خواجہ سرا ہماری اخلاقیات کا آئینہ ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"Aamir-Hazarvi\"

چند روز قبل سیالکوٹ کے کچھ گلو بٹوں نے کمزور خواجہ سراؤں کے ڈیرے پہ چھاپا مارا اور بعد ازاں ایک خواجہ سراء کو لٹا کے تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس کی گردن پہ پاؤں رکھا اور برہنہ کیا۔ مجرموں کی دیدہ دلیری دیکھیں کہ ویڈیو بھی بنائی اور مبینہ طور پر پیشاب بھی پلایا۔ جرم کیا تھا؟ یہی کہ بھتہ کیوں نہیں دیا؟

واقعی اب وطن عزیز میں طاقتور کو بھتہ نہ دینا بھی جرم ہے۔ لیکن خواجہ سراء نے کچھ اور بھی کہا۔ اس کا کہنا تھا کہ میرا جرم یہ ہے کہ میں کمزور ہوں۔ میرے ماں باپ نہیں ہیں۔ میرا خاندان نہیں ہے۔ میں نہتا ہوں۔ میں پردیسی ہوں۔ میرا حسین ہونا بھی میرا جرم ہے۔ اس زمین پہ ہمارے لیے محفوظ ٹھکانہ نہیں ہے۔ رہنے کے لیے گھر نہیں ہے۔ ریاست ہماری نہیں۔ لوگ ہمارے نہیں۔ ہم جائیں تو کہاں جائیں؟

خواجہ سراء کی باتیں درست ہی۔ اس کا رونا دھونا بھی درست ہے اس کے گلے بھی درست ہیں۔

لیکن مجھے مجرموں سے گلہ نہیں ہے۔ اس لیے کہ مجرم جرم کیا کرتے ہیں۔ مجرم اخلاقیات سے عاری ہوتے ہیں۔ ان کی لغت میں پیسہ ہی سب کچھ ہوتا ہے۔ انہیں کسی کی چیخوں کا خیال نہیں آتا۔ مجرموں کو آنسو متاثر نہیں کرتے۔ مجرم کیا جانیں کہ درد کیا بلا ہے؟

مجھے گلہ اس معاشرے سے ہے۔ مجھے گلہ صاحب ثروت لوگوں سے ہے۔ مجھے گلہ باشعور طبقے سے ہے۔ مجھے گلہ اہل علم و قلم سے ہے۔ مجھے گلہ صاحب جبہ و دستار لوگوں سے ہے۔ انہیں کیا ہو گیا ہے؟ یہ خاموش کیوں ہیں؟

آپ دیکھیں دنیا میں مختلف لوگ کاروبار کرتے ہیں۔ مختلف لوگ رزق کماتے ہیں۔ کوئی ریڑھی لگاتا ہے۔ کوئی کاشتکاری کرتا ہے۔ کوئی علم بیچتا ہے۔ کوئی قلم بیچتا ہے۔ کوئی گاڑیاں بیچتا ہے۔ کوئی مکان بناتا ہے۔ کوئی اسکول چلاتا ہے۔

غرض بہت ساری قسمیں ہیں رزق کمانے کی۔ لیکن کچھ لوگ ایسے ہیں جو جسم بیچ کے رزق کماتے ہیں۔ جس معاشرے میں جسم بیچ کے رزق کمایا جائے وہاں رحمتیں کیسے اتریں گی؟ لوگ کہتے ہیں کہ خواجہ سراء خوشی سے یہ کام کرتے ہیں۔ حیرانی ہے اس لطیفے پہ؟ بھلا جسم بھی کوئی خوشی سے بیچتا ہے؟

اچھا برائے بحث یہ بھی مان لیا کہ وہ خوشی سے یہ کام کرتے ہیں۔ اپنا بھی بتائیں نا کہ ہم نے اس خوشی کو قبول کر لیا ہے۔ ہم اس برائی پہ چیں بجبیں نہیں ہوتے۔ ہم نے اس کام کو پیشہ سمجھ کے چپ کا روزہ رکھ لیا ہے۔ آپ راضی ہوگئے کہ یہ کام چلتا رہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو آپ بولتے کیوں نہیں؟ آپ لکھتے کیوں نہیں؟ آپ ان کے لیے آواز بلند کیوں نہیں کرتے؟ آپ ریاست سے مطالبہ کیوں نہیں کرتے کہ خواجہ سراؤں کو باعزت روزگار دیا جائے؟ آپ ان کا کوٹہ مقرر کیوں نہیں کرواتے؟ آپ معاشرے پہ محنت کیوں نہیں کرتے کہ معاشرہ ٹھیک ہو جائے؟

خواجہ سراء برے نہیں معاشرہ برا ہو چکا ہے۔ معاشرہ نیکی کے تکبر کا شکار ہو چکا ہے۔ معاشرے کی ترجیحات ہی بدل چکی ہیں۔ جس دن علماء نے کہنا شروع کر دیا کہ زکات خواجہ سراؤں پہ بھی لگتی ہے تو اخلاقی بحران ختم ہو گا۔ جس دن صاحب ثروت لوگوں نے جان لیا کہ خواجہ سراؤں پہ بھی خیرات لگتی ہے تو کچھ نہ کچھ بہتری آئے گی۔ جس دن نیکی کرنے والوں نے یہ راز پالیا کہ خواجہ سراؤں کے چہرے پہ مسکراہٹ بکھیر کے بھی اللہ راضی ہو سکتا ہے اس دن فحاشی کم ہو جائے گی۔ جس دن لوگوں کو علم ہو گیا کہ جنت خواجہ سراء کی خدمت کے بعد بھی مل سکتی تو پھر دیکھنا سوسائٹی بدلتی ہے کہ نہیں؟ ابھی ترجیحات نہیں بدلیں۔ معاشرہ غلط سمت کی جانب سفر کر رہا ہے۔

آپ نے معاشرے کو دیکھنا ہے تو صرف دو واقعات پڑھ لیں۔

آپ کے علم میں ہوگا کہ پشاور ایک خواجہ سراء کو گولی لگی تو ہسپتال میں موجود لوگوں نے اس کا علاج نہیں کیا۔ مردوں نے بھی نفرت کا اظہار کیا اور عورتوں نے بھی۔ ہسپتال میں پڑے بیماروں کو بھی احساس نہ ہوا کہ تکلیف کیا ہوتی ہے؟ انہیں خواجہ سراء کے جسم سے بہتا خون نظر نہیں آیا؟ ان کی ہمدردی نہیں جاگی بلکہ نفرت ابل پڑی۔ علاج کا فیصلہ ہونے تک خواجہ سراء کا فیصلہ ہو چکا تھا۔ وہ اللہ کے حضور پہنچ چکا تھا۔

دوسرا واقعہ اس سے بھی دردناک ہے پشاور میں ہی خواجہ سراء فوت ہوا تو امام مسجد نے جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیا۔ دنیا میں بڑے بڑے متکبرین دیکھے۔ لیکن نیکی کے تکبر والوں سے بڑا متکبر کم ہی دیکھا۔ متکبر تکبر کو گناہ سمجھتا ہے لیکن نیکی کا تکبر کرنے والا اپنے آپ کو پارسا سمجھتا ہے۔

ایک خواجہ سراء کو علاج کے لیے بیڈ نہ ملا۔ دوسرے کو جنازے کے لئے کندھا نہ ملا۔ تیسرے کو ننگا کر کے مارا گیا۔

کتنے افسوس کی بات ہے؟ اس کے باوجود بھی کوئی اس کوچے کا رخ نہیں کرتا۔ کسی خواجہ سراء کا جسم بیچنا کم المیہ ہے کہ اس کے آنسو بھی گرائے جائیں؟

مجھے یقین ہے کہ اس ملک میں کسی جماعت کے کارکن کیساتھ ایسا کیا جائے تو پورا ملک جام ہو جائے۔ لیکن یہاں ایک نہتے کا مسئلہ تھا سبھی چپ ہیں۔ چلیں خواجہ سراء کسی کے کارکن نہ سہی میرے نبی کے امتی تو ہیں۔ کلمہ گو تو ہیں ایک مظلوم کلمہ گو پہ ظلم ہوتا ہے کوئی بولتا ہی نہیں۔ افسوس صد افسوس۔ اگر کسی نے ہمارا چہرہ دیکھنا ہے تو خواجہ سراؤں کو دیکھ لے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply