تعلیم اور حکومتی ترجیحات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تعلیم کے بغیرقومیں ترقی نہیں کر سکتیں۔ تعلیم روشنی ہے، تعلیم نور ہے۔ تعلیم کے بغیر مستقبل تاریک ہے، یہ اور اس جیسی بے شمار ضرب الامثال قوم ستر برس سے سنتی چلی آ رہی ہے۔ لیکن اگر قومی تاریخ کا بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ تعلیم کسی دور میں کسی بھی حکومت کی ترجیح اول نہیں رہی۔

سابقہ مختلف ادوار میں سرکاری سطح پر شعبہ تعلیم کو صرف ”بھرتیوں“ کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ جس شخص کو کوئی محکمہ قبول نہ کرتا، محکمہ تعلیم میں بھرتی کر لیا جاتا۔ منتخب نمائندے ”بے روزگاری“ کم کر کے حق نمائندگی ادا کرتے رہے اورعرصہ تک میرٹ کے ساتھ جو کھلواڑ جاری رہا، اس کا خمیازہ قوم آج تک بھگت رہی ہے۔

سابقہ دور میں خیبر پختون خواہ میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے صوبہ میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی۔ تعلیمی فنڈز خصوصاً تعمیراتی بجٹ میں اضافہ کیا گیا۔ جس کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ عمارتوں کی تزئین و آرائش، نئی عمارتوں کی تعمیراور بنیادی سہولیات و ضروریات کی فراہمی ممکن ہو گئی۔ اسی طرع معلمین کی تربیت کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی کمی بھی کسی حد تک پوری کی گئی۔

آج نہ صرف صوبہ بلکہ مرکز میں بھی تحریک انصاف کی حکومت ہے۔ لیکن اعداد وشماربتا رہے ہیں کہ معیاری تعلیم کے فروغ کی راہ میں بے شمار مشکلات حائل ہیں۔ ابتدائی سے لے کر اعلی تعلیم تک ”شعبہ تعلیم“ مسائل کا شکار ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے پاس فنڈز کی کمی ہے۔ جامعات گوناں گوں مشکلات سے دوچار ہیں۔

حکومتی ترجیحات اور دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب کورونا وائرس کی وجہ سے پورا نظام جامدوساکت ہوکر رہ گیا تو تعلیم کے شعبہ میں حکومت کے پاس کوئی متبادل نظام نہیں تھا۔ نجی سیکٹر میں پرائمری سطح کے چھوٹے چھوٹے تعلیمی اداروں نے محدود وسائل کے باوجود آن لائن کلاسوں کے اجراء میں کسی حد تک کامیابی حاصل کر لی۔

سرکاری شعبہ میں پرائمری تو درکنار ہائی ہائر سکینڈری اور کالج سطح کے طلباء کا گزشتہ پانچ ماہ سے کتاب اور استاد سے تعلق منقطع ہے۔ ہر سال مارچ میں نیا تعلیمی سیشن شروع ہوتا ہے، مارچ سے ہی بچے گھروں میں ہیں، آگے بھی غیر یقینی صورت حال ہے، حالات مخدوش نظر آرہے ہیں۔

سب کو پتا ہے یہ انٹرنیٹ کا دور ہے، دنیا فاصلاتی نظام تعلیم کی طرف آ رہی ہے۔ اگر حکومت نے اس حوالے سے پہلے منصوبہ بندی کر رکھی ہوتی تو حکومت اقتدار اختیار اور وسائل استعمال کرکے طلباء کو آن لائن تعلیم کے بہترین مواقع فراہم کر سکتی تھی اور ان کا قیمتی وقت ضائع نہ ہوتا۔

اب بھی وقت ہے کہ مزید کسی آزمائش کا انتظار کیے بغیر آن لائن تعلیم کی منصوبہ بندی کر لی جائے، اور روبرو کلاسوں کے ساتھ ساتھ تجرباتی بنیادوں پر آن لائن کلاسوں کا اجراء کر دیا جائے۔ ملک کے کونے کونے تک انٹرنیٹ کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ بلاتعطل بجلی کی فراہمی ممکن بنائی جائے۔

مختلف موبائل کمپنیوں سے معاہدے کر کے طلباء کے لیے اگر مفت نہیں تو کم از کم سستے ترین ”انٹرنیٹ پیکجز“ حاصل کیے جائیں۔ موبائل کمپنیوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ جس قوم سے اربوں کھربوں روپے کما رہی ہیں اس قوم کے بچوں کو تعلیم یافتہ بنانے میں اپنے حصے کا کردار ضرور ادا کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply