زوال آمادگی: مجید امجد کی تضحیک تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زوال کسی شعبے میں در آئے تو تنزلی و انحطاط کے آثار نمایاں ہونے لگتے ہیں زوال کے دو قابل ذکر پہلو ہیں ایک قسم یا پہلو کوتاہی۔ و غفلت سے متعلق ہے جبکہ دوسرا شعوری نوعیت رکھتا پہلی صورت میں تنزلی کے نمایاں ہوتے پہلوؤں سے چشم پوشی برتی جاتی ہے کہ جو کچھ رونما ہو رہا ہے اسے اپنی غلطی کا سبب تسلیم کرنے کی بجائے ناگزیر وقوع قرار دے دیا جاتا ہے یا پھر زیادہ دانش مندی دکھائیں تو انحطاط کو ذیلی نقصانات قرار دے کر صرف نظر کر لی جاتی ہے میں اسے شعوری زوال کے زمرے میں شمار کر رہا ہوں صرف وضاحت کی خاطر وگرنہ اس منفی رویے کا شعور و عقل سے دور دور کا تعلق وابستہ بھی نہیں ہوتا اور اس طرز عمل کو درست طور پر زوال آمادگی کہا جاتا ہے چنانچہ آمادہ زوال معاشرے سنبھلنے کی کوشش ہی نہیں کرتے بلکہ وہ اپنے زعم خردمندی میں مستانہ وار بربادی کی طرف بڑھتے چلے جاتے ہیں مجموعی طور پر مذکورہ صورتحال جس معاشرے میں ہمہ گیر جہت کے ساتھ نمودار ہو تو سارا سماج گم کر دہ راہ ہو جاتا ہے کسی دوسرے کے بات سمجھنے کی استعداد باقی نہیں رہتی بلکہ آوازیں سنائی ہی نہیں دیتی ہیں، ہنگم شور میں پہلا قتل خود تنقیدی کا ہوتا ہے اور پھر ہر شے مسمار ہونے لگتی ہے۔

تہذیبی ساختیات کے پیچیدہ اور باہم الجھے ہوئے اعمال کی تحلیل کے نتیجے میں ان اعمال کلی کا ایک جزو ”خیالیات“ سے متعلق ہے جو تدبر دانش و حکمت کے ہمہ گیر زاویوں پر محیط ہے اور اجتماعی شعور کی آواز ہوتا ہے چنانچہ تہذیب کی تخلیق و تشکیل و تدوین میں اس کا حصہ نمایاں اور اہم ہوتا ہے۔ مغربی دنیا کی خیالیات میں ادب فلسفہ انتقادی و تجربی علوم اور سائنس کے دیگر شعبے یکجان ہو چکے ہیں بد قسمتی سے ہمارے سماج کی خیالیات کا بڑا اور بلاشبہ دقیع حصہ تاحال حسی و جذباتی تصورات و تجربات کے فنی اظہار تک محدود ہے۔ فلسفہ اور نظریہ سازی یا اشیا کی تخلیق کے عمل نے تاحال ہمارے علمی عمل میں جگہ نہیں بنائی ہمارا نظم فکر، تقعل کے اسباب و عوامل پر مباحث سے بھی گزیریا ہے۔

تقلیدی رجحان نے عقائد کی طرح دیگر علوم و فنون میں بھی حوالہ جاتی دانش یا پیروی مغرب کی روایت کو مضبوط بنایا ہوا ہے سماج کی تعمیر و ترقی کے متعلق مختلف خواب اور نعرے گھڑنے کے علاوہ کچھ نہیں کر پایے۔ یہاں تک کہ ریاست کے نظم و نسق کے لئے بھی اپنے قومی وجود اور امنگوں کے مطابق نو آبادیاتی دور کے نظم و نسق میں تخلیقی ترمیم و تبدل کی اہلیت کا مطاہرہ کرنے میں بھی ناکام ہیں یا ہچکچاہٹ کے شکار۔۔۔ تمہید کی طوالت پر معذرت۔ واضھ یہ کرنا تھا کہ زیر بحث موضوع معقولیت پسند معنوی ترسیل کا ہے، کسی کی تضحیک یا ذاتیات پر مبنی تنقید کا الزام نہ لگ سکے۔

سابق جنرل پرویز مشرف کے دور میں ڈیجیٹیل میڈیا یا الیکٹرونک میڈیا کے عہد کا آغاز ہوا تو ذرائع ابلاغ کی معنویت اور اثر آفرینی میں انقلاب آ گیا ٹی وی چینلز پر اطلاعات کی ترسیل و سیاسی مباحث کا آغاز ہوا ہر گزرتے دن چینلز کی تعداد اور ان پروگراموں کے انداز اور مقدار بدلنے لگے۔ سنجیدہ (؟) سیاسی مباحث کی بڑھتی لہر نے حکومت کے لئے مشکلات پیدا کیں تو خود ذرائع ابلاغ کے لئے مباحث کے موضوعات کی قلت سامنے آنے لگی۔ کیونکہ وہ خود بہت سے اہم موضوعات درپیش مسائل اور تاریخ کے درست استدلالی تجزیات سے گریزاں و خوف زدہ تھے یہ داخلی رکاوٹ تھی جسے سطور بالا میں زوال آمادگی سے تعبیر کیا گیا ہے چنانچہ سرکاری بدعنوانی کے انکشافات اور سازشی تھیوریز پر مبنی مباحث پر انحصار کیا جانا ہی ممکن تھا مگر اس انداز طرز و فکر نے ناظرین کو جتنی شدت سے اپنی گرفت میں لیا تھا اسی نسبت سے ان کے اذہان میں بیزاری بھی پیدا کی جو دوری و بیگانگی میں بدلنے لگی چونکہ سیاسی نظریات کا سیاسی معاشرتی ثقافت میں فقدان رہا تھا چینلز نے ناظرین کو متوجہ رکھنے کے لئے غیر سنجیدہ انداز میں ہلکے پھلکے مزاح کے ساتھ پروگراموں کی نئی ریت اپنائی۔ ابتدا تو ایک آدھ چینل نے کی مگر اب صورتحال یہ ہے کہ ہر چینل مزاح کے نام پر سیاسی سماجی موضوعات کا ملغوبہ بنا کر پروگرام پیش کر رہا ہے ان پروگراموں میں نظر آنے والے کامیڈین کی قلت کا طرفہ تماشا ہے کہ ہر دوسرے چینل پر آپ کو وہی دوچار چہرے نظر آتے ہیں جگت بازی میں مصنوعی لطافت کے ساتھ انسباط کا عنصر بھی موجود ہونا لازم ہے اور جگت بازی پنجابی زبان کی اہم ذو معنی صنف ہے، جگت بازی کی حدود ہیں۔ لیکن بے معنی جملوں سے ناظرین کے لئے قہقے کا سامان تو پیدا ہو جاتا ہے مگر اس انداز و اطوار اور جگتوں کی تکرار کرداروں کی یکسانیت سے فنی ادبی حس و لطافت ختم ہوتی جا رہی ہے اور اس کی جگہ بھکڑپن زیادہ دکھائی دیتا ہے۔

بعض پروگراموں میں تواتر کے ساتھ سیاسی ادبی شخصیات شعراءکی نقلیں اتاری جاتی ہیں ان کی ڈمی کے ذریعے تنقید اور ان کہی کو کہی میں بدلنے کی سعی بھی ہوتی ہے جب سے ان پروگراموں کی بہتات ہوئی ہے تو ان کے معیار میں تیزی سے گراوٹ بھی آئی ہے۔ زوال اور انحطاط کا یہی پہلو “خبرناک” جیسے اہم پروگرام میں شدت سے محسوس ہوتا ہے جس کی میزبان محترمہ عائشہ جہانزیب نفیس دیدہ زیب فہم و فراست کی مالک تعلیم یافتہ سنجیدہ مزاج خاتون ہیں اگر انہیں اس پروگرام سے الگ کر لیا جائے تو پروگرام کی ناک گم ہو جایے۔ خبر اس پروگرام میں جناب انور مقصود اور جون ایلیا کی ڈمی تواتر سے پیش ہو رہی ہے جناب انور مقصود کے اپنے انداز بیان میں جملے کے پایا جانے والا ہلکا سا وقفہ جو ان کے جملے میں معنویت اور مزاح کا دریا بہاتا ہے۔ خبرناک میں ہدف طنز بنایا جاتا ہے کہ جیسے انور مقصود بولتے کم اور ہکلاتے زیادہ ہیں۔ جناب انور مقصود کے ساتھ یہ سلوک ان کی شخصیت کی تضحیک کا تاثر نہیں چھوڑتا البتہ ناظرین کی بڑی تعداد، جو انور مقصود کے علم و کمال کی معترف ہے، کی دل شکنی ضرور ہوتی تھی۔

جون ایلیا ملک کے نامور شاعر تھے ان کی شخصیت و مزاج کے کئی پہلو تھے بے خودی و سرشاری، افسردگی و بے باکی یہ تمام خصائص، ان کی شخصیت کے گرد چاند کے ہالے کی ماند تھے جن پر تنقید و توصیف کا سلسلہ ان کی زندگی میں بھی چلتا رہا مگر کسی نے کسی بھی مجلس میں جون ایلیا کے شخصی انداز کی بنا پر ان کی توہین نہیں کی تھی افسوس کہ جیو جیسے معتبر ادارے اور ایک تعلیم یافتہ میزبان کی موجودگی میں بے شمار پروگراموں میں جون ایلیا کو ہونق خود ستائشی کا مجسم اور اپنی توقیر سے بے پرواہ بنا کر پیش کیا جاتا رہا ہے میں نے ابتدا میں عرض کیا تھا کہ سماج جب زوال آمادگی کی زد میں آ جائے تو پھر بہت سی حماقتوں کو سمجھنے ان پر گرفت کرنے اور احتجاج کرنے سے عاجز ہو جاتا ہے مذکورہ دو نامور ادبی شخصیات کے ساتھ ہونے والے سلوک پر معاشرے کی خامشی اسی بات کی عکاسی کرتی ہے چنانچہ جولائی کے پہلے ہفتے میں ایک پروگرام چلایا گیا جس میں نظم و غزل کے انتہائی بلند قامت شاعر اور مرکزی ادبی دھارے سے الگ شہرت سے بے پرواہ جناب مجید امجد کا کردار زیر بحث آیا ایک ڈمی مجید امجد پروگرام میں بیٹھے دکھایے گئے جو بدحواس، مفلوک الحال، فہم سے عاری، کم علم کم گوئی کا مجسمہ تھے۔ پروگرام کے شرکا نے مجید امجد کی ذاتی زندگی اور ان فن شعر گوئی کے اچھے پہلوؤں کا ذکر کیا مگر دودھ میں مینگنیاں ڈالنے سے باز نہ رہے اور ان کی کمزوریوں کا تضحیک آمیز ذکر کیا۔ کسی جرمن خاتون کے ساتھ ذہنی وابستگی اور اس کے ہمراہ بلا ٹکٹ عالم بے خودی میں کوئٹہ کا سفر کرنا، پھر انتہائی توہین آمیز طور پر مجید امجد کی رحلت کا ذکر کرتے ہوئے انتظامیہ و اہل ساہیوال کی بے حسی پر تنقید کے ساتھ ساتھ ان کی میت کچرا اٹھانے والی گاڑی میں لے جانے کا دلخراش ذکر کیا گیا۔ یہ سب کچھ مزاح اور ادب کے معیار سے گرا ہوا عمل تھا۔ میں یہ بھی نہیں کہوں گا کہ شعرا اور ادیب ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں کیونکہ خدشہ ہے کہ اس طرح کا جملہ حکومت کی معاشی ٹیم نے سن لیا تو خدانخواستہ اس اثاثے کو بھی نجکاری کمیشن کے حوالے کیا جا سکتا ہے البتہ یہ بات تو نوشتہ دیوار ہے کہ اہل قلم ادیب و دانشور شاعر افسانہ نگار کی تخلیقات کسی بھی زندہ معاشرے کا اجتماعی شعور و اثاثہ ہوتی ہیں جن کی تضحیک برداشت کی جا سکتی ہے نہ ان کی نجکاری ممکن ہے۔ مجھے یہ کہنا غیر ضروری لگتا ہے کہ جیو اور خبرناک کی ٹیم اپنے ان اعمال کی اصلاح  کرے اور معذرت خواہی بھی کیونکہ یہ تو کامن سینس کی بات ہے جس کی توقع ہر سنجیدہ مزاج انسان جیو سے بہر طور رکھنے کا حق رکھتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *