حکومت اور عوام: کورونا کی بڑھوتری کے یکساں ذمہ دار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب سے کورونا وائر س نے دنیا بھر کو متاثر کیا ہے تب سے اس کی وجوہات اس کے اثرات پر مسلسل بات ہو رہی ہے۔ کوئی اس کو دنیا میں بڑھتی ہوئی برائی کا نتیجہ قرار دے رہا ہے۔ کوئی اسے عالمی سازش قرار دے رہا ہے۔ کوئی اسے لیبارٹری سے نکلنے والے زہریلے وائرس کی وجہ بتا رہا ہے، کوئی ملک اپنے حریف ملک کو اس کا ذمہ دار ٹھہرا رہا ہے، غرض وجہ جو بھی ہو بہرحال یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ کورونا سے تاحال پوری دنیا ہی کلی یا جزوی طور پر متاثر ہوئی اور ہو رہی ہے۔

تاحال نوے لاکھ افراد پوری دنیا میں متاثر ہو چکے ہیں کم و بیش پانچ لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ہماے ملک میں بھی ایک لاکھ اسی ہزارکے قریب متاثرین ہو چکے ہیں۔ دنیا تقریباً ً رک چکی ہے۔ انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ پٹرول کی صنعت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ سیاحت پوری دنیا میں ختم ہو چکی ہے۔ ہوٹلنگ کا کاروبار بھی پوری دنیا میں شدید متاثر ہوا ہے۔ ائر لائنیں بند ہو چکی ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں کہ قبرستان بھر چکے اور تابوت کم ہو چکے ہیں۔

گو کہ اب آہستہ آہستہ دنیا کا نظام پھر سے چلنا شروع ہو ا ہے لیکن کورونا کے خوف نے دنیا کو تبدیل کر دیا اور لوگ اس خوف سے نکل نہیں پا رہے۔ جن ممالک نے اسے درخور اعتناء سمجھا اب وہ ممالک اس کا بری طرح شکار ہو چکے ہیں۔ جس کی وجہ صرف اور صرف ان کا وہ رویہ ہے جن پر عمل پیرا ہو کر انہوں نے ان ایس او پیز کو اپنانے سے انکار کر دیا جو کورونا سے بچاؤ کے لئے عالمی ادارہ صحت نے طے کی تھیں۔

ہمارے ملک میں بھی کم و بیش یہی صورتحال تھی۔ عید الفظر سے پہلے کورونا کے متاثرین کی تعداد قدرے کم رفتار سے بڑھ رہی تھی لیکن جیسے ہی عوام کے ”پر زور مطالبے“ پر حکومت نے لاک ڈاؤن کو ختم کیا تو بے صبری عوام نے تو شاید یہ سمجھا کہ یہ عید شاید ان کی آخری عید ہے اور اگر ابھی شاپنگ نہ کی تو پھر شاید کبھی موقع نہ ملے۔ اس وقت انہوں نے عالمی ادارہ صحت کی ان تمام ایس او پیز کو بالائے طاق رکھ دیا جس کی وجہ سے وہ کورونا سے محفوظ رہ سکتے تھے۔

آپ لاک ڈاؤن سے پہلے اور بعد کے اعداد و شمار دیکھیں تو آپ کو بخوبی انداز ہ ہو گا کہ اب ہمارا ملک کورونا کے شکار خطرناک ممالک کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے۔ آپ ملاحظ کیجیے کہ پوری دنیا نے کورونا سے بچاؤ کے لئے سنجیدہ رویہ اپنایا ہے لیکن ہمارے ملک کا تو باوآدم ہی نرالا ہے آپ مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ ماسک لگانا، سینی ٹائزر کا استعمال اور گلووز پہننے کا رجحان تو بہت ہی کم ہے۔ خیر اب جب حکومت کی طرف سے دکانداروں اور دفاتر کو پابندکیا گیا ہے کہ ماسک پہنے بغیر کوئی گاہک آپ کی دکان میں داخل نہیں ہو سکتا اور اس پر عمل نہ کیا تو پھر آپ کو جرمانہ اور دکان سیل کر دی جائے گی تو ا ب لوگوں نے مجبوری میں ماسک لگانا شروع کر دیا ہے۔

لیکن شاید اب پانی سر سے گزر چکا ہے کیونکہ ملک میں کورونا کے مریضوں کی تعداددو لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے اور جس میں آئے دن بڑی تیزی کے ساتھ اضا فہ ہو رہا ہے۔ اس صورتحال میں حکومت کے ہاتھ پاؤں پھولنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے کیونکہ ہمارے حکمران پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگرکورونا کے متاثرین میں اضافہ ہوا تو ان کے پاس نہ تو بستر نہ ادویات اور نہ ہی وینٹی لیٹرز ہیں۔ اب اس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ جس سرکاری ہسپتال میں ایک وارڈ کورونا کے لئے مختص کیا گیا تھا اب مریض زیادہ ہونے کی وجہ سے مزید وارڈزکو کورونا کے لئے مختص کیا جا رہا ہے۔

کورونا کے پھیلاؤ میں اگر ہم حکومت کی غلطی مان بھی لیں (جو حکومت نہیں مانتی) تو اس میں صرف حکومت کو ہی مورد الزام ٹھہرانا درست نہیں بلکہ حکومت کے ساتھ عوام بھی اس میں برابر کی شریک ہے کیونکہ لاک ڈاؤن میں عوام نے بالکل بھی سنجید ہ رویہ اختیار نہیں کیا جس کے نتیجے میں عالمی ادارہ صحت کوحکومت کو خط کے ذریعے بتانا پڑا کہ آپ نے لاک ڈاؤن کے دوران کسی ایک ایس او پیز کو پورا نہیں کیا۔ نتیجتاًحکومت کو دوبارہ لاک ڈاؤن لگانا پڑ رہا ہے جو جزوی طور پر لگایا جا رہا ہے اور اسے سمارٹ لاک ڈاؤن کا نام دیا گیا ہے جس میں ملک بھر کے ان علاقوں کو سیل کر دیا گیا ہے جہاں کورونا کے مریضوں کی نشاندہی ہو چکی ہے۔

وزیر اعظم صاحب کا یہ بیان کہ جولائی اور اگست میں کورونا کی شدت بڑھ جائے گی عوام میں اضطراب کا باعث بنا ہے، جس پر عوام کو سنجیدگی کے ساتھ مستقبل کی حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔ کورونا کی نہ ختم ہونے والی صورتحال کو دیکھتے ہوئے طبی ماہرین یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ شاید دنیا کو اب کورونا کے ساتھ ہی جینا پڑے گا تو ایسی صورت میں عوام کو ان تمام احتیاط کو زندگی کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے وہ زیادہ سے زیادہ محفوظ رہ سکیں۔

خیر سے اب دوبارہ عید آنے والی ہے اور عوام کو ایک مرتبہ پھر عید منانے کا اصرار کرے گی تو دیکھیں کیا ہوتا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن عقل کا تقاضا تو یہ ہے کہ عوام کوصورتحال کی سنگینی کا ادراک کرنا چاہیے کیونکہ اگر مغرب اور مسیحی دنیا ایسٹر کے تہوار کو سادگی کے ساتھ گھروں میں رہ کر منا سکتے ہیں تو مشرق اور مسلم دنیا ایسا کیوں نہیں کر سکتی؟ حج کے حوالے سے دنیا گوں مگوں کی کیفیت سے دوچار ہے۔ شنید ہے کہ مسلم دنیا اپنے لوگوں کو حج پر بھیجنے سے احتراز برت رہی ہے اور انڈونیشیا نے تو برملا اس کی تصدیق بھی کر دی ہے۔

سوال یہ ہے کہ ہماری عوام کورونا کو سنجید ہ کیوں نہیں لے رہی؟ معاشرے میں اتنی بے حسی کیوں ہے کہ کسی کی موت پر افسوس نہیں ہورہا؟ کیو ں کورونا کی ایس او پیزسے اجتناب برتا جا رہا ہے؟ اور کیوں کورونا کی بڑھوتری میں صرف حکومت کو ہی مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے جبکہ عوام اس میں برابر کی شریک ہے۔ آپ بنکوں، مالز یا سرکاری دفاتر کا مشاہدہ کریں تو آپ کو کم ازکم انٹری کے لئے تو عوام ایس او پیز کو پورا کرتی دکھائی دے گی لیکن اندر داخل ہو کر وہ دوبارہ اس کو بھول جاتی ہے اور اگر آپ نے کسی کو سماجی دوری، ماسک / گلوز پہننے کا استعمال کا کہہ دیا تو وہ آپ کو ایسے دیکھے گا جیسے آپ نے اسے کوئی غلط بات کہہ دی ہو۔

طبی ماہرین بار بار دہرا رہے ہیں کہ کورونا کی وجہ گندگی ہے اور اس کا بچاؤ بھی اسی میں ہے، اس لئے آپ کو اپنے گھروں اور ماحول کو صاف کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ جراثیم کا خاتمہ ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ اپنے گھروں میں سپرے کروائیں۔ اپنے ہاتھوں، منہ اور آنکھوں کو محفوظ بنائیں تاکہ کورونا کے اثرات سے محفوظ رہا جائے لیکن مجال ہے کہ طبی ماہرین کے ان تجاویز پر عمل درآمد کیا جائے۔ آپ مغرب کو دیکھیں وہاں ان تمام ایس پی پیز پر عمل کرتے ہوئے وہ اپنے آپ کو محفوظ بنانے کی سر توڑ کوشش کر رہے ہیں لیکن ہمارے ہاں بالکل بر عکس ہوتا رہا لیکن جیسے ہی کورونا کے متاثرین کی تعداد تیزی کے ساتھ بڑھی تب حکومت کو ہوش آیا کہ اب یہ ہمارا مسئلہ بن چکا ہے۔ اب حکومت کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں 1200 سے زائد مقامات کو سیل کر دیا ہے۔ مارکیٹوں کو پابند کیا گیاہے کہ نو ماسک، نو سروس کے اصول پر کاربند رہیں۔ عوام کو اس ضمن میں حکومت کے ساتھ مل کرمعاشرے کو محفوظ بنانے کی ضرورت ہے۔

ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ مغرب اپنی عوام کے لئے جو پلان بناتا ہے تو اس کو کامیاب اس لئے بنا لیتا ہے کیونکہ بیشتر ممالک میں آبادی کم ہے جیسے موجودہ صورتحال کو ہی دیکھ لیں کہ انہوں نے پورے ملک کی عوام کے کورونا کے ٹیسٹ کروائے لیکن ہمارے ہاں صورتحال اس کے برعکس ہے لیکن اب کیا کیا جا سکتا ہے لیکن آنے والی نسل کو اس مسئلے سے روشناس کرانے کی ضرورت ہے کیونکہ کم آبادی سے ہی بہتر منصوبے بنائے جا سکتے ہیں۔

ہاں اگر آبادی زیادہ ہو تو پھر وسائل بھی اسی تعداد میں ہونے چاہئیں اور وہ وسائل چند ہاتھوں تک مرکوز نہ ہوں۔ یہی سب سے بڑی وجہ ہے کہ حکومت کورونا پر کوئی ٹھو س اقدامات نہیں کر پارہی۔ جیسے طبی ماہرین کہہ رہے ہیں کہ کورونا کا علاج صرف ویکسین کے ذریعے ہی ممکن ہے اور اس پر پوری دنیا میں طبی ماہرین کام بھی کر رہے ہیں لیکن جب تک ویکسین بن نہیں جاتی تب تک عوام کو نہایت ذمہ داری کے ساتھ کورونا سے بچاؤ کی ایس او پیز پر نہ صرف خود عمل کرنا ہو گا بلکہ حتیٰ الوسع کوشش کرنی ہے کہ دوسروں کو بھی اس سے بچانا ہے۔

اپنی اپنی سطح پر کوئی فنڈ قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ماسک، گلوو ز اور سینی ٹائزر کو عام لوگوں تک پہنچایا جا سکے۔ ابھی تو معمول بنا چکا ہے کہ بڑی تعدادمعیاری اور غیر معیاری ماسک مہنگے نرخوں میں بیچے جا رہے ہیں لیکن کوئی پو چھنے والا نہیں ہے۔ اس ضمن میں حکومت اس کے نرخ کا تعین کرے اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔ بغیر ماسک کسی بھی شخص کو رعایت نہ دی جائے بلکہ موقع پر ہی اسے سزا اور جرمانہ عائد کیا جائے تاکہ ملک کا ہر شخص ماسک لگانے کو اپنا فریضہ سمجھے۔

یہاں عوام کو بھی اپنی ذمہ داری کو پورا کرتے ہوئے ماسک کے استعمال کو اپنی عادت بنا لینا چاہیے۔ محلوں، سوسائٹیوں سے گندگی کے ڈھیر ختم کیے جائیں اورعوام کو پابند کیا جائے کہ مختص کی ہوئی جگہ پر ہی کوڑا کرکٹ ڈالیں اور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کو پابند کیا جائے کہ کوتاہی کی صورت میں کوئی عذر قبول نہیں کیا جائے گا۔

قارئین میری رائے میں کورونا سے ممکنہ حد تک بچاؤ کی چند گزارشات ہیں کیونکہ ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ اب ہمیں کورونا کے ساتھ ہی جینا پڑے گا اس لئے اپنے آپ کو اور دوسروں کو محفوظ بنانے کے لئے ہم اپنی اپنی سطح پر جو ممکنہ اقدامات کر سکتے ہیں وہ ہمیں نہایت سنجیدگی کے ساتھ ضرور کرنے چاہئیں تاکہ ہم اپنے آپ کو ان لوگوں کی فہرست میں شامل کر وا سکیں جنہوں نے لوگوں کی زندگیاں بچانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ #

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *