آج پھر بجھ گئے جل جل کے امیدوں کے چراغ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امید کیا ہوتی ہے، کب ہوتی ہے اور کیوں ہوتی ہے؟ امید ایسی خواہش ہوتی ہے جس کو اپنے طور پر پورا کرنا کسی نہ کسی وجہ سے ممکن نہیں ہوتا، جیسے غریب کے لیے گھر خریدنا، امیر کے لیے مہلک مرض سے جان بر ہونا وغیرہ۔ ایسی خواہش جیسے امید نام دیا جاتا ہے اور جو مختلف زبانوں کے محاوروں کے مطابق آخر دم تک رہتی ہے اور مرنے کے بعد ہی مرتی ہے، بے بسی کی انتہا ہونے پر ہوتی ہے۔ اس لیے ہوتی ہے جب معاملے کو نمٹانا ممکن نہ ہو تو معاملہ نمٹانے کی امید کسی زندہ شخص یا ماورا ہستی سے باندھ لی جاتی ہے۔

معروف ڈرامہ نگار برتولت بریخت کے شہرہ آفاق ڈرامہ گلیلیو کے مکالموں کے مطابق ”بدبخت ہے وہ قوم جسے ہیرو کی تلاش ہوتی ہے“ اور ”وہ قوم بدبخت ہوتی ہے جس میں ہیرو نہیں ہوتے“ ۔ ۔ ۔ تبھی جب لوگ چینی، آٹا، بجلی مہنگی سے مہنگی تر ہو جانے اور دفاتر میں لوگوں کے کام نہ ہونے کے باوجود بھی یہ کہتے ہیں کہ ”عمران خان ملک کی آخری امید ہے“ تو کسی بھی سمجھدار شخص کا سر پیٹ لینے کو جی چاہتا ہے۔

یعنی اس کا مطلب کیا ہے کہ آخری امید ہے؟ کہ اگر یہ حکومت میں نہ رہے تو ملک ٹوٹ جائے گا یا برباد ہو جائے گا۔ بھائی میرے انسان تو ویسے ہی فانی ہے۔ کسی کے حکومت سے تو کیا دنیا سے چلے جانے کے متعلق کوئی یقین نہیں تو پھر کیا کریں؟ یہی امید کہ عمران خان آخری امید ہیں۔

اگر آپ میں سے کسی نے ششی تھارور کی کتاب Inglorious Empire نہیں پڑھی تو پہلی فرصت میں اس کے کم از کم پہلے چار باب پڑھ لے تاکہ آشکار ہو جائے کہ ہمارے ملک کا سیٹ اپ نوآبادکارانہ ہے۔ یہاں کی افسر شاہی کا عوام سے تعلق حکام اور محکومین والا ہے۔ نوآبادکارانہ نظام میں حواریوں کی ایک محدود تعداد کو مراعات یافتہ رکھ کے باقی عوام کو بہرصورت مجبور رکھا جانا پالیسی تھی اور آج بھی ہے۔

انفراسٹرکچر کے فقدان سے لے کر سرخ فیتے کے گرداب تک، قانون کی حکمرانی سے اغماض سے لے کر سیاستدانوں کو بدنام کرنے تک پالیسی کا حصہ رہے اور اب تک ہیں۔ 1878 میں لاگو کردہ Vernacular Press Act اردو اور ملک کی دوسری مقامی زبانوں کے اخبارات اور میڈیا پر آج بھی اسی طرح لاگو ہے اگرچہ انگریزی اخبار اور میڈیا سے اغماض برتا جاتا ہے۔ اسی طرح Sedition Act بھی دوسو سال سے ویسے کا ویسا ہے کہ جس کو جب جس بات پر چاہے ”غدار“ قرار دے ڈالو۔

جب پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان افسر شاہی کے بزرجمہر چوہدری محمد علی کے ساتھ زیارت، محمد علی کی مزاج پرسی کرنے گئے تھے تو قائد اعظم نے اپنی بہن محترمہ فاطمہ جناح سے کہا تھا کہ یہ میری عیادت کرنے نہیں بلکہ یہ دیکھنے آئے تھے کہ میں کب مروں گا۔ افسر شاہی نے جہاں ایک طرف پہلے سیاستدان کو باقی سیاستدانوں کے خلاف اکسایا وہاں کچھ ہی عرصے بعد فوج کو حکمرانی کی لت لگانے کی داغ بیل بھی ڈالی تھی۔ وہ دن اور آج کا دن ہم بس امید پہ جی رہے ہیں۔ ہم نے اپنے طور پر من حیث القوم کیونکہ اس افتراق کے سبب قوم بن ہی نہیں سکی، کچھ کرنا نہیں بس امید پہ جینا ہے جسے عرف عام میں سرخ بتی کے پیچھے لگائے جانا کہا جانے لگا ہے۔

جن ملکوں میں معاشرے بہتر ہیں وہاں کسی فرد سے امید نہیں رکھی گئی تھی بلکہ ایک مضبوط اور مستعد مقننہ بنائی گئی تھی۔ ایسا عشروں میں نہیں بلکہ صدیوں میں ممکن ہو پایا تھا چاہے وہ معاشرہ برطانیہ کا تھا یا امریکہ کا۔ ہمارے ہاں پہلے لیاقت علی خان کو اپنے ساتھی سیاستدانوں کو مطعون کرنے پر لگایا گیا اور اب یہ کام عمران خان سے بخوبی لیا جانے لگا ہے۔

جسے مافیا، مافیا نام دیا جاتا ہے ان کی اکثریت حزب اختلاف کی دو بڑی پارٹی کے چند افراد کو چھوڑ کے یا تو باقاعدہ اس حکومت میں شامل ہیں یا اس حکومت کے حامی ہیں۔ عمران خان کی حکومت کے ایک وزیر شیخ رشید نے کل ہی روزنامہ ”جہان پاکستان“ کو تفصیلی انٹرویو دیتے ہوئے اپنے کورونا کا شکار ہونے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا ہے، ”یہ کیسا ملک ہے جہاں گیارہ ہزار روپے کا ٹیکہ پانچ لاکھ میں بھی نہیں ملتا۔ میرے کرنل دوست اور فوجی ہسپتال کی انتظامیہ نے مل کر میرے لیے آٹھ ٹیکے دستیاب کیے“ ۔ ۔ ۔ شیخ صاحب سے عرض ہے کہ جناب یہ ویسا ملک ہے جو آپ نے ان کے ساتھ مل کر بنایا ہے جنہوں نے ٹیکوں کا بندوبست کر کے آپ کو بچا لیا۔ ہمیں تو اپنے لڑکے کو بچانے کے لیے دو ٹیکوں کی خاطر پورا کراچی چھان کے لاکھ لاکھ روپے کے دو ٹیکے کرائے کی کار میں بہاولپور لانے پڑے تھے۔

ہمیں کسی سے کوۂ امید نہیں رکھنی بلکہ ہمیں اگر کرنا ہے تو خود کرنا ہے کہ عمران خان صاحب کو بھی اپنے پانچ سال پورے کرنے دیں بس یہ نگاہ رکھیں کہ ایوب خان، یحیی خان، ضیاءالحق اور پرویز مشرف کے ادوار میں پٹا ہوا صدارتی نظام نہ آنے پائے اور نہ ہی صوبوں کو دی گئی مراعات کے لیے منظور شدہ اٹھارہویں ترمیم سے کھلواڑ ہو۔ عمران خان نے جو بھاڑ جھونکنا ہے جھونک لیں کیونکہ تھوتھا چنا باجے گھنا ہو سکتا ہے مگر بھاڑ نہیں جھونک سکتا۔

ان کی مدت پوری ہونے کے بعد ایک اور مقننہ منتخب کریں، پانچ سال بعد پھر ایک اور۔ پھر دیکھیے گا کہ جب پانچ مقننہ یکے بعد دیگرے چنی جائیں گی تو ملک میں معاملات بہتر ہونے لگیں گے۔ جلد بازی اور محض امید بڑی قوموں کا شعار نہیں ہوتیں البتہ اگر آپ کو قوم بننا ہی نہیں تو عمران خان کو چاہیں تو ”آخری امید“ سمجھتے رہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *