعی ذہانت کے زیر اثر ہی ہوں گے۔ چانسلر اب بھی کئی مختلف آپشن میں سے کسی ایک کا انتخاب کر سکتا ہے۔ لیکن یہ تمام تر آپشن بگ ڈیٹا الگورتھم کی مرہون منت ہوں گے اور وہ دنیا کو انسانی نقطہ نظر سے دیکھنے کی بجائے مصنوعی ذہانت کے انداز نظر کے عکاس ہوں گے۔

اس سے ملتی جلتی صورتحال کو بطور مثال سامنے رکھا جا سکتا ہے، آج پوری دنیا کے سیاستدان کئی مختلف معاشی پالیسیوں کے آپشنز میں سے انتخاب کرتے ہیں، جبکہ تمام تر معاملات میں پیش کی جانے والی پالیسیاں معاشیات کے بارے میں سرمایہ درانہ نقطہ نظر کی عکاسی کرتی ہیں۔ سیاست دانوں کو وہم ہوتا ہے کہ انتخاب انہوں نے کیا ہے، حالانکہ حقیقی اہم فیصلے وہ ماہر اقتصادیات، بینکر اور کاروباری افراد کرچکے ہوتے ہیں جنہوں نے مختلف آپشنز پر مبنی مینیو ترتیب دیا ہوتا ہے۔ چند دہائیوں کے اندر سیاستدان خود کو مصنوعی ذہانت کے زیر اثر تیار شدہ مینیو میں انتخاب کرتے ہوئے پائیں گے۔

اس سیریز کے دیگر حصےخودکار فلسفی گاڑی اپنے مالک کو قربان کرے گی یا راہگیر کو؟مصنوعی ذہانت اور قدرتی حماقت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

صفحات: 1 2

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments