قرارداد مقاصد: اعتراضات کے جوابات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند روز ہوئے ’ہم سب‘ پر اپنے اک مضمون بعنوان ”پاکستان کا پہلا ’اسلامی قدم اور‘ کافروں ’کے اعتراضات“ میں قرار داد مقاصد پیش کیے جانے کے موقع پر دستور ساز اسمبلی کے ممبران کی طرف سے ترامیم کی صورت میں اٹھائے گئے اعتراضات کا لب لباب بیان کیا گیا تھا۔

چند ’معلوم صلاح کاروں‘ کی یہ ’پر زور فرمائش‘ تھی کہ چونکہ ہر ’شکوہ‘ کا اک ’جواب شکوہ‘ ہوتا ہے۔ اس لیے ان ’کافروں‘ کے اعتراضات کا جواب دینا بھی ’ایمان میں اضافے کے لیے اشد ضروری‘ ہے۔ زیر نظر مضمون اسی ’ایمانی طاقت‘ کے جذبے سے سرشار ہوکر لکھا گیا ہے۔ ’خدا‘ ہم سے راضی ہو۔

یہ مضمون پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے ممبران کی طرف سے قرارداد مقاصد کے حوالے سے دی گئی تفصیلات، تاویلات اورتشریحات کے چیدہ چیدہ نکات پر مشتمل ہے۔ اس سلسلے میں وزیر اعظم لیاقت علی خان اور اپوزیشن لیڈر سریس چندرا چٹوپاڈھیایا کی تقریریں انتہائی اہم ہیں۔

ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی:

مذہب اور سیاست کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ کیوں کہ ہماری عقل، مذہب سے مزین ہے اور ہمارا مذہب، عقل سے آراستہ ہے۔ نظریہ منقسم شخصیت کو نہیں مانا جا سکتا۔ اسی طرح یہ بھی نہیں تسلیم کیا جا سکتا کہ ہماری شخصیت کے چند پہلو کی آرائش تو عقل سے ہو اور دیگر چند پہلو کی زینت ایمان کی دولت سے کی گئی ہو۔ میرا یہ ماننا ہے کہ مذہب کی نسبت، سیاسی بنیادوں پر ہونے والی جنگیں انسانیت کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہوئی ہیں۔

مولانا شبیر احمد عثمانی:

اسلام اس تصور کا کبھی قائل نہیں رہا کہ مذہب، خدا اور انسان کا ذاتی معاملہ ہے اور یہ کہ مذہب کا انسان کے سیاسی اور سماجی تعلقات سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلامی ریاست سے یہ مراد ہرگز نہیں ہے کہ وہاں پر ”خدا کی طرف سے مقررکردہ مذہبی رہنماؤں کی حکومت“ ہو گی۔

اسلامی ریاست کا مطلب ایسی ریاست ہے جو اسلام کے اعلیٰ اور بہترین اصولوں پر چلائئی جائے۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی بھی ریاست جس کی بنیاد چند اصولوں پر رکھی گئی ہو، وہ اصول چاہے الہیاتی ہوں یا دنیاوی، اس ریاست کو صرف وہی لوگ چلا سکتے ہیں جو ان اصولوں پر یقین رکھتے ہوں۔

اسلام نہ تو بادشاہت کا وراثتی حق تسلیم کرتا ہے اور نہ ہی قوت اور دباؤ سے حاصل کی گئی حاکمیت کو۔ یہ حق صرف لوگوں کا ہے۔ اور یہ حق دینے کی پہل صرف اسلامی ریاست نے کی ہے۔

مسٹر برات چندرا منڈال:

عرب، جہاں اسلام آیا، نہ تو وہاں آئین کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی گئی ہے اور نہ ترکی میں۔ یہاں علما اسلامی اصولوں پر اصرار کر رہے ہیں۔ بانئی پاکستان نے کہا تھا کہ پاکستان ایک سیکولر ریاست ہو گی۔ ہم بہت بڑی غلطی کر رہے ہیں۔ مذہب لوگوں کا تو ہو سکتا ہے لیکن ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔

میاں محمد افتخار الدین:

عملی طور پر برٹش ایمپائر کا ہر ملک اپنی اتھارٹی بادشاہ کی وساطت سے خدا سے ہی حاصلصل کرتا ہے۔ تو خدا کے نام سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ خدا کی طرف سے اتھارٹی لوگوں کو ملی ہے، نہ کہ ریاست کو۔

ضروری نہیں ہے کہ چونکہ ہم نے لفظ ”اسلامی ریاست“ استعمال کیا ہے، تو یہاں عدل و انصاف ہو۔ اکثر ایسا ہوا ہے کہ اسلامی الفاظ استعمال کیے گئے ہیں لیکن اسلامی اصولوں کی پیروی نہیں کی گئی۔ لہذا اقلیتوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔

معاشی آزادی ہی اصل آزادی ہے۔ جب تک لوگ معاشی طور پر آزاد نہیں ہوتے، اصل جمہوریت نہیں آ سکتی۔
سردار عبدالرب نشتر:

کیا یہ ضروری ہے کہ ہم ابراہم لنکن کا یہ جملہ کہ ”لوگوں کی حکومت، لوگوں کے لیے اور لوگوں کے ذریعے“ ان سے مستعار لے کر اسے ہم اپنی قرارداد مقاصد کے ساتھ لگائیں۔ جمہوریت، مساوات، آزادی اور برداشت کبھی بھی ”دائمی اصول“ نہیں رہے ہیں۔ ہمیں اقوام متحدہ کے کسی چارٹر کو ان سے عاریتاً لے کر اپنے آئین کا حصہ بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔

اور یہ بات کہ قائد اعظم کی وفات کے فوراً بعد ہی ہم قرارداد مقاصد کیوں لے آئے۔ تو سچی بات یہ ہے کہ قائد اعظم نے اقلیتوں کے ساتھ وعدے کیے ہوئے تھے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ قائد اعظم نے اکثریت کے ساتھ بھی بہت سارے وعدے کیے ہوئے تھے۔

آج دنیا میں یا تو ”کیپٹلزم“ ہے یا ”کمیونزم“، ہمیں دنیا کو ایک متبادل نظام حیات دینا ہے۔ اور یہ متبادل نظام اسلام کے پاس ہے۔ تو یہ ایک کوشش ہے۔ ہو سکتا ہے ہم کامیاب ہوں، ہو سکتا ہے ہم کامیاب نہ ہوں۔ تو میری غیر مسلم دوستوں سے گزارش ہے کہ اگر آپ کوابراہم لنکن، مارکس، لینن، روسو یا دوسرے لوگوں سے اصطلاحات لینے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں محسوس ہوتی، تو اسلام سے کچھ اصول لینے میں کیا قباحت ہے۔ آئیے ہمارا ساتھ دیجئے۔

سر محمد ظفر اللہ خان:

اسلام میں ایمان کے ساتھ ساتھ، عقل کی بھی اہمیت ہے۔ جمہوریت کی بہت ساری شکلیں ہو سکتی ہیں لیکن جمہوریت کی روح یہ ہے کہ پولیٹیکل اتھارٹی لوگوں کی آزاد مرضی سے چنے ہوئے نمائندے ہی استعمال کریں گے۔ قرآن اس اتھارٹی کو مقدس امانت کہتا ہے۔ تو اسلام یک دم نمائندہ اداروں کی سرگرمیوں کو پاک اور مقدس بنا دیتا ہے۔

اسلام میں برداشت کا یہ عالم ہے کہ نبی پاک ﷺنے ایک عیسائی وفد کو مسجد نبوی میں ٹھٹھہرایا اور انہیں اپنے طریقے سے عبادت کرنے کی اجازت دی۔ اور عیسائی وفد نے اپنی صلیبیں اور تصاویر نکالی اور اپنے سامنے رکھ کر اپنے طریقے سے مسجد نبوی میں عبادت کی۔

مسٹر نذیر احمد :

بقول ڈاکٹر محمد اقبال، آج انسانیت کو اس کائنات کی روحانی تشریح کی ضرورت ہے۔ دنیائے اسلام کی اکثر ریاستوں کا سرکاری مذہب نہ صرف اسلام ہے بلکہ چند ممالک (افغانستان، ایران وغیرہ) نے تو اسلام کے کسی خاص فرقے کو بطور ریاستی مذہب اعلان کیا ہوا ہے۔

اسلام کے اصولوں کو اگر صدیوں سے نظر انداز کیا گیا ہے یا ان پر عمل نہیں کیا گیا تو اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ یہ اصول ہی غلط ہیں یا ناقابل عمل ہیں۔

ڈاکٹر عمر حیات ملک:

ہم ”اسلامی جمہوریت“ لا رہے ہیں۔ جدید ریاست کو لوگوں کی مرضی کے مطابق ہونا چاہیے۔ لیکن حقیقتاً ایسا نہیں ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ لوگو ں کی مرضی صرف ایک اسطورہ ہے۔ یہ چند لوگ ہی ہیں جو فیصلہ کرتے ہیں۔ پھر بھی ہم اسے بہترین جمہوریت کہتے ہیں۔

مسٹر نور احمد:

تقریباً تیرہ سو سال برصغیر میں اکٹھے رہنے کے باوجود، ہندوؤں نے اسلام کی روح کو نہیں سمجھا۔ ہندوؤں نے اسلام کا تصوران مسلمان ڈرائیوروں اور کوچوانوں سے لیا ہے جو کہ خود مسلم معاشرے میں سب سے نچلے درجے پر ہیں۔

ڈاکٹر محمود حسین:

حاکمیت اعلیٰ کا تصور تقریباً 400 سال پرانا ہے۔ حاکمیت اعلیٰ کس کے پاس ہو گئی۔ پوپ یا بادشاہ اور ریاست کے درمیان یہ جھگڑا کہیں سال چلتا رہا۔ با الاخر، حاکمیت اعلیٰ ریاست کے پاس آ گئی۔

سولویں صدی میں میکاولی نے مذہب اور سیاست کو الگ کیا۔ جب اس نے یہ کہا: ”ریاست عمومی اخلاقی قوانین کی پابند نہیں ہوتی۔ ریاست کی اپنی اخلاقیات ہوتی ہے“ سوال یہ نہیں ہے کہ ہم اسلامی ریاست بنانا چاہتے ہیں یا کوئی نظریاتی ریاست، یا ہم کوئی یورپ یا امریکہ سے ٹکر لینا چاہتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اخلاقیات کو واپس سیاسی دائرہ میں لانا چاہتے ہیں یا نہیں؟ کیا ہم اپنی سیاسی اتھارٹی پر کوئی قدغن لگانے کے لیے تیار ہیں؟ یا ہم یہ سوچنے میں حق بجانب ہیں کہ ہم جو بھی کریں وہ ٹھیک ہے اور ہم کسی اخلاقی قوانین یا اعلیٰ اصولوں کے پابند نہیں ہیں؟ یہ حقیقی سوالات ہیں۔

بیگم شائستہ سہروردی اکرام اللہ:

ایک ایسی ریاست، جہاں مسلمان اکثریت میں ہوں وہاں اسلام کا اعلان کر دینا بہت بڑی کامیابی نہیں ہے، بلکہ اصل کامیابی تب ہو گی جب ہم ان اصولوں کو عملی طور پر اپنائیں گے۔ اگر مسلمانوں کی اپنی زندگیاں اسلام کے عین مطابق ہوتیں توآج غیر مسلمان اسلام کے نام سے خوفزدہ نہ ہوتے۔

مسٹر سریس چندرا چٹوپاڈھیایا:

پاکستان میں صرف مسلمان ہی نہیں، بلکہ غیر مسلمان بھی آباد ہیں۔ اور جب برصغیر کی تقسیم ہوئی تھی تو تبادلہ آبادی کی بات نہیں ہوئی تھی۔ میرے خیال میں ساری طاقتیں لوگوں کے پاس ہے جو کہ ریاست کے ذریعے اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہیں۔ ریاست محض لوگوں کی ترجمان ہے۔ جب کہ قرارداد خدا کی طرف سے صرف ریاست کو طاقت کا مرکز بناتی ہے جب کہ لوگ محض ریاست کے آلہ کار ہیں۔ لوگوں کے پاس کوئی طاقت یا اتھارٹی نہیں ہے۔

میرے تصور کے مطابق، جہاں مختلف مذاہب کے لوگ رہتے ہوں وہاں ریاست کا مذہب کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔ ریاست کی حیثیت محض غیر جانبدار کی ہونی چاہیے۔ کسی بھی مذہب کے لیے کوئی تعصب نہیں ہونا چاہیے۔ ریاست کا مذہب ہونا ایک خطرناک شے ہے۔ سابقہ مثالیں ہمیں متنبہ کرنے کے لیے کافی ہونی چاہیے کہ ہم دوبارہ ایسی سنگین غلطی نہ کریں۔ ہم جانتے ہیں کہ مذہب کے نام پر لوگوں کو زندہ جلایا گیا۔ لہذا میرا یہ کہنا ہے کہ حاکمیت اعلیٰ صرف لوگوں کے پاس ہونی چاہیے، کسی اور کے پاس نہیں۔

جس مسلمان ریاست میں ایک غیر مسلمان حکمران نہیں بن سکتا۔ اور مجھے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جس ملک میں کوئی غیر مسلمان حکمران ہو، وہاں مسلمان جمعہ نماز نہیں پڑھ سکتا۔ تو ایسی ریاست میں اسلام غیر مسلموں کو کون سے برابر کے حقوق دیتا ہے؟

اسی طرح اگر کوئی قانون تبدیل کرنا ہے تو صرف مسلمانوں کے ووٹ سے ہو گا، غیر مسلمان ووٹ نہیں ڈال سکتے۔ یہ ہے خدا کی حدود؟ اگر غیرمسلمان ووٹ نہیں ڈال سکتا، تو اس اسمبلی میں ہمارے بیٹھنے کا کیا جواز ہے؟ جہاں کوئی غیر مسلمان ریاست کا سربراہ نہیں بن سکتا، یہ ہوتی ہے اسلامی ریاست۔

میں جانتا ہوں کہ آپ یہ قرارداد پاس کر و گے۔ کیوں کہ آپ اکثریت میں ہو، اور میں نے اکثریت کا جبر دیکھا ہے۔ یہ مسلمان اور غیر مسلمان کی تقسیم چھوڑئیے اور صرف پاکستانی بنیے۔ مجھے آج افسوس کے ساتھ قائد اعظم کے الفاظ یاد آ رہے ہیں کہ ریاستی معاملات میں نہ ہندو، ہندو رہے گا اور نہ مسلمان، مسلمان۔ لیکن افسوس ان کی وفات ہوتے ہی آپ لوگوں نے ریاست کے مذہب کا اعلان کر دیا ہے۔

میں اس قرارداد میں علما کی آواز سن رہا ہوں۔ یہ آواز نہ تو قائد اعظم کی ہے اور نہ لیاقت علی خان کی۔ رد عمل کی نفسیات آپ پر حاوی ہے۔ اس قرارداد نے لوگوں کو مستقل طور پر احساس کمتری کا شکار بنا دیا ہے۔ میں اب اور کچھ کہنے کے قابل نہیں رہا۔ آپ لوگوں سے بات چیت کرنا فضول ہے۔ آپ لوگوں نے وہ عاجزی دکھانے میں ناککام رہے ہو جو کہ ایک فتح یا مذہب پیدا کرتی ہے۔ آپ لوگ اپنا راستہ اختیار کریں، میری نیک خواہشات آپ کے ساتھ ہیں۔

لیاقت علی خان:

دنیا کے تمام مذاہب یہ تعلیم دیتے ہیں کہ انسانیت کے پاس جتنی بھی طاقتیں ہیں، انہیں اخلاقی معیاروں کے مطابق ہی استعمال کرنا چاہیے۔ ہم میکاولی سیاست کے اصولوں کے خلاف ہیں۔ ہم مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ تمام اختیارات مقدس امانت ہیں۔ جو کہ خداکی طرف سے ہمیں انسانوں کی خدمت کے لیے سپرد کیے گئے ہیں۔ یہ اتھارٹی لوگوں کو دی گئی ہے نہ کہ کسی مخصوص حکمران طبقے کو۔ اور نہ ہی یہ اتھارٹی کسی مخصوص مذہبی طبقے کو دی گئی ہے۔ اسلام تھیو کریسی کو نہیں مانتا۔ اسلام کسی رنگ، نسل اور پیدائش کی بنیاد پر تفریق نہیں کرتا۔

یہ خلافت عثمانیہ ہی تھی جس نے یہودیوں کو اس وقت بھی پناہ دی جب پورا یورپ ان کی جان کے درپے تھا۔ انڈیا میں مسلمان حکمرانوں نے ہندو مذہبی کتابوں کا سنسکرت سے بنگالی میں ترجمہ کروایا۔

اسلام کے مطابق ایک غیر مسلم بھی آئین کے تحت ریاست کی انتظامیہ کا سربراہ بن سکتا ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ اس وقت دنیا کو مادہ پرستی کی نہیں بلکہ اخلاقی اور روحانی قدروں کی ضرورت ہے۔ میں جانتا ہوں کہ یہ بہت بڑا ارادہ ہے۔ لیکن یہ اس سے کئی گنا بہتر ہے کہ آدمی کوشش کرے اور ناکام ہو ججائے بجائے اس کہ آدمی بالکل کوشش ہی نہ کرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply