وبا اورخدا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


شہر میں وبا آ گئی ہے۔ لوگ اب ایک دوسرے سے ملنے سے کترا رہے ہیں۔ لوگوں نے خود کو محدود کر لیا ہے۔ وبا کی روک تھام کے لئے حکومت کئی اقدامات کر رہی ہے۔ ریڈیو، ٹی وی اور اخبارات میں اس موذی وبا کے پھوٹنے کے اسباب اور اس سے بچنے کی تدابیر بیان کی جارہی ہیں۔ نفسانفسی کا عالم ہے۔ ہونا بھی چاہیے۔ بے بسی کی موت کسے عزیز ہے۔ ہر صاحب شعور شخص خود کو ماحول سے دور رکھے ہوئے ہے۔ کیسے اپنی سانسوں کا دامن بچا رہا ہے جیسے زہرآلود زمین پہ چل رہا ہو۔ جس کی خاک اس کے وجود کو کسی تیزاب کی طرح اپنے اندر ضم کر لے گی۔

اسے کوئی پرواہ نہیں ہے۔ چاہے وہ وبا سے مرے یا کسی اور بلا سے۔ موت کی سختی کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ موت کا مزا ہر کسی نے چکھنا ہے چاہے وہ وبا کی صورت میں ہو یا کوئی اور بلا کی صورت میں۔ یہ اس کا موقف تھا۔ لوگوں کو وہ سمجھا رہا تھا جو اس کے قریب آنے سے کترا رہے تھے۔ ہر کوئی اپنے چہرے کو ڈھانپ کے رکھے ہوئے تھا۔ سوائے اس کے۔ حکومت نے بلاوجہ باہر جانا بند کر رکھا تھا۔ گویا وہ وبا کے خلاف ہڑتال کر رہے ہوں۔

وہ سارا دن شہر میں چکر کاٹتا اور سورج ڈھلتے ہی شہر کے چوراہے پر کھڑا وبا سے باتیں کرتا اور لوگوں پہ ہنستا رہتا۔ شاید وہ سارا دن وبا کے ساتھ شہر میں دہشت پھیلا رہا تھا۔ ایک دن شام کے وقت مجھے کسی کام سے گھر سے باہر جانا پڑا۔ میں نے تمام حفاظتی اقدامات اٹھائے ہوئے تھے۔ مکمل لباس، چہرا ڈھکا ہوا۔ میں نے دیکھا وہ شہر کے چوراہے پر کھڑا اپنی دنیا میں مگن تھا۔ میں معمول کے مطابق اسے نظرانداز کرتا چلا گیا۔ کام مکمل کر کے واپسی پر آتے ہوئے وہ ویسے ہی کھڑا تھا۔

مجھے اس میں تجسس پیدا ہوا اور میں اس کی باتیں سننے کے لئے رک گیا۔ چند لمحوں بعد وہ میری طرف متوجہ ہوا۔ میرے قریب آکر اس نے انتہائی بے باکی سے میرے چہرے سے نقاب اتارا۔ میں اس وقت اسے دیکھ کر سہم گیا۔ ”صاحب! کیا خدا کے سامنے بھی چہرا چھپا کے جاؤ گے۔ اس کے سامنے بھی اپنے گناہوں سے آلود جسم کو چھپا سکو گے۔“ یہ کہہ کر وہ واپس چلا گیا اور دوبارہ وبا سے باتیں کرنے لگا۔ میں انتہائی ڈر گیا تھا۔ اور جلدی سے گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔

دوسرے دن شہر کے چوراہے پہ اس کی لاش ملی۔ جسے دنیا سرپھرا سمجھ رہی تھی وہ کتنی دورکی سوچ رکھتا تھا۔ آج اگر ہم معاشرے میں پھیلی گناہوں کی وبا کے خلاف خود کو نظر بند کرتے تو یہ حالات نہ دیکھنے پڑتے۔

Latest posts by محمد نواز اعوان (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد نواز اعوان کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *