اپوزیشن کی ’اے پی سی‘ کہاں پھنس گئی ہے؟ اندر کی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جمعیت العلمائے پاکستان (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اسلام آباد میں ا اپنے دوسرے دھرنے کے لئے پارلیمنٹ میں دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو ایک پیشگی شرط سے امتحان میں ڈال دیا ہے تاکہ اس بات کا امکان زیرو ہو جائے کہ کوئی انہیں استعمال کر گیا ہے اور یہ کہ اگلا دھرنا نتیجہ خیز ثابت ہو سکے۔

ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے پیپلز پارٹی اور ”نون“ لیگ کو باور کروایا ہے کہ وہ متحدہ اپوزیشن کے مطالبات منوانے کی غرض سے اسلام آباد میں اپنی جماعت کے رضا کاروں کی مدد سے ایک اور منظم اور موثر دھرنا دیں گے جسے نتیجہ خیز بھی بنایا جائے گا لیکن پہلے ”نون“ لیگ اور پیپلز پارٹی انہیں لکھ کر دیں کہ ان کی لیڈرشپ اور کارکن ان تمام مطالبات کی منظوری تک ان کے ہمراہ ثابت قدم رہیں گے جو دھرنا دینے سے قبل اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں طے کیے جائیں گے اور دوسرا یہ کہ ان دونوں بڑی جماعتوں کی قیادت اور کارکن اس وقت تک دھرنے سے نہیں اٹھیں گے جب تک تمام مطالبات تسلیم نہیں کر لیے جاتے اور آخری مطالبہ منوا لینے تک جے یو آئی کے ساتھ دھرنے میں شریک رہیں گے۔

باور کیا جاتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے ملک کی دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی جو قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ میں موثر و فیصلہ کن کردار رکھتی ہیں، سے یہ تحریری گارنٹی اور حلف نامے ان کی طرف سے گزشتہ دھرنے کے دوران اپنائے گئے کردار کی روشنی میں طلب کیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمن جو ملکی سیاسی شطرنج کے ایک شاطر کھلاڑی مانے جاتے ہیں، نے ”نون لیگ“ اور پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادتوں کو اپنے ماضی کے تجربے کے حوالے سے اپنے تحفظات اور شرائط سے آگاہ کر دیا ہے اور واضح کر دیا ہے ”اس بار میں کوئی سیاسی رسک لینے کو تیار نہیں“

واضح رہے گزشتہ برس اکتوبر میں مولانا نے اسلام آباد میں دھرنا رینے کے لئے جب کراچی سے ”آزادی مارچ“ شروع کیا تو اسے موثر بنانے کی غرض سے پہلے پی پی پی کے لیڈر، سابق صدر مملکت آصف زرداری سے ملاقات کی کوشش کی مگر کامیاب نہیں ہوپائے، پھر سکھر میں رات بھر کا مختصر پڑاؤ کرکے کوشش کی کہ ان کی کم از کم پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو سے ہی ملاقات ہو جائے مگر وہ اس میں بھی ناکام رہے اور جب ان کا ”آزادی مارچ“ لاہور پہنچا تو مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف نے سروسز ہسپتال میں داخل ”نون لیگ“ کے قائد نواز شریف سے مزاج پرسی کے لئے ملنے تک نہ دیا، جو (شہباز شریف) خود مولانا کے ”آزادی مارچ“ اور آنے والے اسلام آباد دھرنا کے متوقع دباؤ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ نواز شریف کو باہر بھجواتے کی ڈیل کرنے میں مصروف تھے۔

سنجیدہ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی خود بڑی اور موثر اپوزیشن پارٹیوں کے مابین ایک دوسرے پر اعتماد کا فقدان اور بحران پایا جاتا ہے، پیپلز پارٹی کو خدشہ لاحق ہے کہ ”نون لیگ“ جو پہلے ہی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ڈیل کر چکی اور مزید معاملہ کرنے میں مصروف ہے، کہیں اسے بیچ نہ دے، نون لیگ کو ڈر ہے کہیں آصف زرداری ان کے ساتھ ہاتھ نہ کر جائیں اور ان کی قیمت پر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اپنے معاملات سیدھے نہ کر لیں، مولانا فضل الرحمن کو دھڑکا لگا ہے کہ دونوں بڑی اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر عین موقع پر ان کے ساتھ ہاتھ نہ کرجائیں اور ان کی جماعت اور جاں نثار کارکنوں کی مدد سے پیدا شدہ دباؤ کو اپنے اپنے سیاسی مفادات کے لئے کیش نہ کروالیں جبکہ ”نون لیگ“ اور پیپلزپارٹی خائف ہیں کہ کہیں مولانا انہیں بیچ کر پتلی گلی سے نکل نہ جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *