ایسے تو صرف پاکستان ہی ہارتا ہے


\"sultan-mehmood\"

کسی آؤٹ آف فارم ٹیم کو واپس فارم میں لانا یا کسی گمنام کھلاڑی کو ہیرو بنانا ہمیشہ سے ہی پاکستان ٹیم کا خاص فن رہا ہے، ایسا ہی کچھ کرائسٹ چرچ میں پاکستان نے نیوزی لینڈ ٹیم اور اس کے کھلاڑی کولن ڈی گرینڈ ہوم کے ساتھ کیا۔

نیوزی لینڈ کو جنوبی افریقہ اور پھر بھارت کے ہاتھوں بدترین شکست برداشت کرناپڑی۔ پاکستان کے خلاف ریکارڈ بھی خاص حوصلہ افزا نہیں تھا، گذشتہ اکتیس سالوں سے نیوزی لینڈ پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں جیت کی تلاش میں تھا۔ اس بار بھی توقع تھی کہ پاکستان کے خلاف ناکامی ایک بار پھر کیویز کا مقدر بنے گی، قومی ٹیم یو اے ای میں ویسٹ انڈیز کے خلاف مسلسل تین سیریز جیت کر کیویز کے دیس پہنچی، ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے میں وائٹ واش اور ٹیسٹ سیریز میں کامیابی کے بعد مصباح الیون کے حوصلے آسمان کی بلندیوں کو چھورہے تھے۔ دوہزار چودہ سے پاکستان کوئی ٹیسٹ سیریز نہیں ہارا۔ تمام اعداد و شمار ایک طرف اور رینکنگ میں دوسرا نمبر رکھنے والی ٹیم کی دونمبر پرفارمنس دیکھ کر کہنا پڑے گا ایسے تو صرف پاکستان ہی ہارسکتا ہے۔

پاکستان ٹیم کے انہی کمالات کی وجہ سے اس پر دنیا کی سب سے ناقابل پیش گوئی ٹیم کا لیبل دیا گیا ہے۔ اس ٹیم سے توقع نہ کی جائے تو ٹیم ایسا پرفارم کرتی ہے کہ دنیا حیران رہ جاتی ہے اور جب توقعات وابستہ کرلی جائے تو سوائے شائقین کرکٹ کے دل اور ٹی وی کے کچھ نہیں توڑتی۔

ایک طرف پاکستان ٹیم مسلسل فتوحات کے ساتھ نیوزی لینڈ پہنچی اور دوسری جانب میزبان ٹیم جو ناکامیوں کے دلدل سے نکل نہیں پارہی تھی اسے رسوائی کی مزید گہری کھائی میں دھکیلنا مصباح اینڈ کمپنی کا مشن تھا، لیکن کرائسٹ چرچ میں سب کچھ لٹ گیا۔ پہلے روز موسم نے مات دی۔ دوسرے روز نیوزی لینڈ نے اہم ٹاس جیت کر آدھا میچ جیت لیا، ٹاس ہارتے ہی مصباح ہمت بھی ہار گئے، پچاسویں ٹیسٹ میں فتح کا خواب مصباح کو چکنا چور ہوتا نظر آرہا تھا سیمنگ اور سوئنگ کنڈیشز پر ٹاس ہار کر پہلے بیٹنگ کرنا بلےبازوں کے لئے ڈراؤنا خواب تھا، وہ بھی اس ٹیم کے لئے جو گذشتہ چھ سالوں سے یو اے ای کی بیٹنگ وکٹوں پر رنزکے پہاڑ کھڑے کرتی رہی ہو، خیز اللہ اللہ کرکے پاکستانی اوپنرز نے محتاط آغاز کیا لیکن دونوں اوپنر کےآؤٹ ہوتے ہی بیٹنگ لائن کی نیا بیچ منجدھار میں ہی ڈوب گئی۔

\"CRICKET-NZL-PAK\"

پہلا میچ کھیلنے والے کولن ڈی گرینڈ ہوم ایک انجان چہرہ تھے لیکن چند ہی گھنٹوں میں پاکستان نے اسے پہچان دےدی، یہ وہی بولر تھا جس کے انتخاب پر دیار غیر میں ہی نہیں پاکستان میں بھی انگلیاں اٹھ رہی تھی، کین ولیمسن جنھیں مسلسل ناکامیوں پرتنقید کا سامنا تھا اب گرینڈ ہوم کی سلیکشن پر بھی تنقید کی زد میں تھے۔ لیکن کون جانتا تھا گمنام نام کچھ دیر بعد نیوزی لینڈ کا سب سے بڑا ہیرو ہوگا، ایسا کمال پاکستان ہی کرسکتا ہے، ویسے بھی ہیرو بنانے میں قومی ٹیم سے بڑا ہوئی ماہر نہیں، گرینڈ ہوم نے چھ وکٹیں اڑا کر قومی ٹیم کو صرف ایک سو تینتس رنز آؤٹ کردیا۔ کوئی بھی ٹیم پہلی اننگز میں اتنے کم اسکور پر آؤٹ ہوکر میچ میں کم نہیں کرسکتی خاص طور پر اگر وہ ٹیم پاکستان ہو تو لیکن بولرز نے نیوزی لینڈ کو دو سو رنز پر آؤٹ کرکے امید کی کرن روشن کردی۔

توقع تھی کہ بلے باز اس بار غلطیاں نہیں دہرائیں گے، جو پہلی اننگز میں ہوگیا اسے بھول جائیں گے، شائقین کے جذبات سے کھیلنے کےبجائے بولرز کی تیز اور گھومتی گیندوں سے کھیلیں گے، لیکن دوسری اننگز میں بھی کچھ نہیں بدلا، تبدیلی آئی اور نہ ہی قومی ٹیم کرائسز سے نکل سکی۔ مین آف کرائسز یعنی پاکستان ٹیم کے مرد بحران یونس خان اور مصباح الحق نہ چلے تو بیٹنگ لائن کی قعلی کھل گئی، کس میں کتنا دم تھا سب نے دیکھ لیا، یواے ای میں رنزکے ڈھیر لگانے والے اظہر علی اور اسد شفیق کی صلاحیتوں کا پول کھل گیا، اظہر علی نے173گیندیں کھیلی، اتنی سست بیٹنگ کی کہ ٹیسٹ کرکٹ بھی شرما جائے۔ ایشیائی وکٹوں پر دھوکا نہ دینے والے سرفراز احمد کیویز کے دیس میں دھوکا دے گئے۔ ٹیل اینڈرز سہیل خان چالیس رنزکے ساتھ نمایاں رہے، بلکہ پورے میچ میں سہیل خان انچاس رنزکے پاکستان کے سب سے کامیاب بلے باز رہے۔ اگر ٹاپ آڈر کے بلے باز سہیل خان سے بیٹنگ سے گر سیکھ لیں تو دوسرے ٹیسٹ میں بہتری کی امید رکھی جاسکتی ہے۔

دوسری اننگز میں ایک سو اکہتر رنز پر آؤٹ ہونے والی ٹیم نے نیوزی لینڈ کو ایک سو پانچ رنز کا حلوے جیسا ہدف دیا، بولنگ پچ پر سوئنگ کا شہزادہ کہلائے جانے والے محمد عامرسمیت سہیل خان اور راحت علی میچ کو دلچسپ بنانے میں ناکام رہے۔ ٹھنڈے موسم میں نیوزی لینڈ نے حلوہ صرف دو وکٹوں کے نقصان پر کھالیا۔ کین ولیمسن نے نصف سنچری بنائی۔ کرائسٹ چرچ میں شکست سے پی سی بی کی آنکھیں کھل جانی چاہیے کہ یونس اورمصباح کے نہ چلنے سے قومی ٹیم بھی نہیں چلتی۔ پاکستان کے لئے میچ تب ہی ختم ہوگیا جب مصباح الحق ٹاس ہارے تھے، اس کے بعد گرنا، سنبھلنا، اٹھنا اور پھر ڈھیر ہونا۔ ایسے تو صرف پاکستان ہی ہار سکتا ہے۔

Facebook Comments HS