ہمارا معاشرہ۔ دوسری تصویر کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یقیناً تصویریں لفظوں سے زیادہ بیان کی طاقت رکھتی ہیں گزشتہ کالم میں ہم نے اس بات کا مشاہدہ کیا۔ لفظوں کے بے پایاں قوت بیان کو آج ہم ایک دوسرے انداز سے دیکھنے جا رہے ہیں۔ یہ تمام تر تصویریں وہی ہیں جن کو ہم نے گزشتہ کالم میں دیکھا تھا۔ آج فرق صرف اتنا سا ہے کہ ہم اپنا نکتہ ء نظر یا فریم آف ریفرنس تبدیل کر کے ا نہیں دیکھیں گے اور جانیں گے کہ آج وہی تصویریں ہمارے معا شرے کے بارے میں کیا منظر کشی کر رہی ہیں۔

پہلی تصویر اسی سڑک کا ایک منظر پیش کر رہی ہے جہاں ایک موٹر سائیکل سوار مڑ کر پیچھے ایک گاڑی والے کو دیکھ رہا ہے۔ اس کی آنکھوں میں حیرانی، تأسف اور پریشانی کے جذبات اور احساسات نمایاں ہیں۔ یہ اپنی لین میں جا رہا تھا جب اچانک ایک بچے نے چلتی ٹریفک میں دوڑ لگا کر نکلنے کی ناکام کوشش کی۔ موٹر سائیکل سوار نے اس کو بچانے کی کوشش میں لین میں اپنی جگہ تھوڑی سی تبدیل کی۔ اس سے بچہ تو بچ گیا مگر اس نے گاڑی والے کو لیفٹ سائڈ سے اوور ٹیک کیا اور اس عمل میں اس کے آگے والے دروازے کو چھیلتا ہوا آگے نکل گیا۔

اب اس کے دیکھنے کی وجہ وہ ہارن بنا ہے جو گاڑی والے نے اس کو دیا تھا۔ ہارن دینے سے گاڑی والے کا مقصد محض اس کی خیریت دریافت کرنا ہی ہے۔ اور گاڑی والے کی آنکھوں میں اس کے لیے صرف اور صرف تحسین ہے۔ اس کا دھیان اپنے ممکنہ نقصان کے تخمینے کی بجائے بچے اور اس خوبصورت نوجوان کی سیفٹی پر ہے، موٹر سائیکل والے کے خیال میں غلطی اس کی ہے اور تصویر میں نظر آنے والے لوگوں کے خیال میں غلطی گاڑی والے کی ہے۔ کافی سین بنا ہوا ہے اور سٹرک پر گاڑیوں کی ایک لمبی قطار لگ چکی ہے۔ لوگ بچے کی غلطی اور موٹر سائیکل سوار اور گاڑی والے کے طرز عمل کی تعریف کر رہے ہیں۔ صورتحال بالکل قابو میں ہے۔ دونوں میں سے کوئی بھی شخص غلطی پر نہیں مگر ہر دو اشخاص ایک دوسرے کی سیفٹی کے بارے میں فکر مند ہیں جو ایک انتہائی خوبصورت بات ہے۔

دوسری تصویر میں شعلہ فشاں وکلاء پولیس کی غنڈہ گردی کے خلاف سرتا پا احتجاج ہیں اور مال روڈ پر اپنے اس احتجاج کو ریکارڈ کرواتے ہوئے دو مظلوم پولیس والوں کے کپڑے پھاڑتے انھیں سڑک پر گھسیٹ رہے ہیں۔ دراصل سڑک پار کرتے وقت یہ دونوں ایک گاڑی کی خوفناک قسم کی ٹکر سے شدید زخمی ہو گئے تھے۔ وکلاء ان کو اپنے ساتھ بحفاظت ہسپتال لے کر جا رہے ہیں۔ یہ دونوں پولیس والے وہ ہیں جو اس احتجاج کی حفاظت کے لیے اور ان کے جلوس کی منظم روانگی اور خاتمے کو یقینی بنانے کے لیے حکام بالا کی ہدایات کی روشنی میں اپنے فر ض کی ادائیگی کے لیے پہنچے تھے۔

وکلا ء جس بات پر احتجاج کر رہے ہیں اس میں پولیس کا کوئی اتنا خاص قصور ہے بھی نہیں۔ پولیس نے ایک چارجڈ ہجوم کو روکنے کی ہر ممکن کوشش میں ناکامی کے بعد عوام عامہ کے مفاد میں اور کسی بڑے نقصان سے عوام کو بچانے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا ستعمال اپنے افسران بالا کی ہدایت پر اور کوئی چارہ باقی نہ رہ جانے پر شر پسند عناصر کو منتشر کرنے کے لیے کیا تھا۔

تیسری تصویر شہر کے اختتام پر قائم ایک چنگی کی ہے۔ یہاں چند گن مین یہاں چند لوگوں کو بڑی مناسب قسم کی ’کٹ‘ لگا رہے ہیں۔ مار کھانے والے چنگی پر موجود اہلکار ہیں جن کی غلطی یہ ہے کہ انھوں نے ایک سینئیر سٹیزن سے بدکلامی کے بعد اسے اکیلا اور کمزور جانتے ہوئے شدید زدو کوب کیا تھا۔ بے چارہ بوڑھا شخص تو اس غنڈہ گردی کا کوئی جواب نہیں دے سکتا تھا لہذا وہ مار کھاتا رہا مگر ان گن مینوں کی غیرت نے یہ گوارا نہ کیا۔

اس بوڑھے شخص کا جواب یہ گن مین اتر کر دے رہے ہیں۔ قریب گزرتی گاڑیوں میں موجود لوگ نیچے اتر کر معاملہ رفع دفع کروانے کی بجائے ویڈیو بنانے میں مشغول ہیں۔ گو کہ چنگی پر موجود عملہ تعداد میں زیادہ ہے مگر ان کا حوصلہ اپنی غلطی کی وجہ سے کم ہے۔ ان کی کوشش یہ ہے کہ جلد از جلد ان لوگوں کا غصہ ختم ہو اور یہ لوگ یہاں سے جائیں تاکہ وہ پھر دوبارہ سے اپنا کام شروع کریں۔ امید واثق تو یہ ہے کہ ان لوگوں کے پرامن طریقے سے یہاں سے جانے کے بعد جس اہلکار نے یہ بدتمیزی کی تھی اس کی کم بختی آنے والی ہے۔

چوتھی تصویر میں ایک پاکستا نی سیاستدان ایک طاقتور ملک کے سفارت خانے میں موجود ہے۔ اس کے ماتھے پر موجود پسینہ رفتہ رفتہ اس کے ہاتھ میں موجود ٹشو میں جذب ہوتا بظاہر اس بات کا گواہ بنتا جا رہا ہے کہ صاحب خاصی ٹینشن میں ہیں۔ لیکن دراصل یہ ان کی موٹیویشن اور جذبات سے خون کی گردش تیز ہونے کی وجہ سے ہے۔ وہ آج یہ تہیہ کر کے آئے ہیں کہ اس سنگین مسئلے میں وہ سفیر موصوف کو اپنے ملک کا موقف ٹھوک بجا کر پیش کریں گے اور اس مسئلے کو عالمی فورم پر اجاگر کر کے رہیں گے چاہے کچھ بھی ہو۔

اگلی تصویر میں ایک وزیر صاحب موجود ہیں۔ ان کے ارد گرد جن لوگوں کا ایک گروپ بیٹھا ہے ان کا تعلق ٹیکسٹائل سیکٹر سے ہے۔ وزیر موصوف کچھ خا ص دلچسپی کا مظا ہرہ نہیں کر رہے ہیں کیونکہ جانتے ہیں کہ قومی خزانہ بالکل خالی ہے اور معاشی اشاریے کوئی اتنے حوصلہ افزاء نہیں ہیں اوپر سے کچھ نہ بیان کیے جانے والے پریشر۔ مگر وہ ان لوگوں کو سب حقیقت بات کر پریشان بھی نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ آج بھی وہی بات کریں گے جو وہ ہر بار کرتے ہیں۔

اور واقعی میں یہ لوگ آج بھی بجلی اور گیس کی بندش اور اس سے ان کے کاروبار پر ہونے والے نقصان کے بارے میں گفتگو کرنے آئے ہیں۔ یہ گروپ بڑی پریشانی میں بیٹھا ہوا ہے۔ ان کے تفکر کی بنیادی وجہ وہ شدید مالی نقصان ہے جو ان کی معیشت کے علاوہ ان کی کاروباری ساکھ کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ ان کے دھڑکتے دل میں یہ خدشات گامزن ہیں کہ آج بھی کہیں بات گول مول انداز سے ختم نہ ہو جائے، مگر اس کے باوجود یہ گروپ یہ پیغام دینے کے لیے آیا ہے کہ ان کے دل میں اپنے ملک کو چھوڑ کر کسی اور ملک میں اپنا سرمایہ لگانے کی کوئی خوہش نہیں ہے۔ وطن عزیز کی تعمیر و ترقی ان کے لیے مقدم ہے اور وہ معروضی حالات سے بھی بخوبی واقف ہیں۔

آپ نے دیکھا کہ کس طرح سے ایک نئے نکتۂ نظر نے ان پرانی تصویروں میں ایک نیا رنگ بھر دیا۔ منظر وہی پرانا تھا مگر آج ہماری سوچ نئی تھی۔ اگر ہم اپنی سو چ کا اینگل بدل لیں تو ہمارے معاشرے کے بہت سارے مسائل صرف اس سوچ کے بدلنے سے ہی حل ہو جائیں گے۔ اگلے کالم میں ہم انہی تصویروں کو ایک تیسرے نکتۂ نظر سے دیکھیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply