نئے صوبوں کا قیام: حقیقت یا بے وقوف بنانے والا بہلاوا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تمام سیاسی جماعتیں جنوبی پنجاب، ہزارہ، بہاولپور صوبہ کا نعرہ محض سیاسی و انتخابی فائدے کے لئے لگاتی رہی ہیں۔ ووٹ لینے کے بعد سب کچھ بھول کر ہر حکومت سارا ملبہ اپوزیشن پر ڈال دیتی ہے۔ اب ایک مرتبہ پھر یہی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ مرکز اور پنجاب میں حکمران جماعت تحریک انصاف نے جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام کے لئے صوبائی اسمبلی میں بل پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ فیصلہ لاہور میں وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت اجلاس میں کیا گیا جس میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار، جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے وزرا، ارکان پارلیمنٹ نے شرکت کی، اجلاس میں طویل غور و خوض کے بعد جنوبی پنجاب صوبہ پر ”سیاست“ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اجلاس کے شرکا نے موقف اختیار کیا کہ ہم جنوبی پنجاب صوبہ کے نام پر ووٹ لے کر اقتدار میں آئے ہیں جنوبی پنجاب صوبہ محاذ نے تحریک انصاف میں ضم ہونے کا اعلان اس معاہدے پر سربراہ تحریک انصاف، وزیراعظم عمران خان کے دستخط موجود ہیں۔ اب جنوبی پنجاب کے ارکان پارلیمنٹ وفاقی و صوبائی وزرا کے لئے دو سال میں صوبہ نہ بننے بارے جواب دینا مشکل ہوچکا ہے۔ ظاہر ہے کہ آئندہ الیکشن کے لئے پھر عوام کے پاس جانا ہے۔

اس تناظر میں جنوبی پنجاب کا خطرہ جو 3 ڈویژن اور 11 اضلاع پر مشتمل ہے، اس کے عوام کو بے وقوف بنانے کا یہ فیصلہ وزیراعظم عمران خان کی موجودگی میں کیا گیا ہے۔ تحریک انصاف بخوبی آگاہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے صوبہ بہاولپور، جنوبی پنجاب، ہزارہ کے لئے بل جمع کرا رکھے ہیں جس کی پیپلز پارٹی نے بھی حمایت کی ہے۔ مسلم لیگ ن یہ بل کسی صورت واپس نہیں لے گی۔ ن لیگ تین نئے صوبوں کا مطالبہ کر رہی ہے جو عملاً ناممکن ہے۔ جغرافیائی طور پر ملتان ڈویژن 4، ڈی جی خان بھی 4 اضلاع جبکہ بہاولپور تین اضلاع پر مشتمل ہے۔ مجوزہ جنوبی پنجاب میں بھکر کو شامل کر کے 12 اضلاع بنتے ہیں جبکہ بہاولپور صوبہ متوقع طور پر صرف تین اضلاع پر مشتمل ہوگا۔

مسلم لیگ (ن) حکومتی بل کی صرف اس صورت میں حمایت کرے گی کہ جنوبی پنجاب سمیت بہاولپور اور ہزارہ صوبہ کے لئے بھی بل اسمبلی میں پیش کیے جائیں۔ تحریک انصاف نے 3 صوبوں کے لئے بلوں کی مخالفت کا فیصلہ کیا ہے۔ تمام بڑی جماعتوں تحریک انصاف، ن لیگ، پیپلز پارٹی، کے پی کے میں اے این پی سب کو علم ہے کہ ان کی مرضی و منشا کے مطابق نئے صوبے نہیں بن سکتے اور وہ ایک دوسرے کے مجوزہ صوبوں کی حمایت کے لئے تیار نہیں تو پھر کس طرح جنوبی پنجاب صوبہ کا قیام ممکن ہے جس کے لئے تحریک انصاف نے صوبائی اسمبلی میں بل جمع کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ سعی لاحاصل صرف سیاسی نمبر بنانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ صورتحال کچھ یوں ہے کہ بلوچستان میں پشتون بیلٹ کے شہری اپنے لئے صوبہ مانگ رہے ہیں۔ اردو بولنے والے سندھ میں نئے صوبے کا قیام چاہتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں ہزارہ بیلٹ کے عوام پختونوں سے الگ ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں جس کے لئے مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنے منشور اور انتخابی وعدے کے مطابق اسمبلیوں میں بل بھی جمع کرا رکھے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نئے صوبوں قیام بارے سیاسی جماعتیں مجبور اور بے بس ہیں ”فیصلہ سازوں“ نے نئے صوبے نہ بنانے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔

استدلال یہ ہے کہ اگر سرائیکیوں کو صوبہ دیا گیا تو پھر ایم کیو ایم اور ہزارہ والوں کو کس طرح اور کن بنیادوں پر صوبوں سے روکا جائے گا۔ بلوچستان میں پشتون بیلٹ کے لئے الگ صوبہ کے قیام کے مطالبہ کو کسیے مسترد کیا جائے گا۔ جنوبی پنجاب صوبہ کا قیام ایک نیا پنڈورا بکس کھول دے گا پھر اس بکس کو بند کرنا کسی کے بس میں نہیں ہوگا۔

اسٹیبلشمنٹ، سرائیکی، ہزارہ، اردو، پشتون اقوام کے نام پر صوبوں کے کسی طور پر حق میں نہیں ہے جبکہ انتظامی بنیادوں پر بھی تین، چار صوبوں کا قیام ممکن نہیں، این ایف سی ایوارڈ کے تحت وسائل، کی تقسیم چار صوبوں میں مسئلہ بنا ہوا ہے سابق فاٹا کو کوئی صوبہ اپنے فنڈز پر کٹ لگوا کر رقم دینے کو تیار نہیں، مشترکہ مفادات کونسل بھی صوبوں اور مرکز میں وسائل کی تقسیم، رائلٹی کا مسئلہ حل کرانے میں دقت محسوس کر رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ آمنے سامنے ہیں مرکز اور سندھ میں ٹھن چکی ہے۔ اس تناظر میں چھ، سات مجوزہ صوبوں اور مرکز کے درمیان این ایف سی ایوارڈ کے تحت وسائل کی قابل قبول تقسیم کیونکر ممکن ہوگی۔

نئے صوبوں کے قیام عملی طور پر ناممکن ہے۔ یہ حقیقت مرکز، صوبوں، سیاسی جماعتوں، اسٹیبلشمنٹ اور دیگر تمام سٹیک ہولڈرز پر روز روشن کی طرح عیاں اور واضح ہے اس کے باوجود کوئی سیاسی جماعت نئے صوبے کے قیام کا اعلان کرتی ہے تو اس کی حقیقت ایک سراب سے زیادہ نہیں۔ صرف انتخابی وعدوں، پارٹی منشور کے تحت خانہ پری کی جا رہی ہے جیسا کہ ماضی میں ن لیگ، پیپلز پارٹی کی حکومتوں نے کی تھی۔ تحریک انصاف جنوبی پنجاب صوبہ کے لئے بل پیش کر کے عوامی سطح پر سرخرو ہونا چاہتی ہے۔

تحریک انصاف جنوبی پنجاب صوبہ کابل پیش کر کے (ن) لیگ کو ایکسپوز کرنا چاہتی ہے مقصد اور کوشش صوبہ بنانے کی نہیں ہے کیونکہ نیا صوبہ نہ بنانے کے متبادل کے طور پر ملتان اور بہاولپور سیکرٹریٹ قائم کر دیے گئے جس کے لئے بجٹ اور نئی آسامیوں کا اعلان ہوچکا ہے جنوبی پنجاب کے عوام کو سیکرٹریٹ کے قیام پر ہی گزارہ کرنا ہوگا، نیا صوبہ سرائیکیوں، پشتونوں، ہزارہ وال اور اردو بولنے والوں کو کبھی نہیں ملے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *