ہڑپہ کی گلیوں میں گزرا اک دن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں زندان تاریخ میں مقید ہوں۔ تاریخ سے مجھے لگاؤ ہے یہ مجھے بھا گئی ہے۔ لیکن تاریخ تو مبہم ہوتی ہے۔ تاریخ تو لکھوائی جاتی ہے۔ جیسے مشہور مقولہ ہے، ”تاریخ فاتح لکھتے ہیں۔“ جبکہ دوسری جانب ہم تو آج تک یہ واضح نہیں کرسکے، ہماری تاریخ کا نقطہ آغاز قیام پاکستان سے ہے، یا محمد بن قاسم کی سندھ آمد سے، کیا چندر گپت موریہ، اشوک اعظم ہمارا تاریخ کا حصہ ہیں کہ نہیں؟ مسلسل، قدم قدم پر تاریخ میں پچیدگیاں ہیں۔

اور زیادہ تر یہ پچیدگیاں ہماری خود ساختہ ہیں۔ یہ ایک لمبی بحث، عمیق تحقیق کی متلاشی ہے۔ تو میں جو زندان تاریخ میں مقید ہوں اور یہ سلسلہ انڑمیڈیٹ سے چلا اور چار سال ہونے کو ہیں، اس قید سے چھٹکارا پانے اور تاریخ کی عینک اتار کر، میں اپنی آنکھ سے تاریخی مقامات کو دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ میری یہ بھی کوشش ہوتی ہے، کہ میں جس تاریخی جگہ پر بھی جاؤں اس کی تاریخ کو ایک جانب رکھ کر، اس کے موجودہ آثار کو دیکھوں۔ اور دیکھوں کہ یہ انسان کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟

یہ زندہ جسموں کو کیا کہانی سنانا چاہتے ہیں؟ اور یہ آثار اپنے دیکھنے والوں کو کیا سبق پڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ؟

یہ 18 اکتوبر 2018 ء کی بات ہے، جب میں وادی سندھ کی تہذیب کے شہر ہڑپہ کو دیکھنے کے لئے ساہیوال سے ہڑپہ کی طرف روانہ ہوا، جو ساہیوال سے مغرب کی جانب آدھ گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔ یہ صبح کا وقت تھا، اور سردیوں کا سورج اپنی دھوپ چمک دمک سے چار سو پھیلا رہا تھا۔ ہڑپہ کے کھنڈرات کو دیکھنے کی تمنا دل میں زور پکڑ رہی تھی اور یہی انتظار تھا کہ جلد از جلد منزل مقصود تک پہنچا جائے۔ کچھ ہی دیر میں، میں قبل مسیح کے ہڑپہ کی گلیوں کے سرہانے جا کھڑا ہوا۔

جو بڑے ٹیلے کے درمیان واقع تھیں، گویا جیسے یہ شہر زیر زمین ہو، یا پھر دو پہاڑوں کے بیچ میں واقع گاؤں کی مانند، دکھائی دے رہا تھا

گلیاں پختہ، سیوریج کا عمدہ نظام، حمام خانے، کنواں جہاں سے پانی کی ضرورت کو پورا کیا جاتا، اور خوب صورت مکان، گویا یہ لوگ مکمل طور پر انسانی آسائشوں کے لئے درکار ضروریات کے استعمال سے آشنا تھے۔

مکانوں کو بناتے وقت روشنی اور ہوا کے بندوبست کا مکمل خیال رکھا جاتا۔ شہر محلوں میں منقسم، آمدورفت کے لئے بیل گاڑی کا استعمال، غلے کے گودام، حملہ آواروں سے بچنے کے لئے کانسی کے اوزار، ان آثار کو دیکھ کے لگتا ہے واقعی یہ لوگ تہذیب یاقتہ تھے۔ ان آثاروں کو دیکھنے کے بعد، میں ہڑپہ میوزیم کی طرف چلا گیا۔ وہاں کھدائی کے دوران جو چیزیں دریافت ہوئیں، وہ رکھی ہوئی تھیں۔ ان کے رہن سہن کے لئے برتن جو زیادہ تر مٹی اور کچھ کانسی سے بنے ہوئے تھے، جنگی اوزار، پوچا پاٹ کے لئے مورتیاں، کھیتی باڑی کے لئے استعمال ہونے والے آلات، آمدورفت کے لئے بیل گاڑی اور خوراک کو سٹور کرنے کے لئے مختلف چیزوں کے نمونے پڑے تھے۔

میں میوزیم میں کچھ وقت گزارنے کے بعد، دوبارہ ان کھنڈرات کی طرف چل پڑا جو درختوں کے جھنڈ اور ٹیلوں کے مابین واقع تھے۔ اس دوران میرے دماغ میں کئی سوال جنم لے رہے تھے۔ یہ شہر تو دریائے راوی اور دریائے ستلج کے قریب آباد تھا، توپھر ہم اسے وادی سندھ کی تہذیب کیوں کہتے ہیں؟ کیا یہ وادی راوی کے آثار نہیں کہلا سکتے، کیا ہم اسے پنجاب کی تہذیب نہیں کہہ سکتے؟ اگر یہ وادی سندھ کی تہذیب ہی ہے۔ تو کیا اس وقت سندھ یہاں تک بہتا تھا۔ پھر یہ مفقود کیوں ہوا؟ اس نے اپنا راستہ کب بدلا؟

ان سوالوں کی الجھن سے نکلنے کے لئے میں دوبارہ ان مناظر میں کھو گیا، جو ہڑپہ کے کھنڈرات پیش کر رہے تھے۔ یہ آثار 1922 ء میں برطانوی عہد میں انڈین آرکیالوجسٹ آر ڈی بینر جی نے دریافت کیے۔ وادی سندھ کی تہذیب کے کھنڈرات کی دریافت سے اب تک خاصی جانچ پڑتال ہوئی ہے اور تحقیق کا بہت کام ہوا ہے اور اب بھی ہو رہا ہے۔ سب سے دلچسپ عنصر جو اس تحقیق کے بعد سامنے آیا، وہ ان اسباب پر تحقیق ہے، جو اس تہذیب کے صحفہ ہستی سے مٹ جانے کی وجہ بنے۔

مختلف ماہرین کی آراء اس پر مختلف سامنے آئی ہیں۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تہذیب داخلی اور خارجی دونوں عوامل کی وجہ سے محدوم ہوئی ہے۔ کچھ کے نزدیک یہ تہذیب دریا کے راستہ بدلنے کی وجہ سے ختم ہو گئی۔ اور زیادہ تر کے نزدیک جنگ و جدل، گھمسان کی لڑائیوں کے سبب یہ تہذیب فنا ہوئی کیونکہ جنگوں سے زراعت کو نقصان پہنچا، جو قحط کا موجب بنی۔ یہ تہذیب کیوں فنا ہوئی، اس کو میں محسوس کرنا چاہتا تھا، میں ان آثار میں کھو جانا چاہتا تھا، میں چاہتا تھا میں اس دور میں چلا جاؤں، جب یہ تہذیب آباد تھی، اس کا عروج تھا۔ اور میں چلا گیا، میں ان گلیوں میں اتر گیا، میں ٹیلے کی بلندی سے قریبا سات فٹ نیچے چلا گیا اور خود کو ہڑپہ کی گلیوں میں گم کر دیا۔

ہڑپہ کے لوگ ملنسار تھے، خوش اخلاق تھے۔ لیکن ان میں اک خرابی تھی، ان کے پاس مستقبل کی حکمت عملی نہیں تھی، بیرونی حملوں کی صورت میں یک سوئی کی کمی تھی اور اس سے بڑھ کر یہ لوگ قدرت سے غافل تھے، یہ اپنے قادر مطلق کو نہ پہچان پائے۔ یہ اسباب ان کے لئے زہر قاتل ثابت ہوئے، اور یہ صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ میں ان گلیوں میں سہم گیا، مجھے ڈر لگنے لگا، اور مجھے اپنے مجموعی کردار سے ہڑپہ کے لوگوں کی کردار کی بو آنے لگی۔ میں وہاں سے باہر نکل آیا۔ شام کے سائے ڈھلنے لگے تھے۔ ڈوبتا سورج اپنی سرخی پھیلا رہا تھا اور اس سرخی میں یہ کھنڈر سرخ نظر آ رہے تھے۔ اب میں ان مناظر سے اکتا چکا تھا، میں گھر واپس لوٹ جانا چاہتا تھا اور یوں بھی جون ایلیا کے بقول۔ ۔ ۔

نظر پہ بار ہو جاتے ہیں منظر
جہاں رہیو وہاں اکثر نہ رہیو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد ثقلین دانش کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *