عورتوں میں پولی سیسٹک اووریز کا قصہ کیا ہے آخر؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہفتہ واری کلینک تھا۔ چوبیس پچیس سالہ لڑکی اندر داخل ہو ئی، مائل فربہی، خوش شکل۔

“جی فرمائیے، میں کیا کر سکتی ہوں آپ کے لئے؟” ہم نے اس کے کرسی پہ بیٹھتے ہی پوچھا،

“ڈاکٹر صاحب ، مجھے پی سی او کی شکایت ہے”

“بیٹا، آپ اپنی تکلیف بتائیں گی مجھے” ہم نے مسکرا کے پوچھا،

“جی، یہ ساری رپورٹیں ہیں میرے پاس پولی سیسٹک اووریز کی” وہ بولی،

“وہ میں بعد میں دیکھوں گی پہلے آپ مجھے اپنی تکلیف بتائیے”

ہم نے مزید مسکرا کے کہا، ہمیں کچھ یاد آ گیا تھا۔ یہ خانہ خراب یادداشت کا خانہ، کچھ بھولنے ہی نہیں دیتا۔ اب دیکھیے، ہمیں جھٹ سے یاد کروا دیا کہ گزرے زمانوں میں ہم بھی اسی حرکت کے مرتکب ہو چکے تھے۔

اسی کی دہائی تھی۔ ہم ایف ایس سی کے بعد میڈیکل کالج میں داخلے کے انتظار میں دن گن گن کے کاٹ رہے تھے۔ ایک دن صبح سو کے اٹھے تو گلے میں کچھ خراش سی تھی اور ہلکا سا زکام بھی محسوس ہو رہا تھا۔ شام ہوتے ہوتے حرارت بھی ہو گئی۔ خیر رات لوٹ پوٹ کے گزاری۔ صبح ہوتے ہی اماں نے سی ایم ایچ لے جانے کا عندیہ ظاہر کیا۔ ہسپتال گھر سے قریب تھا اور ہماری ہر کام خود کرنے کی عادت و صلاحیت تب بھی زوروں پہ تھی سو تنہا ہی سی ایم ایچ روانہ ہو گئے۔ اماں نے بھی زیادہ اعتراض نہیں کیا کہ ہم سے بخوبی واقف تھیں ۔

جیسے ہر مریض کو ابتدائی طور پہ فیملی فزیشن دیکھتا ہے اور پھر اگر ضرورت ہو تو سپیشلسٹ ڈاکٹر کی طرف بھیجا جاتا ہے۔ اسی طور یہ کام سی ایم ایچ میں سٹاف سرجن کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ خواتین کی سٹاف سرجن میجر شاہدہ ملک معروف نیوز کاسٹر شائستہ زید کی بہن تھیں۔ آپس کی بات ہے، ہمیں بہت پسند تھیں۔ خوبصورت، نک سک سے تیار، رعب دار، ساڑھی میں ملبوس، ٹھسے سے اپنی کرسی پہ بیٹھی ہوتیں اور ناز و انداز سے مریض دیکھتیں۔

اپنی باری پہ ہم ان کے سامنے جا بیٹھے، جونہی انہوں نے پوچھا، کیا تکلیف ہے؟ ہم نے بخار کے باوجود اپنی شوخی قائم رکھتے ہوئے کہا، ” جی، ہمیں ریسپائرٹری انفیکشن ہے”

وہ چونکیں اور ذرا بلند آواز میں بولیں، ” کیا کہا ؟”

ہم کہاں کے نبض شناس تھے جو ماتھے کی تیوری بھانپ لیتے، اس لئے دوبارہ اٹھلا کے بولے ” جی مجھے ریسپائریٹری ٹریکٹ انفیکشن ہے “

لیجیے جناب، ہمارا تو کام ہو گیا۔ وہ جھاڑ پڑی کہ حرارت بھی ہوا ہوئی اور زکام بھی اڑنچھو۔ ویسے کچھ خاص سمجھ نہیں آئی کہ مزاج یار اس قدر برہم کیوں ہوا؟

میڈیکل کالج کی تنگنائیوں سے گزرتے گرتے پڑتے ڈاکٹر بن گئے۔ پانچ برس میں ایک ہی سبق بار بار دہرایا گیا کہ مریض کا علاج تفصیلی احوال پوچھنے سے شروع ہوتا ہے۔ تفصیل بھی وہ جو شرلاک ہومز کو بھی شرمائے۔ کسی بھی کتاب اور کسی بھی گائیڈ لائن میں مرض کی علامات سو فیصدی ایک جیسی نہیں ہوتیں کہ ہر مریض مختلف ہوتا ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے دس لوگوں کو ساتھ کھڑا کریں تو سب کے پاس دو آنکھیں، ناک، منہ اور دو کان ہوں گے مگر کیا وہ ایک دوسرے سے متشابہ ہوں گے؟ یہی حال ہر جسم کے اندرونی نظام کا ہے۔ بنیاد ایک سی ہے لیکن ہر کسی کی انفرادیت اپنی اپنی۔ سو کسی بھی مرض کو پہچاننے کے لئے ضروری ہے کہ مریض کی ہسٹری تفصیل سے پوچھی جائے اور اپنے دماغ میں حساب کتاب لگایا جائے کہ یہ مریض کس خانے میں بیٹھے گا۔

اپنے منہ سے پولی سیسٹک اووریز(polycystic ovaries)  کی تشخیص کے ساتھ آنے والی جواں سال لڑکی نے ہمیں نہ صرف کچھ یاد دلا دیا تھا بلکہ آپ ہی آپ مسکرانے پہ مجبور کر دیا تھا اور یہ بھی کہ تب مزاج یار کیوں برہم ہوا تھا ؟ ایک اچھے طبیب کو علامات چاہیے ہوتی ہیں، براہ راست تشخیص کا بیان نہیں کہ اس میں غلطی کا اندیشہ ہوا کرتا ہے۔

اور یہ جو پولی سیسٹک اووریز کا معاملہ ہے تو یہ مرض ہے بھی اور نہیں بھی۔ ماہانہ نظام نشیب وفراز کا شکار ہو، بانجھ پن کا مسئلہ ہو، وزن بےطرح بڑھ رہا ہو، جسم پہ فالتو رواں اگ رہا ہو، چہرے پہ مہاسے بہار دکھا رہے ہوں، لیجیے جناب سب بلائیں اووریز یا بیضہ دانی کے سر پہ کہہ کے منڈھ دی جاتی ہیں کہ اووریز پولی سسٹیک ہو گئیں۔

سوال یہ اٹھتا ہے کہ بیضہ دانی کی یہ حالت کیوں ہوئی؟ کیا عوامل کارفرما رہے؟ اب علاج کس کا کرنا ہے، بیضہ دانی کا یا عوامل کا؟

پیدائش کے وقت ہر دو بیضہ دانی میں دس لاکھ کے قریب بیضے یا انڈے پائے جاتے ہیں جو تیرہ چودہ برس کی عمر میں ماہانہ نظام شروع ہونے کے وقت دو لاکھ رہ جاتے ہیں۔ دماغ میں موجود پٹیوٹری گلینڈ ہر ماہ ایسے ہارمون بناتا ہے جو بخط مستقیم بیضہ دانی پہ اثر انداز ہوتے ہیں اور اس کے نتیجے میں کچھ انڈے بڑے ہونا شروع ہوتے ہیں۔ان میں سے ایک ہوشیار اور چست انڈا دوسرے انڈوں کی نسبت حجم میں سبقت لیتے ہوئے بیضہ دانی کی دیوار چیر کے باہر نکل آتا ہے۔ بیضہ دانی کی باہر کی دنیا میں اس کی حیات چوبیس ساعتوں پہ محیط ہوتی ہے۔ اگر اس دوران مادہ منویہ کا ننھا سا قطرہ بھی اس تک پہنچ جائے تو ایک نئی زندگی کا آغاز ہو جاتا ہے۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو یہ بیضہ اپنی موت آپ مر جاتا ہےاور اگلے ماہ سے پھر ماہواری نظام شروع۔

کئی عوامل کے زیر اثر پٹیوٹری گلینڈ کے ہارمونز کے زیر اثر بیضہ حجم تو حاصل کر لیتا ہے لیکن بیضہ دانی کے غلاف میں شگاف ڈال کے باہر نہیں نکل سکتا، سو بیضہ دانی کے اندر ہی محصور ہو جاتا ہے۔ اگر یہ صورت حال نہ بدلے اور بیضہ دانی کے حصار میں بہت سے بیضے اکھٹے ہو جائیں، بیضہ دانی کی پرتیں بہت سخت ہو جائیں تو یہ صورت حال پولی سیسٹیک اووریز یا پی سی او کہلاتی ہے۔ اس کی تشخیص الٹرا ساؤنڈ کے ذریعے کی جاتی ہے۔

بیضے کے محصور رہ جانے سے ہارمونز کے طبعی اخراج میں کمی بیشی کی وجہ سے ماہانہ نظام بگڑتا ہے، بانجھ پن کا مسئلہ شروع ہوتا ہے ، چہرے پہ کیل مہاسے رواں اور جسم پہ مردانہ قسم کے سخت بال نکلنا شروع ہو جاتے ہیں۔

پی سی او یا پولی سیسٹک اووریز اگلے مرحلے پہ سنڈروم میں بدل سکتی ہیں اگر زنانہ ہارمونز میں اتار چڑھاؤ زیادہ ہونے کے ساتھ ساتھ مردانہ ہارمونز کی مقدار بھی جسم میں بڑھ جائے۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ پولی سیسٹک اوویرین سنڈروم اہم مسئلہ ہے لیکن بدقسمتی سے پی سی او کی بازگشت میں کہیں گم ہو جاتا ہے۔

مرغا پہلے یا انڈا کے مصداق یہاں پھر سوال اٹھتا ہے پی سی او کی گردن پکڑی جائے یا ان عوامل کی جو بیضے کے خروج کا راستہ روک کے تمام ہارمونز کو تہہ وبالا کر دیتے ہیں۔

ہمیں پبلک فورم پہ آگہی دینے کا شوق تب بھی تھا جب ہم پاکستان میں ہوا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک این جی او کے زیر اہتمام اسلام آباد کے ایک گرلز کالج میں پی سی او کے موضوع پہ بات کرنے جا پہنچے۔ ہال میں کم و بیش دو تین سو طالبات موجود تھیں۔ لیکچر سب نے بہت اشتیاق سے سنا اور اس کے بعد ستر فیصد نے ہمارے کلینک آ کے ملنے کا عندیہ دیا کہ سب پی سی او کی زخم خوردہ تھیں۔

پولی سیسٹک اووریز بننے میں کیا عوامل ہیں اور اس کا علاج کیسے ہونا چاہیے؟ اس کے لئے آپ کو پڑھنا پڑے گا ہمارا اگلا کالم!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply