عمل کا دسترخوان اور من و سلویٰ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسان ہمہ وقت فطرت، عادت اور ضرورت سے بندھا ہوا ہے۔ ان تین خانوں میں منقسم انسان کی اصل اور مسلسل آزمائش البتہ ”انتخاب“ کے مشکل مرحلے سے جڑی ہے۔ اس طرح انسان اپنے اعمال میں انتخاب کے اختیار کے ذریعے خود مختار ہے لیکن یہ اختیار لامحدود نہیں ہے کیونکہ فطرت، عادت اور ضرورت ہر دم اور مسلسل اس کے انتخاب کے اختیار پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

انتخاب کے اختیار کو سب سے بڑا چیلنج فطرت کی طرف سے درپیش ہوتا ہے۔ مثلاً فطرت نے انسانی قد کو پانچ سے چھ فٹ میں ڈھالا ہے۔ اس کی جسامت اور اعضاء جلد اسے باور کروا دیتے ہیں کہ وہ اپنے ایک ہاتھ سے ایک خاص وزن تک کا پتھر اٹھا سکتا ہے لیکن وہ خواہش کے باوجود اسی ہاتھ سے پہاڑ نہیں اٹھا سکتا۔ وہ دوڑ سکتا ہے لیکن ایک خاص رفتار سے زیادہ نہیں۔

انسانی اختیار کو دوسرا بڑا چیلنج عادات کی صورت میں درپیش ہوتا ہے۔ عادت کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ فطرت ثانیہ ہے یعنی یہ فطرت جتنی طاقت رکھتی ہے۔ عادت وہ اچھا یا برا عمل ہے جسے ہم طویل عرصے تک اور مسلسل کرتے ہیں۔ اچھی اور بری عادات کی بنیاد افراد اور اقوام میں کسی بھی وقت ارادی یا غیر ارادی طور پر پڑ سکتی ہیں تاہم زیادہ تر عادات افراد میں چھوٹی عمر اور اقوام میں ابتدا میں پڑتی ہیں۔ بڑوں میں بری یا ضرر رساں عادات کم ہی جڑ پکڑتی ہیں لیکن بعض اوقات سہل پسندی، مقابلے کے رجحان سے دست برداری یا نا مناسب جسمانی لذت اور ذہنی آرام کے زیادہ مواقعوں سے یہ بڑوں میں بھی جڑ پکڑ سکتی ہیں۔

اردو میں اسے آرام طلبی کی عادت اور انگریزی میں اسے ”کمفرٹ زون“ میں رہنا کہتے ہیں۔ پس جہاں فطرت کی طرف سے لگائی پابندیاں اٹل ہیں جن سے انسان کو جلد یا بدیر ہر حال میں سمجھوتا کرنا پڑتا ہے وہاں انسان کو عادات سے بھی اکثر سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔ عادات کا معاملہ اس لیے پچیدہ ہے کیونکہ عادات ہر صورت میں ”اختیاری“ ہوتی ہیں اور یہ افراد اور اقوام میں مختلف ہوتی ہیں۔ عادات کا یہی فرق افراد اور اقوام کی کامیابی یا ناکامی میں زیادہ اہم ہوتا ہے۔

مثلاً فطرت ہر انسانی جسم کو ساٹھ، ستر سال کی عمر میں ادھیڑ کر رکھ دیتا ہے لیکن نشے کی عادت جو کہ ایک مکمل اختیاری عمل ہے، انسانی جسم اور اعضاء کو وقت سے پہلے برباد کر دیتی ہے۔ کوئی بھی اچھی یا بری عادت عمر بھر کا ساتھی ہوتی ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ہے ”دشمن جاں ہی سہی ساتھ تو اک عمر کا ہے / دل سے اب درد کی رخصت نہیں دیکھی جاتی۔“

فطرت اور عادت کے بعد انسان کو جو چیز کسی مخصوص عمل کے انتخاب کی طرف مائل کرتی ہے وہ اس کی ضروریات ہیں۔ ضرورت بہت جامع لفظ ہے جس میں نہ صرف اچھی زندگی کے تمام لوازمات شامل ہیں بلکہ وہ سب کچھ بھی شامل ہے جس کا اسے سامنا ہو لیکن وہ اس سے بچنا چاہتا ہو۔ مثلاً جب انسان کو کسی آفت، سیلاب یا سمندری طوفان کا سامنا ہوتا ہے تو محفوظ مقام پر منتقل ہونا اس کی ضرورت بن جاتی ہے۔ خطرے کی حالت میں اس نے کہاں منتقل ہونا ہے، اس کا انتخاب اس نے اپنی عقل سے کرنا ہے۔

فطرت کو انسان نے ہر حال میں اپنا دوست بناے رکھنا ہے۔ اس کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے اس محبوب کے ہاتھ چومے اور اسے گلے لگائے رکھے کیونکہ محبوب تو پھر بھی غلط ہو سکتا ہے لیکن فطرت کبھی غلط نہیں ہوتی اور نہ کبھی بے وفائی کرتی ہے۔ عادات جو کہ تمام کی تمام اختیاری ہیں، میں اچھے اور برے کی تمیز روا رکھنی چاہیے کیونکہ بری عادات وقتی سکون تو دیتی ہیں لیکن پاؤں جلا دیتی ہے۔ عادت کے متعلق کسی نے کہا ہے کہ یہ آج چھوڑی جا سکتی ہیں کل نہیں لیکن مجھے تو اس دانشور کی بات زیادہ پسند آئی تھی جس نے کہا تھا کہ آپ مجھے کسی کی عادات بتا دیں میں ابھی اس کی کامیابی یا ناکامی کے متعلق بتا دوں گا۔

کسی مخصوص عمل کے انتخاب میں تیسرا بڑا عنصر انسان کی ضروریات ہیں۔ ضرورت سے نمٹنے کے لئے فطرت نے ہمیں دماغ اور آنکھیں دی ہیں۔ ہاں اگر ہم خود ہی ضرورت اور مجبوری کے نام پر بہکنا چاہیں تو وہ اور بات ہے لیکن عقل اور آنکھیں بہکنے کے لیے نہیں ہیں اور نہ ہی یہ فریب کاری یا برائی کے گماشتے ہیں بلکہ رہنمائی کا بہت بڑا ذریعہ ہیں۔ اس طرح افراد اور اقوام ہر لمحے فطرت، عادت اور ضرورت کا لنگوٹ پہنے میدان عمل میں مصروف کار ہیں اور پھر صبح شام عمل کے دسترخوان پر بیٹھ کر کھاتے ہیں۔ عمل کا یہی دسترخوان اب افراد اور اقوام کی نہ صرف پہچان ہے بلکہ ان کا من و سلویٰ بھی ہے جس سے وہ اپنے حصے کا کھا لیتے ہیں اور جو بچ جاتا ہے وہ مادی اور غیر مادی صورت میں آئندہ نسلوں کو منتقل کر دیتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *