کیا پاکستانی قوم نئے پاکستان کے لیے سنجیدہ ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چینی کا بحران ہو، آٹے کا فقدان یا پٹرول کی عدم دستیابی کا طوفان ہونیزجے آئی کی پھنکار ہو، مائنس ون کی للکار ہویا کورونا کی جھنکار ہو، ہماری اپوزیشن ہر قدم پر ہر مقام پر، ہر آہٹ پر اور ہر چوکھٹ پر سجدے کے لیے بے تاب اور عمران خان سے نجات کا خواب دیکھ رہی ہے۔ بد قسمتی سے ہمارا پورا معاشرہ بھی نفسا نفسی کے عالم میں گھرا ہوا ہے اور ”ہل من مزید“ سے آگے سوچ ہی نہیں رہا۔ میرا فائدہ، میرا مال، میرا خاندان، بس یہ ایک گردان ہے جو ہر شخص کی زبان پر ہے۔

اس خود غرضانہ سوچ کو عام ذہن میں خطرناک حد تک پہنچانے میں ہمارے قومی رہنماؤں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ رہنماء سیاسی بھی ہیں، مذہبی بھی ہیں اور انسانیت کی فلاح کا لبادہ اوڑھے بھی ہیں بد قسمتی سے ان میں ادیب اور شاعر بھی شامل ہیں۔ الغرض ہر شخص دنیا کی کامیابی کے لیے بے تاب اور ذاتی مفاد کے حصول سے شاداب ہونا چاہتا ہے مگراس کے بدلے میں دوسروں کا سکون برباد کر کے اپنے نئے جہان آباد کرنے کے خواہش مند بندے بھول جاتے ہیں کہ یہ کامیاب اوراچھی زندگی نہیں ہے۔

ایک اللہ کا بندہ اپنے پاس بیٹھے لوگوں سے باتیں کر رہا تھا کہ ایک آدمی نے سوال کیا کہ اچھی زندگی کا راز کیا ہے؟ یہ سن کر بزرگ اپنے ملازم سے بولے کہ سوپ کو پیالوں میں ڈال کر مہمانوں کے لیے لے آؤ۔ تھوڑی دیر میں مہمانوں کے سامنے پیالوں میں سوپ اور ساتھ ایک ایک گز لمبا چمچہ پڑا تھا۔ اب مہمان پریشانی سے لمبے چمچوں کو دیکھ رہے تھے۔ کچھ نے کھانے کی کوشش کی مگر اتنے لمبے چمچہ کی وجہ سے کھانہ سکے بلکہ اس کوشش میں اپنے کپڑوں پر سوپ بھی گرا لیا جبکہ باقی خاموشی سے یہ سب تماشا دیکھ رہے تھے۔

اس ساری صورتحال پربزرگ نے خود ایک چمچ پکڑ کر اس میں پیالے سے سوپ بھرا اور وہ لمبا چمچ اپنے سامنے بیٹھے شخص کے منہ میں ڈال دیا جو اس نے آسانی سے پی لیا۔ اب سب لوگوں نے راز جان لیا اورایک دوسرے کو سوپ پلانا شروع کر دیا اور یوں سب نے سوپ پی لیا۔ جب سب فارغ ہو گئے توبزرگ بولے ”جب ہم اپنے ارد گرد لوگوں کی ضروریات پوری کریں گے تو ہماری ضروریات بھی پوری ہونے لگیں گی اور یہی اچھی زندگی گزارنے کا راز ہے“ ۔

آج جب ملک کورونا جیسے مرض کا شکار ہے، معیشت کا پہیہ رکا ہوا ہے اور ہر ذی شعور انسان اتحاد اور محبت کے گیت گا کر قوم کی اجتماعی سوچ کو مثبت انداز دینے میں مصروف ہے وہاں عادی چوروں کا گروہ حسب معمول اپنے راگ الاپنے میں مصروف نظر آتا ہے۔ ان عادی چوروں کے گروہ میں اچھی خاصی تعداد اس وقت موجودہ حکومت میں بھی شامل ہے۔ حکومت میں شامل ان افراد اور اپوزیشن کے معاملات اور معمولات میں اس قدر مماثلت پائی جاتی ہے کہ یہ حقیقی زندگی میں دو جسم اور ایک جان کی عملی تصویر نظر آتے ہیں۔

بظاہر ایک دوسرے سے لڑتے اور صلواتیں سناتے ہوئے یہ برہمن کے پیروکاراور لکشمی کے پجاری، بغل میں چھری اور منہ میں رام رام کا آلاپ کرتے ہوئے اپنے ہی عوام کا گلا کاٹنے میں مصروف ہیں۔ مہاتما بدھ کی تعلیمات کا بھاشن دینے والا اور مغربی ایجنڈے کا گرویدہ، موم بتی گروہ ان کی پشت پناہی کے لیے ہر وقت موجود ہے۔ لیکن یاد رکھیں! ہم پرامید ہیں کہ ایک دن سب بدلے گا۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم ایک کامیاب زندگی کا آغازصرف اس وقت کر سکتے ہیں جب غلط کو غلط کہیں گے اور درست کو درست کہیں گے۔

مایوسی کفر ہے، حالات جتنے بھی برے ہو مگر نئے امکانات کا ظہور کبھی ختم نہیں ہوتا۔ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ سارا دن جلوہ افروز رہنے کے بعد جب سورج غروب ہورہاہوتا ہے تب تاریکی آہستہ آہستہ ہر سو چھا نا شروع ہو جاتی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ تھوڑی دیر میں ہر طرف اندھیرے کا راج ہو جائے گا مگر عین اسی لمحے چاند کی چاندنی سے ہر طرف روشنی پھیل جاتی ہے اور مکمل تاریکی کا سینہ چیرتی یہ روشنی سارے عالم کو روشن کر دیتی ہے، یوں ایک امکان کے بعد دوسرے امکان کو جگہ مل جاتی ہے۔

انسانوں کے ذہنوں اور رویوں میں تبدیلی لانا ایک لمبا سفر ہے جو تکلیف دہ اور مشکل ہونے کے ساتھ ساتھ صبر آزما ء بھی ہے۔ انسانی ذہن میں تبدیلی یک دم نہیں آتی۔ صدیوں سے تراشی گئی غلامی کی مقدس تصویروں اور نظریات کو اکھاڑنا ایک کٹھن کام ضرورہے مگر نا ممکن نہیں۔ جیسے کوئی مکان ایک دن میں تعمیر نہیں ہوجاتا۔ اس ایک مکان کی بنیادوں میں کئی اینٹیں خاموشی سے اپنے وجود کو دفنا کر اپنے اوپر نئی اینٹوں کو سجاتی ہیں۔

دفن ہونے والی اینٹیں جانتی ہیں کہ ان کی قربانی نئی اینٹوں کی قدر اور ستائش کا سبب بنے گی یوں ایک ایک اینٹ جوڑی جاتی ہے تب ایک مکان وجود میں آتا ہے۔ پاکستانی قوم کو اب جاگنا ہوگا اور اس مشکل اور کڑے وقت میں صبر سے کام لیتے ہوئے آنے والی نسلوں سے کیے گئے نیا پاکستان دینے کے وعدے کو نبھانا ہے نیز مقصد کے حصول کے لیے مشکل فیصلوں کو بھی خوشی سے قبول کرنا ہوگا۔ نیا پاکستان ضرور بنے گا مگر پہلے ہمیں اپنی ذہنی غلامی سے نکلنا ہوگا۔

سچ کو سچ کہنا اور جھوٹ کو جھوٹ ماننا ہو گا۔ ایک انگریز شاعر ولیم بلیک نے خوب کہا ہے اور اس کی یہ بات یقیناً یاد رکھنے والی بھی ہے ”عظیم کام صرف اس وقت ہی وقوع پذیر ہوتے ہیں جب انسان اور پہاڑ ملتے ہیں اور یقیناً کوئی بھی عظیم کام سڑک پر دھکم دھکا کرنے سے نہیں ہوتا، دراصل بڑے کام کے لیے بڑا عمل درکار ہوتا ہے“ ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستانی قوم نئے پاکستان کے حصول کے لیے سنجیدہ ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *