واحد قومی نصاب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک پرانی کہانی ہے۔ اوریجن یا تخلیق کار کا علم نہیں، ایک بزرگ رضاکار نے اپنی کمیونٹی کا تعارف کراتے ہوئے سنائی تھی۔ کہنے لگے کسی شہر کے حاکم نے اپنے کچھ اہم مشیروں کی ذمہ داری لگائی کہ اس کی رعایا کو اتنا فرمانبردار بنا دو کہ کبھی کسی حکم یا پالیسی پر سوال اٹھانے کا سوچیں بھی نا۔

مشیروں نے خوب محنت کی اور رعایا کی ایسی تعلیم و تربیت کی کہ انہیں بادشاہ کا فرماں بردار بنا دیا۔ جب انہیں پورا اعتماد ہو گیا کہ اب رعایا فرماں بردار بن گئی ہے تو وہ بادشاہ سلامت کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ بادشاہ سلامت آپ کی رعایا آپ کے حکم کی تابع ہے۔ آپ کے جی میں جو آئے کریں، وہ آپ کے کسی حکم پر یا کسی بات پر کوئی سوال نہیں اٹھائیں گے۔

بادشاہ خوش ہو گیا اور فرمان جاری کر دیا کہ جو لوگ صبح کام یا کسی بھی سلسلے میں شہر سے باہر جاتے ہیں وہ شہر کے دروازے پر ایک روپیہ ٹیکس دیں گے۔ سب لوگوں نے بڑے آرام سے کوئی سوال اٹھائے بغیر ٹیکس ادا کرنا شروع کر دیا۔ کچھ عرصے بعد بادشاہ سلامت نے ٹیکس بڑھا کر دگنا کر دیا۔ کسی نے کوئی سوال تک نہ اٹھایا اور دگنا ٹیکس ادا کرنا شروع کر دیا۔

کچھ عرصے بعد بادشاہ نے کہا کہ ٹیکس پانچ گنا کر دیا جائے۔ حسب معمول کوئی سوال نہ اٹھا اور باہر جانے والے سب لوگ دروازے پر نیا ٹیکس ادا کرتے اور کام پر چلے جاتے۔ ٹیکس کو مزید بڑھا دیا گیا اور نتیجہ ایک دفعہ پھر وہی رہا۔ حتی کہ ٹیکس لوگوں کی آمدنی کا ایک بھاری حصہ کھا رہا تھا اور گزارا بہت مشکل ہو چکا تھا لیکن کسی نے سوال نہ اٹھایا۔

بادشاہ سلامت نے ایک نئے قانون کا اعلان کر دیا۔ اب شہر کے دروازے پر ہر شخص ٹیکس ادا کرتا اور ساتھ ہی اسے لٹا کر ایک جوتا بھی مارا جاتا۔ کسی نے بھی کوئی سوال نہ کیا۔ سب لوگ آتے، ٹیکس ادا کرتے ایک ایک جوتا کھاتے اور کام پر چلے جاتے ہیں۔

کچھ عرصے بعد جوتے بڑھا کر پانچ کر دیے۔ پھر بھی کوئی فرق نہ پڑا۔ لوگ آتے، شہر کے دروازے پر قطار بناتے۔ ملازمین ان سے ٹیکس وصول کرتے، انہیں پانچ پانچ جوتے لگاتے اور لوگ کام پر تشریف لے جاتے۔ کسی نے کوئی سوال نہ کیا۔ بادشاہ سلامت نے ہر شخص کو دس جوتے مارنے کا اعلان کر دیا۔ اس پر بھی عمل درآمد شروع ہو گیا۔ شہر میں مکمل سکون رہا۔ پھر جوتے بڑھا کر بیس کر دیے۔ رعایا نے کبھی سوال نہ اٹھایا۔

بادشاہ سلامت اور ان کے مشیر اپنی کامیابی پر بہت خوش تھے۔ ایک دن بادشاہ سلامت نے سب لوگوں کو جمع کیا اور ان سے پوچھا کہ کسی کو کوئی مسئلہ کوئی تکلیف کوئی پرابلم ہو تو بتائے۔

جواب میں سب لوگ خاموش رہے۔ ہاں البتہ ایک شخص نے ہاتھ کھڑا کیا اور کہا بادشاہ سلامت اگر جان کی امان پاؤں تو کچھ عرض کروں۔ اجازت ملنے پر اس شخص نے کہا کہ ہر روز صبح ہم جب جاتے ہیں تو گیٹ پر ہم ٹیکس دیتے ہیں اور ہمیں بیس بیس جوتے مارے جاتے ہیں۔ عرض یہ ہے کہ لوگوں کی قطار بہت لمبی ہوتی ہے اور جوتے مارے والوں کی تعداد بہت کم ہے، جس کی وجہ سے بہت انتظار کرنا پڑتا ہے اور ہم کام سے لیٹ ہو جاتے ہیں۔ اس لیے رعایا کو صبح صبح جوتے مارنے والے سرکاری ملازمین کی تعداد بڑھا دیں تاکہ ہم کام سے لیٹ نہ ہوں۔

پاکستانیوں کی اکثریت تو مطالعہ پاکستان اور باقی تربیت کے صدقے صبح شام بادشاہ سلامت سے جوتے کھانے پر کوئی سوال نہیں اٹھاتی، اس لیے ہم تربیت سے کافی مطمئن ہیں۔ لیکن پھر بھی تھوڑے سے لوگ ہیں، جو چیزوں کا حساب کتاب رکھتے ہیں اور سوال اٹھا دیتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ آئین ایک ضروری ڈاکومنٹ ہے اور اس کا احترام اب پر لازم ہے۔ کسی کو ٹینکوں اور وینٹیلیٹرز کی تعداد کے موازنے سے حیرانی ہوتی ہے اور کوئی دھرنے میں آنے والے بے روزگار نوجوانوں کے معاوضے پر آنسو بہاتا ہے۔ بجٹ کے دنوں میں بھی کچھ لوگوں کی نیند حرام ہوئی ہوتی ہے اور دوسروں کا آرام خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس کا صاف مطلب ہے کہ قوم کے مفاد میں رعایا کی تعلیم و تربیت پر مزید دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ ملک کی اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ایس این سی یعنی واحد قومی نصاب لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ ایس این سی سے سوال کرنے کی جو تھوڑی سی بھی طاقت جو کہیں باقی رہ گئی ہے اسے ختم کر پائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 243 posts and counting.See all posts by salim-malik

Leave a Reply