روٹی کھانے کے بعد اونگھ کیوں آتی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریر:راحت ارم
ترجمہ:یاسمین سکندر

ہمارے ہاں عام طور پہ گندم سے بنی چپٹی اور گول نما چیز کو ہی روٹی سمجھا جاتا ہے۔ یہ برصغیر کی ایک لازمی غذا ہے۔ جبکہ مغرب کی غذا میں بھی روٹی یا بریڈ اپنی بہت سی اشکال اور قسموں کے ساتھ اتنی ہی اہم ہے جتنا کہ برصغیر میں۔ لوگ عموماً روٹی کے بغیر اپنے کھانے کو ادھورا سمجھتے ہیں۔ اگر وہ گندم اور گندم سے بنی اشیاء (نشاشتہ کا سب سے اہم ذریعہ) کا استعمال محدود کرتے ہوئے نشاستہ (carbohydrates) کو اپنی غذا سے منفی کرتے بھی ہیں تو انھیں محسوس ہوتا ہے اسے ترک کرنا انتہائی دشوار ہے۔

اسی طرح ہم میں سے کون ہوگا جو اس خمار /غنودگی سے انکار کر سکتا ہو جو ہمیں روٹی کے ساتھ شاندار کھانا کھانے کے بعد محسوس ہوتی ہے۔ کیا آپ کو تعجب نہیں ہوتا کہ گندم نے ہمیں اتنا سست اور اپنا عادی بنا لیا ہے کہ گندم پہ مشتمل ہر کھانے کے بعد ہمیں اونگھ آنے لگتی ہے۔ ایسا کیوں ہے کہ تمام اعلیٰ ریستوران جب آپ کا فرمائش کردہ کھانا تیار کر رہے ہوتے ہیں تو آپ کو مفت میں کھانے کے لیے روٹی اور مکھن کی ٹوکری بھی پیش کرتے ہیں۔

نیچے گندم کے بارے میں چند معلوم حقائق پیش کیے جا رہے ہیں جو مندرجہ بالا تمام سوالات کے جوابات فراہم کریں گے، جن کی ہمیں تلاش ہے۔

گندم میں ایک عجیب سی اعصابی خصوصیت پائی جاتی ہے جو اسے کھانے والے کے دماغ پہ اثر انداز ہوتی ہے۔ یہ پروٹین کے ڈھانچہ کی زنجیر (polypeptideجیسا کہ gluteomorphin) کی وجہ سے ہوتا ہے جو کہ گندم کے ہضم ہونے سے جسم میں تشکیل پاتا ہے۔ پولی پیپٹائڈمیں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ یہ گردش کرنے والے خون اور دماغ کی جھلیوں کے درمیان رکاوٹ (blood brain barriers) کو عبور کرنے اور خود کو دماغ میں نشہ وصول کرنے (افیون ریسیپٹرزopiate receptors) کے ساتھ جوڑ لینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ افیون ریسیپٹرز سے مماثلت اور وابستگی کی وجہ سے ان پولیپیپٹائڈس کو عام طور پر ایکسورفنس (exorphins) کہا جاتا ہے۔ جب اثر ختم ہو جاتا ہے یا

ایکسورفن دینے والی غذاؤں (exorphin yielding food) کا استعمال نہیں کیا جاتا تو کچھ لوگوں کو گندم کے خمار سے واپسی کے اس سفر میں واضح طور پہ ناخوشگواری کا احساس ہوتا ہے۔

ڈاکٹرز یقیناً جانتے ہیں کہ نالکسون (naloxone) نامی ایک کمپاؤنڈ کے ذریعہ (زیادہ مقدار میں افیون/مارفین لینے کی صورت میں ) اوپی ایٹس کے اثرات روکے جا سکتے ہیں یا ان کو پلٹایا (تبدیل کیا) جا سکتا ہے۔

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر گندم کی خوراک لینے والے عام انسانوں کو افیون کے اثرات دور کرنے والی دوائیں دی جائیں تو کیا ہوگا؟

یونیورسٹی آف ساؤتھ کیرولائنا کے نفسیاتی انسٹی ٹیوٹ میں کی گئی ایک تحقیق میں، گندم کھانے والے شرکاء نے (جنھیں نیلوکسون دی گئی تھی) دوپہر کے کھانے مین 33 فیصد کم کیلوری اور رات کے کھانے میں 23 فیصد کم کیلوری کھائی (دو کھانے سے حاصل کردہ تقریباً 400 کیلوری کم) بانسبت ان شرکاء کے، جنھیں ایک پلیسبو (placebo) (دوا کے بغیر خالی شوگر کی بنائی ہوئی گولی) دی گئی۔

اسی طرح مشی گن یونیورسٹی میں، بسیار خور (جنھیں وہی دوا دی گئی تھی) ایک گھنٹے تک کھانوں سے بھرے کمرے میں قید رہے۔ شرکاء نے مسکن ادویات کے ساتھ گندم سے بنے مختلف لوازمات 28 فیصد کم کھائے۔

دوسرے لفظوں میں گندم سے پیدا ہونے والا خمار ختم ہوجاتا ہے کیونکہ وقت کے ساتھ گندم سے پیدا ہونے والی نشہ آور کیفیت جو بار بار کھانا کھانے کی اشتہا پیدا کرتی ہے، کم ہو جاتی ہے۔ اس کے نتیجہ میں آہستہ آہستہ بھوک بھی کم ہوتی جاتی ہے۔

جیسا کہ کوئی بھی توقع کر سکتا ہے کہ اس معلومات کو ایک حکمت عملی کے ساتھ دواساز ی کی صنعت نے وزن میں کمی کی منافع بخش ادویات بنانے کے لیے اپنا لیا ہے۔ (اس دوا میں نیلوکسن (naloxone) جیسا ایک کمپاؤنڈ نالٹریکسون (naltrexone) ہوتا ہے جس کا استعمال گولی کی شکل میں زیادہ آسان ہے۔ ) یہ دوا دماغ کے اندر میسولمک ریوارڈ (mesolimbic reward) دینے والے نظام کو روکنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے جو خوشگوار جذبات پیدا کرنے کے لیے ذمہ دار ہے جیسا کہ ہیروئن (heroine) ، مورفین (morphine) اور اسی طرح کے دیگر مادوں سے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ اور ان خوشگوار جذبات کی جگہ یہ بے چینی اور اضطراب کے جذبات پیدا کرتی ہے۔ یہ وہی دوا ہے جو اینٹی ڈپریسینٹس (antidepressants) اور سگریٹ نوشی سے متعلق دوائیوں میں بھی استعمال کی جاتی ہے۔ (جاری ہے )

حوالہ جات:
****************
1- http://www.ncbi.nlm.nih.gov/pubmed/4048359
2- http://www.ncbi.nlm.nih.gov/pubmed/7762518

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
یاسمین سکندر کی دیگر تحریریں

2 thoughts on “روٹی کھانے کے بعد اونگھ کیوں آتی ہے؟

Leave a Reply