مطیع اللہ جان: کیا اسیری ہے، کیا رہائی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مطیع اللہ جان نے سوال اٹھایا تو خود اٹھا لیا گیا۔ سلگتے سوال کا جواب نہ ہو تو سوال کرنے والا اسی عذاب سے گزرتا ہے۔ مطیع اللہ کی خود سری، شوریدہ سری اور باغیانہ روش نے ایک حشر اٹھا رکھا تھا۔ اس کو بزور مطیع و فرمانبردار بنانے والے آج عجیب مخمصے کا شکار ہوں گے۔ صحافتی برادری اور سول سوسائٹی نے اس واقعے کے خلاف جس طرح فوری، بھرپور اور منظم رد عمل دیا اس کی وجہ سے ”نامعلوم“ اغوا کاروں کو ”مغوی“ کو محض چند گھنٹوں کے بعد ہی رہا کرنا پڑا۔

ہم تو سمجھ رہے تھے کہ ”نامعلوم“ اغوا کار مطیع اللہ جان کی دیوانگی اور شوریدہ سری کو قابو میں لاتے ہوئے کم از کم اسے عمر چیمہ تو ضرور بنا دیں گے مگر برا ہو سول سوسائٹی اور صحافتی برادری کا کہ مصلحین قوم دو چار دن بھی مطیع کی نازبرداری نہ کر سکے۔ انہیں چارو نا چار مطیع اللہ جان کو مزید وبال جان بننے سے قبل رہا کرنا پڑا۔ مصلحین کا وار ذرا اوچھا پڑے اور انسان حالات کی بھٹی میں تپ کر کندن بن گیا ہو تو مطیع اللہ جان بن جاتا ہے ورنہ بارہا ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ چند روز بعد سرکش باغیوں کی مسخ شدہ لاشیں کسی ویرانے سے ملتی رہی ہیں۔

جس تیزی سے نو گرفتار مطیع اللہ مصلحین اور محبان وطن کے چنگل سے آزاد ہو ہے اس پر وہ سب کف افسوس ملتے ہوئے حسرت و یاس سے کہتے ہوں گے کہ کاش کوچۂ صحافت کی یہ ”آفت“ تیس سال قبل ملٹری اکیڈمی کاکول سے نہ نکالی جاتی۔ ادھر مطیع اللہ جان اپنے ساتھ اس قدر نرم اور غیر متوقع سلوک کو دیکھتے ہوئے حیرت و استعجاب سے بقول جگر مراد آبادی یوں شکوہ کناں ہو گا

”اس“ نے اپنا بنا کے چھوڑ دیا
کیا اسیری ہے، کیا رہائی ہے

اللہ اللہ! آج محبان وطن کا ضعف اور مصلحت پسندی دیکھ کر یقین نہیں آتا کہ یہ وہی محکمہ ہے جس کے طنطنے، دبدبے اور قبضے کا یہ عالم تھا کہ اسے ”حساس“ ادارے جیسے مبہم مگرباوقار اور با اعتبار نام نامی سے یاد کیا جاتا تھا۔ پھر مطیع اللہ جیسے کچھ سر پھروں نے ہمت کر کے مقتدر ادارے کی اصطلاح استعمال کی۔ یہ نام کچھ بدنام ہوا تو کچھ تخلیقی صلاحیتوں اور ذہنی اپچ کے حامل انشا پردازوں نے اس محکمے کے جملہ کمالات و برکات کو ”اسٹیبلشمنٹ“ جیسے معتبر اور وجیہ و شکیل پردے میں چھپانے کی کامیاب کوشش کی۔

اس رومانوی اصطلاح نے ملک گیر ہی نہیں عالمگیر شہرت پائی۔ یہ اصطلاح بڑ ے تزک و احتشام سے جاری و ساری تھی کہ بے لگام خواہشوں کا رزق بننے لگی۔ بادشاہ گری جب سیاست کی صنم تراشی کی حدود میں داخل ہوئی تو صلح جو اور مرنجاں مرنج نواز شریف نے علم بغاوت بلند کر کے خلائی مخلوق کی جامع اور معنویت سے بھرپور اصطلاح وضع کی۔ ابھی اس نام کی گونج فضاؤں میں ہی تھی کہ موجودہ وزیراعظم نے ہر خرابی کی جڑ اشرافیہ اور مافیا کو قرار دیا۔

جس انوکھے انداز سے دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن منعقد کیے گئے اور جس طرح مذکورہ سال کو ”تبدیلی“ کا سال قرار دے کر دشمن کو ووٹ کی طاقت سے شکست دینے کے ارادے کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا گیا، اس سے مذکورہ محکمے کی ساکھ راکھ میں ملنے لگی۔ جب لا ڈلوں کے لاڈلے نے ملک کی معیشت سمیت ہر چیز کا بیڑا غرق کر دیا اور لاکھ کا گھر خاک کر دیا تو ہر کوئی محکمے کے منہ کو آنے لگا۔ پھر تو عوام میں ایسے ایسے نام عام ہوئے کہ جنہیں دہرانا بھی کار محال ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے مطیع اللہ کے دن دیہاڑے اغوا کے واقعے کو کھلی لا قانونیت اور ریاست کے اندر ریاست کی موجودگی سے تعبیر کیا۔ ادھر چند گھنٹے میں یہ واقعہ سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔ نجم سیٹھی کی طرف سے چلائی جانے والی دستخطی مہم بھی توقع سے زیادہ کامیاب رہی۔ محبان وطن کی یہ خواہش دل میں ہی رہی کہ وہ مطیع اللہ کو سبق سکھا کے ریاست کا وفادار نہ بنا سکے۔ ناپسندیدہ جج جناب جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی اہلیہ کے ہمراہ مطیع اللہ کے گھر آمد بھی ایک حیران کن واقعہ ہے۔ اس سے قبل کہنہ مشق اور باغی سیاستدان جناب جاوید ہاشمی کی طرف سے محکمے کی عزت افزائی بھی ہو چکی تھی۔ تین دن قبل نیب نیازی گٹھ جوڑ کا شکار ہونے والے خواجہ برادران کو سپریم کورٹ سے رہائی کا پروانہ مل چکا ہے۔ اس کیس میں سپریم کورٹ کی طرف سے دیے جانے والے ریمارکس نیب کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوں گے۔

یہ سب واقعات یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ غیر سیاسی اداکاروں کی سیاست پر گرفت کمزور پڑتی جارہی ہے اور انہیں اپنے سیاسی کردار کا از سر نو تعین کرنا ہو گا۔ مطیع اللہ جان جیسے آٹھ دس مزید سوال اٹھانے والے سر پھرے منظر عام پر آ گئے اور سیاست دانوں میں اتحاد و یکجہتی آ گیا تو ان غیر سیاسی اداکاروں کو اپنا بوریا بستر گول کرنا ہی پڑے گا۔ ملک کے ہر محب وطن اور جمہوری سوچ رکھنے والے فرد کا قومی و ملی فرض ہے کہ وہ مطیع اللہ جان جیسے لوگوں کا ساتھ دے جو ملک میں حقیقی جمہوریت اور آئین و قانون کی بالا دستی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *