مانکٹارو: تاریخ کی درستی

سندھ میں جس تاریخی مقام کو عام طور پر مانکٹارو کہا جاتا ہے، دراصل اس کا صحیح نام مانک دڑو ہے۔ یعنی مانک نامی سولنکی (سولنگی) قبیلے کی ریاست رہائش کا ٹیلہ۔ اس بستی کی بنیاد مانک رائے نے رکھی تھی، جو جیسر رائے سولنکی (سولنگی) کا بیٹا تھا۔ اس نے اس علاقے میں ریاست قائم کی اور وہ مقام تعمیر کیا جو بعد میں مانک دڑو یعنی ”مانک کا ٹِیلہ یا بستی“ کہلایا۔ مورخ یوسف میرک نے بھی اپنی

Read more

بلاول بھٹو! یہ بھی غیرت کا سوال ہے

دوپہر بارہ نیند سے بیدار ہوا بیڈ ٹی پیتے ہوئے موبائل دیکھنے لگا تو کراچی کے علاقے ڈیفنس میں ایک نو دولتیے کی ویڈیو دیکھ کر اوسان خطا ہو گئے، دماغ سن ہو گیا، آنکھیں پتھرا گئیں کیونکہ ویڈیو میں دیکھا کہ ایک سفید بالوں والا فرعون صفت شخص گاڑی میں بیٹھے ایک نوجوان کے ہاتھ قابو کیے ہوا تھا اور گاڑی کے اندر بیٹھا دوسرا شخص اس نوجوان کو تھپڑ مار رہا ہے اور باہر ایک لڑکی ہاتھ جوڑ

Read more

(3) جون 1947 ء کا تاریخ ساز اجلاس: تقسیم ہند کے 78 برس

برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں نے ایک ہزار سال تک حکومت کی، 712 ء میں سندھ میں محمد بن قاسم کی آمد کے ساتھ ہی مسلم حکمرانی کا آغاز ہو گیا جس کا اختتام 4 مئی 1799 ء کو سرنگاپٹم میں شیر میسور سلطان فتح علی ٹیپو کی شہادت کے بعد ہو گیا جب انگریزوں کے خلاف مزاحمت کرنے والی آخری تلوار بھی ٹوٹ گئی تھی۔ قائد اعظم نے تشکیل پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ پاکستان

Read more

کوہی گوٹھ ہسپتال: عظیم ویژن کی عملی تصویر

خواب ہم سب دیکھتے ہیں، لیکن ویژن بہت کم لوگوں کے پاس ہوتا ہے۔ خوابوں کی تعبیر ممکن ہے، لیکن ویژن کی تکمیل سب سے مشکل مرحلہ ہوتا ہے، جس کے لیے انتھک محنت اور کئی نسلوں کی قربانیاں درکار ہوتی ہیں۔ میں خواب دیکھنے پر یقین رکھتا ہوں اور خواب کی طاقت سے بخوبی واقف ہوں، لیکن کھلی آنکھوں سے کسی عظیم ویژن کی تکمیل دیکھنا ایک بالکل مختلف منظر اور تجربہ ہوتا ہے۔ آج کی یہ تحریر خوابوں

Read more

مختار صدیقی کی نظم ”ٹھٹھہ“ ایک مطالعہ

مختار صدیقی نے نظم ”ٹھٹھہ“ میں دو باتوں کا تذکرہ کیا ہے : ایک تو آباد تہذیبوں کے ویران ہونے کا نوحہ اور دوسرا بابِ فنا یعنی موت کا ذکر۔ اور ان دونوں موضوعات کو مختار صدیقی کے ہاں بنیادی حیثیت بھی حاصل ہے۔ ان کے ہاں مناظر فطرت کی عکاسی بھی بھر پور انداز سے نظر آتی ہے۔ اس حوالے سے ان کی نظم ”جہلم کا بہتا پانی“ عمدہ مثال ہے۔ مگر اصل المیہ یہ ہے کہ زندگی کی

Read more

مورخ صاحب

یونیورسٹی میں جب شعبہ تاریخ میں داخلہ لینے گیا تو جس شخصیت کا نام سب سے زیادہ کانوں میں گونجا وہ مورخ صاحب کا تھا۔ اُس دن کیونکہ وقت مختصر تھا اور کام بہت زیادہ اس لئے ملاقات نہ ہو سکی مگر دل میں ٹھان لی کہ جب ایم اے تاریخ میں داخلہ مل جائے گا تو ان سے بھرپور استفادہ حاصل کرنے کی کوشش کروں گا تاکہ پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک کی تاریخ پر بھی دسترس حاصل ہو

Read more

ضرب مردانہ دید

ہم چپ تھے کہ برباد نہ ہو جائے گلشن کا سکوں ناداں یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ ہم میں قوت للکار نہیں ہے ایک جانب پاکستانیوں کی بے خوفی، جذبہ جہاد، شہادت کی تمنا، دفاع وطن، بقا اسلام کا دینی جذبہ، اپنی عبادت گاہوں اور مظلوم و معصوم شہیدوں کے بدلے کا عزم چہروں پر دکھائی دیتا ہے۔ جہاں شہادت ایک مقدس انجام اور حیات جاوید کی نوید ہوتی ہے جو نسل در نسل ماں کی لوریاں بن بن کر

Read more

پنجابی پکوان اور ان کا تاریخی ارتقا

پنجاب، پاکستان کا سب سے بڑا اور گنجان آباد صوبہ ہے، جس کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ اس خطے کو دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک، وادیٔ سندھ کی تہذیب (تقریباً 2600۔ 1900 قبل مسیح) کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ پنجاب کا نام سنسکرت کے الفاظ ”پانچ“ (پانچ) اور ”آب“ (پانی) سے لیا گیا ہے، جو اس کے پانچ دریاؤں (سندھ، جہلم، چناب، راوی، اور ستلج) کی عکاسی کرتا ہے۔ قدیم تاریخ پنجاب کی سرزمین آریائی اقوام،

Read more

سندھ کی تاریخ و کھانے۔ ایک جامع جائزہ

سندھ کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے اور یہ خطہ ہمیشہ تہذیب، ثقافت، تجارت اور علم و دانش کا مرکز رہا ہے۔ دریائے سندھ کی زرخیز وادی میں بسنے والی قدیم تہذیبوں سے لے کر جدید پاکستان تک، سندھ کی تاریخ کئی ادوار پر مشتمل ہے۔ 1۔ قدیم سندھ اور وادی سندھ کی تہذیب ( 3300۔ 1300 قبل مسیح) : سندھ دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک، وادی سندھ کی تہذیب (Indus Valley Civilization) کا گہوارہ تھا۔ موہنجو

Read more

آخری اچھا مرد

بھارت کے آنجہانی ستیش کوشک کیا کچھ نہ تھے۔ اداکار، کامیڈین، رائٹر، پروڈیوسر ڈائریکٹر اور ایک بہت نفیس انسان۔ سونے کے دل والے۔ ہماری دوست کامیا پٹیل امریکی شہری قیام نیو جرسی مگر وہاں قیام صرف گرمیوں کے چند ماہ اور میں کم مگر ناسک اور ممبئی میں زیادہ قیام زیادہ رہتا ہے، اصل میں گجراتی طلاق کی وکیل اور سائیں بابا کی بھگتن۔ ستیش کوشک کو مدر تھریسا سے زیادہ مہان اور نمبر ون مانتی ہے۔ وہ اس جھگڑے

Read more

شکرگزاری کے مریض

آج کل ہماری سیاست نسلوں سے منتقل کی گئی ”شکرگزاری“ کے لا علاج مرض میں اس قدر مبتلا ہے کہ علم اور دانش کی منتقلی کے بجائے اب ہم ”دہشت گردوں“ کی امریکا حوالگی یا منتقلی پر پھولے نہیں سما رہے اور ہمارے حکمران اور اپوزیشن کہلائی جانے والی جماعت تحریک انصاف کا بس نہیں چلتا کہ وہ صدر ٹرمپ کی قدم بوسی کر کے ”شکر گزاری“ پہ سجدہ ریز ہو جائیں اور اس وقت تک نہ اٹھیں جب تک

Read more

صفدر زیدی کا ناول ”بنت داہر“: تنقیدی جائزہ

فاتح قوموں کا نفسیاتی حربہ ہوتا ہے کہ وہ مفتوحہ قوم پہ غالب آنے کے بعد اسے اس کی تاریخی ہیئت سے کاٹ کر الگ کھڑا کر دیتی ہیں، جس کا سب سے پہلا اور گہرا وار علم و ادب پہ کیا جاتا ہے۔ تاریخ کا بغور جائزہ لیا جائے تو کتنے ہی عظیم کتب خانے، ودیا شالا اور پاٹھ شالائیں راکھ کا ڈھیر بنا کر مفتوحہ قوموں کو ناکارہ اور فضول بنا کر تاریخ کے کٹہرے میں کھڑا کر

Read more

زبانوں میں بٹا ہوا آدمی۔ حصہ دوم

اہل خانہ کا کھیتی باڑی سے ملازمت کا سفر گاؤں سے شہر تک کا سفر تو بنا مگر یہ اندازہ نہ تھا کہ یہ پنجابی سے اردو میں انتقال کا سبب بن جائے گا۔ انتقال دونوں طرح کا سمجھا جا سکتا ہے۔ میں پڑھتا تو بائیس روپے مہینہ کے سرکاری اسکول میں تھا مگر اسکول فوجی چھاؤنی میں واقع تھا، کیونکہ گاؤں چھاؤنی سے ملحق تھا۔ اسکول مخلوط بھی تھا اور مربوط بھی۔ مرد مومن ضیا الحق کے آخری سال

Read more

سندھ میں مذہب اور سیاست کے بدلتے منظر نامے : حصہ اول

تاریخ کے تناظر میں جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سندھ میں حکمرانوں کی تبدیلی کے ساتھ شہریوں کے عقائد اور مذہب بھی تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ سندھ میں آباد مختلف قبائل ویدک سمیت دیگر عقائد جن میں قدرت کے مظاہر سے جڑے اعتقادات جیسے سورج، پانی، آگ وغیرہ کو اپنا خدا ماننے والی آبادیوں پر مشتمل ریاست رہی ہے۔ 268 صدی قبل مسیح میں برصغیر پر موریا شہنشاہ اشوک کے دور حکمرانی کے دوران جس میں آج

Read more

خان پور چاچڑاں شریف ریلوے لائن

خان پور جنکشن سے شروع ہو کر چاچڑاں شریف تک جانے والی اس ریلوے لائن کی کل لمبائی پاکستان ریلویز کے مطابق 33 کلومیٹر تھی جسے جولائی 1911 میں کھولا گیا تھا۔ اس ٹریک پر 1908 میں کام شروع کر دیا گیا تھا۔ اس ریلوے ٹریک کو بچھانے کا مقصد دراصل مرکزی ریلوے لائن کو دریائے سندھ کے اُس پار لے جا کر گوادر سے منسلک کرنا تھا۔ یعنی یہ لائن لاہور و ملتان کو بذریعہ خانپور، چاچڑاں، راجن پور،

Read more

تاریخ کی وضاحت اور آشوٹز

27 جنوری آشوٹز کی آزادی کی 80 سالہ برسی تھی۔ یہ وہ دن تھا جب سویت افواج نے جرمن نازیوں کے آشوٹز نامی ڈیتھ کیمپ میں سینکڑوں قیدیوں کو آزاد کروایا۔ ان قیدیوں کو نازیوں نے شدید غیر انسانی ماحول میں رکھا ہوا تھا اور ان کو مختلف پرتوں میں بانٹا ہوا تھا۔ بوڑھے، معذور، خواتین اور بچوں کو اسی مقصد کے لیے بنائے گئے گیس چیمبر میں لے جا کر ”زیکلون بی“ نامی نرو گیس سے قتل کیا جاتا

Read more

غزنوی اور خواجہ :اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

غزنوی میزائل (حتف تھری) کی تیاری 1993 ء میں شروع ہوئی۔ ابدالی (حتف ٹو) اور غوری (حتف فور) پر بھی کام شروع ہوا۔ ان میزائلوں کے ناموں کی منظوری وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے دی۔ غزنوی اور غوری وہ افغان جنگجو تھے جنہوں نے اپنے عہد کے کئی ہندو راجاؤں کو شکست دی۔ پاکستانی میزائلوں کو ان سے منسوب کرنے کا مقصد یہ باور کرانا تھا کہ ہمارا میزائل پروگرام صرف بھارتی عزائم کے سدباب کے لئے ہے۔ غزنوی سے

Read more

چند دن قدیم تاریخی روایات کی سرزمین ملتان میں (4)

بہاؤ الدین زکریا کے مزار کے احاطہ کے باہر قاسم باغ میں بنی چھوٹی سی مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کر کے میں باہر نکلا۔ بہت سے خواتین و حضرات اپنے بچوں کو لے کر قاسم باغ کی سیر کو آئے ہوئے تھے۔ بہاؤ الدین زکریا ؒ اور حضرت شاہ رکن عالم ؒ کے مزارات کی حالت دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ پنجاب حکومت اور محکمہ اوقاف ان تاریخی اہمیت کی حامل ان جگہوں پر کتنی توجہ دے

Read more

راجھستان

راجستھان شمالی بھارت کی ایک اسٹیٹ ہے جس کا رقبہ ساڑھے تین لاکھ مربع کلومیٹر ہے۔ ( پاکستان کے صوبہ پنجاب کا رقبہ دو لاکھ مربع کلومیٹر کے قریب ہے۔ ) یہ اسٹیٹ بھارت کے کل جغرافیائی رقبے کا دس فیصد ہے اور یوں رقبے کے لحاظ سے بھارت کی سب سے بڑی ریاست بھی ہے لیکن آبادی کے اعتبار سے اس کا ساتواں نمبر ہے۔ اس کا ایک بڑا حصہ غیر آباد اور صحرائی علاقوں پر مشتمل ہے۔ اسی

Read more

پنجاب کٹہرے میں: کتاب پر تبصرہ

یہ ایک شاندار کتاب ہے جس کا ٹائٹل محاورے کی زبان میں صرف ٹپ آف آئس برگ ہے۔ علم و تاریخ، تجزیہ و زاویہ نظر کا ایک خزانہ ہے۔ آپ کئی دفعہ کتاب رکھ کر سوچنا شروع کر دیں گے اور کئی دفعہ سوچتے سوچتے دوبارہ اٹھائیں گے۔ کئی دفعہ تو آپ کو مصنّف پر شدید غصہ آئے گا لیکن جلد ہی وہ غصہ پاکستان کے تعلیمی اداروں کے سلیبس بنانے والے اور کاسہ لیس تاریخ دانوں کی طرف منتقل

Read more

ہمارا ماضی کیسے ہمیں اچھا یا برا بناتا ہے

وقت گزرنے پر داستان گوئی اسطورہ کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ جسے کلاسیک اور لیجنڈ بھی کہتے ہیں۔ صدیاں گزرنے پر خرافات ایسے قصوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔ جس سے قصہ کی اصلیت متاثر ہو جاتی ہے۔ اسی لئے تو اسے خرافیہ کہتے ہیں۔

بہت سی تاریخی شخصیات ایسی ہیں۔ جنہیں آج ہم حقیقت تصور کرتے ہیں۔ مگر ان میں سے زیادہ تر وجود نہیں رکھتیں۔ اصل میں وقت عوامی سطح پر ان کی تخلیق کرتا ہے اور قدامت ان کو تقدس کا درجہ عطا کرتی ہے۔ ایسے مقدس عناصر کی چار اشکال ہو سکتی ہیں۔

Read more

دھرتی کے گمنام ہیرو

یہ کتنی تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں مطالعہ پاکستان، معاشرتی علوم اور تاریخ عام جیسے مضامین کی درسی کتابوں میں انگریز سامراج کے خلاف جنگ کرنے، وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے اور سیاسی جدوجہد کرنے والے دھرتی کے فرزندوں کی کوئی جگہ نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ انفرادی سطح پر بہت سے لوگ ان حریت پسندوں کے کارناموں اور ناموں سے واقف ہوں تاہم بحیثیت مجموعی قومی سطح پر ان آزادی کے متوالوں کو نئی

Read more

پاکستان ٹیلی ویژن کے 60 سال

ٹیلی ویژن کی ابتداء 1930 میں ہوئی۔ امریکہ اور برطانیہ میں 1950 میں ٹی وی کا آغاز ہوا اور 1960 میں پوری دنیا میں اس کا پھیلاؤ شروع ہوا۔ ٹیلی ویژن دو الفاظ ٹیلی اور ویژن کا مجموعہ ہے۔ ٹیلی کا مطلب دوری یا دور ہے اور ویژن کا مطلب دیکھنا ہے۔ اس طرح اس کا مطلب ہوا دور سے دیکھنا۔ ہندوستان کے سرکاری ٹی وی کا نام اسی مناسبت سے دور درشن ہے۔ یعنی دور سے دیکھنا۔ ٹیلی ویژن

Read more

جے پال جنجوعہ۔ قدیم پنجابی بادشاہ – اعتزاز احسن کی کتاب ’دی انڈس ساگا‘ سے ماخوذ)

جنجوعہ، پنجاب کے شمال مغربی حصے کی ایک طاقتور قوم ہے۔ جو کہ جہلم اور دریائے سندھ کے درمیانی اضلاع پنڈی، جہلم، چکوال اور اٹک میں آباد ہیں، جسے سالٹ رینج کہا جاتا ہے۔ پنجاب میں انہیں ’راجا‘ کے لقب سے بھی پکارتے ہیں۔ ہندوستان کے صوبے پنجاب میں سکھ اور ہندو جنجوعے بھی موجود ہیں۔ آج سے ڈیڑھ صدی قبل کیے گئے سروے کے مطابق پنجاب میں آرائیں، اعوان، کمبوہ، بھنڈ ر، چٹھ، ڈھلوں، گل، سَندھو، سیال اور وڑائچ

Read more

ذکر یوم اقبال کی تقریب کا

شاعر مشرق علامہ اقبال ؒکے 147 ویں یوم ولادت پر سرکاری طور پر عام تعطیل تھی صبح کا سورج طلوع ہوتے ہی ہزاروں گاڑیوں کا رخ شہر اقتدار کی طرف ہوتا ہے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے دو اڑھائی لاکھ سے زائد گاڑیوں کی شہر پر یلغار ہو جاتی ہے لیکن عام تعطیل کے روز شہر میں ہو کا عالم ہوتا ہے سنسان شاہرائیں اس بات کا ثبوت ہوتا ہے آج پورا شہر چھٹی منا رہا ہے کوئی ہنگامہ ہے

Read more

تاریخ کی عدالت میں پاکستان کے حکمرانوں کا محاسبہ

  رات کا پہر، اور ایک پراسرار سکوت صلاح الدین ایوبی کی محفل میں چھایا ہوا تھا۔ فضا میں ماضی کی جنگوں کی صدائیں اور غازیوں کی مہک رچی ہوئی تھی۔ صلاح الدین، طارق بن زیاد، اور محمد بن قاسم اپنی محفل میں پاکستانی حکمرانوں کی بزدلیوں اور غفلت پر گفتگو کر رہے تھے۔ ہر ایک کی آنکھوں میں ایک شعلہ اور دل میں ایک بے چینی تھی۔ وہ مسلم قوم جس کے لیے انہوں نے اپنی زندگیاں وقف کی

Read more

پاکستان کا مطلب کیا؟

آج کل پاکستانیوں کی شناخت کے مسئلے کے بارے میں کئی موضوعات زیر بحث ہیں جن میں ایک موقف لبرل طبقے کا ہے جو کہ جنگ و جدل سے منسلک تاریخی کرداروں کو اپنانے سے انکاری ہیں جبکہ دوسری طرف مذہبی طبقے کے لوگ ماضی میں گزرے کامیاب سپہ سالاروں کو اپنا حامی و ناصر گردانتے ہیں۔ لبرل طبقے کی نظر میں پاکستانیوں کی بہترین شناخت صرف بیرونی جنگجووں کو خود سے الگ ماننے میں ہی نہیں بلکہ خود کو

Read more

مَین از اے سوشل میڈیا اینیمل

ارسطو کے زمانے میں انسان محض سماجی حیوان تھا مگر نظریہ ارتقاء کی بدولت آج وہ، سوشل میڈیا اینیمل، بن چکا ہے۔ لمحہ موجود میں سوشل میڈیا دلوں کی دھڑکن، آنکھوں کی ٹھنڈک، روح کی غذا اور آدابِ حیات کا جزوِ لاینفک اور رنگ، نسل، زبان اور علاقہ کی تفریق کے بغیر مرد و زن اور پیر و جواں کے لئے آن لائن مرجع خلائق ہے۔ اب کروڑوں کی تعداد میں مخلوق خدا اس کے اخلاقی، معاشرتی، روحانی اور سیاسی

Read more

جنابِ وزیرِاعظم! لفظ ’بربریت‘ آئندہ اِستعمال نہ کیجیے

وزیرِاعظم پاکستان جناب شہباز شریف نے 27 ستمبر کو اَقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا جس سے اہلِ پاکستان کا سر فخر سے بلند ہو گیا۔ اُنہوں نے غزہ اور لبنان میں اسرائیلیوں کے مظالم کی دل دہلا دینے والی تصویر پیش کی اور عالمی برادری کے سربراہوں پر زور دِیا کہ محض بیانات جاری کرنے کے بجائے فلسطین اور کشمیر کے مسائل کا پُرامن حل تلاش کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ وہ اِس عزم کا بھی

Read more

سندھ کی رائے سلطنت کا آرائیں برادری سے تعلق

پنجاب اور گندھارا میں چوتھی صدی عیسوی میں کشانوں کے کمزور ہونے کے بعد خانہ بدوش ہنوں کے نہ رکنے والے حملے شروع ہوئے۔ چوتھی صدی کے وسط میں باختریہ کے کدارا ہنوں نے حملہ کیا اور بچی کھچی کشان سلطنت کا خاتمہ کر کے ٹکشلا میں اپنا راج قائم کر لیا۔ یہ وقت انڈس ویلی میں بہت سی سماجی، مذہبی اور سیاسی تبدیلیوں کا دور تھا۔ کدارا شمال کے خانہ بدوش اور لٹیرے ہنوں کی پہلی شاخ تھی جو

Read more

خسرو: اپنے والد کے خلاف ناکام بغاوت کرنے والا شہزادہ جسے موت کے بعد ’شہید درویش‘ کا لقب دیا گیا

تزکِ جہانگیری کے مطابق شاہی حکم تھا کہ ’باغ مرزا کامران سے قلعہ لاہور تک دو رویہ لکڑیاں نصب کرکے شورش میں حصہ لینے والے فتنہ انگیز قبائلی باغیوں اور دوسرے لوگوں کو سولیوں اور لکڑیوں پر لٹکا کر ہر ایک کو اس طرح کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے کہ دوبارہ سزا کی ضرورت نہ ہو۔‘

Read more

جنگل، جرنیل اور جناح

دنیا ایک جنگل کی مانند ہے جہاں دوسرے جانوروں کے ساتھ ساتھ انسانوں کے مختلف گروہ آباد ہیں۔ ان گروہوں کو آپس کی جبلتی لڑائیوں سے بچانے کے لئے معاشرہ سماجی و اخلاقی قوانین مرتب کرتا ہے۔ ان قوانین کی ابتدا خوف سے ہوئی کیونکہ کائنات کے مظاہر کے بارے میں انسان کا علم محدود تھا اور ماحول نامساعد۔ ایسے مشکل دور میں ہر قبیلے نے فطرتی مظاہر کی پرستش کے ساتھ اساطیری قصوں سے ماخوذ قوانین سے اپنے تحفظ

Read more

غلامی کی تاریخ

غلامی کی تاریخ ایک بڑی اور ناقابل بیان کہانی ہے، المیہ اور ظلم سے بھری ہوئی ہے۔ جو صدیوں اور براعظموں دونوں پر محیط ہے۔ اگرچہ یہ بتانا مشکل ہے کہ غلامی کا آغاز کس سال ہوا، لیکن مورخین اس غیر انسانی عمل کی جڑیں تقریباً 11,000 سال پرانی بتاتے ہیں۔ غلامی صدیوں سے دنیا کے تمام حصوں میں مختلف شکلوں میں موجود ہے۔ تمام نسلوں، جنس اور عمر کے گروہوں میں موجود رہی۔ یہ صرف حالیہ صدی میں ہے

Read more

رسول بخش پلیجو: نشانِ جہدِ مسلسل – چھٹی برسی کے موقع پر خراجِ تحسین

نیلسن منڈیلا نے ایک دفعہ کہا تھا کہ ”سیاستدان اگلے الیکشن کے بارے میں سوچتا ہے اور رہنما آئندہ نسلوں کے بارے فکر کرتا ہے“ ۔ رسول بخش پلیجو صاحب اس صدی کے ایک ایسی ہی عظیم رہنما تھے جنہوں نے اپنی ساری زندگی پاکستان میں ایک پوری نسل کی بھرپور سیاسی تربیت کرنے میں گزار دی۔ ان کی حیات مسلسل پرامن جمہوری جدوجہد کرنے، سماج میں پسے ہوئے طبقوں خاص کر خواتین اور اقلیتی فرقوں کو قومی دھارے میں

Read more

لڑکی راکٹ اور ایما سٹون

بالی وڈ فلم رانجھنا کا ڈائیلاگ ہے کہ ”ایک بات میں سمجھ گیا ہوں کہ لڑکی اور راکٹ آپ کو کہیں بھی لے جا سکتے ہیں“ ۔ یہ بات تو ہم بھی سمجھ گئے ہیں دیکھیے نا مریم صفدر۔ صفدر صاحب کو لے کر پہلے تو وزیراعظم ہاؤس پہنچ گئیں پھر انہیں جیل کا شکار کر دیا۔ سسرال کے سر پہ آپ جا تو بہت اونچائی پر سکتے ہیں مگر گرتے بھی اتنی اونچائی سے ہیں۔ صاحب! اونچائی پہ جانے

Read more

اسلامی معاشرے کو کامیاب کیسے بنایا جائے؟

میں نے اپنے پچھلے مضمون میں اس موضوع پر گفتگو کی تھی کہ کس طرح مسلم معاشرے بحیثیت مجموعی سائنس اور سائنسی فکر کی ترقی میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ پچھلے سات سو سال میں سائنس، فلسفہ، معاشیات، انجینئرنگ، ٹیکنالوجی اور علم کے دیگر شعبوں میں مسلمانوں کی شراکت نہ ہونے کے برابر رہی ہے۔ مسلمانوں نے ان سائنسی اور صنعتی انقلابات میں حصہ لینے کی کوشش ہی نہیں کی جنہوں نے پچھلے پانچ سو سالوں میں مغربی دنیا کو

Read more

سندھ کے حکمران راجہ داہر پر عرب نے جنگ مسلط کیوں کی؟

سندھ کی قدیم تاریخ اور تہذیب پر تحریر کرنا ایک دشوار کام ہے جبکہ اس کی قدیم سیاسی تاریخ پر قلم اٹھانا اور بھی مشکل ہوجاتا ہے جب معاملہ سندھ کے حکمران راجہ داہر اور عربی اموی سپہ سالار محمد بن قاسم کے درمیان تقابلی جائزے کا ہو۔ یہ تقابلی جائزہ عموماً حق و باطل کے تناظر میں کیا جاتا ہے جو کہ قطعاً مناسب نہیں ہے۔ معاملہ تو محض وطن پرستی اور مذہبی عقیدت مندی کا ہے لیکن اس

Read more

ثمرا کوثر کی کتاب علیم الحق حقی اور تصوف پر ایک نظر

راجپوت اور مذہبی گھرانے سے تعلق رکھنے والی ثمرہ کوثر نے ساہیوال کی تحصیل چیچا وطنی کے ایک گاؤں میں انکھ کھولی۔ بچپن ہی سے لکھنے اور پڑھنے کا بہت شوق تھا پانچویں کلاس کے بچے جب کھیل کود میں مصروف ہوتے ہیں تب انہوں نے نسیم حجازی کا ناول محمد بن قاسم کو پڑھ لیا تھا۔ جیسے جیسے شعور کی پختگی ہوئی تو پڑھنے کے ساتھ ساتھ لکھنے کی طرف بھی راغب ہوئی۔ ان کی ابتدائی تحریریں آنسو اور

Read more

سٹے سے کمائی کے 101 طریقے

اگر آپ واقعی اسی نیت سے یہاں پہنچے ہیں، جو عنوان کی سرخی ہے تو معذرت۔ یہ صرف ”ڈیجیٹل دانہ“ ڈالا ہے۔ اصل موضوع مختلف نوعیت کی ٹریڈنگ (بالخصوص پاکستان اسٹاک ایکسچینج) اور وہاں سٹے بازی ہونے یا نہ ہونے پر بحث ہے۔ جس سے کسی کا متفق ہونا یا نہ ہونا اس کی اپنی مرضی ہے۔ گوناگوں مصروفیات سے وقت نکال کر نئی تحریر بھیجنے کے لئے پچھلی تحریروں کا پٹارا کھولا تو کتاب ”کیف الحال“ سے ایک پچیس

Read more

اپُن کا کرانچی (3)

(کراچی کا ایک دل چسپ احوال پیش خدمت ہے۔ یہ نہ تو تحقیقی مقالہ ہے نہ کوئی سرکاری گزٹ۔ دیکھی، پڑھی اور سنی گئی باتوں پر لکھا ایک مضمون ہے۔ طویل اور معلوماتی۔ کراچی شہر کو سمجھنے میں اور اس پر مزید تحقیق کرنے میں اس سے یقیناً ’مدد ملے گی۔ ہمارے دیوان صاحب کراچی کے باسی ہیں۔ ہوم ڈپارٹمنٹ، مجسٹریسی، ڈسٹرکٹ انتظامیہ، کے ایم سی، جیل ایڈمنسٹریشن، ٹرانسپورٹ، محکمہ زراعت اور ریونیو۔ کراچی کے تقریباً ہر انتظامی محکمے سے

Read more

ناول: چینی جو میٹھی نہ تھی

”چینی جو میٹھی نہ تھی“ نو آبادیاتی پس منظر میں تحریر کیا گیا ناول ہے۔ پہلی بار یہ 2013 میں ولندیزی زُبان میں شائع ہوا اور اس کا اردو ترجمہ 2016 میں پاکستان سے چھپا۔ اس کا ایک اردو ایڈیشن حال ہی میں بھارت سے بھی شائع کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 2016 میں صفدر زیدی کا ناول بھاگ بھری شائع ہوا جو پاک بھارت جوہری ٹکراؤ پر تحریر کیا گیا تھا اور 2022 میں ان کا ناول بنتِ

Read more

غزوہ بدر: دنیا کی فیصلہ کن جنگوں میں شمار ہونے والا معرکہ اسلام کے لیے اتنا اہم کیوں تھا؟

اس جنگ کی اہمیت کئی حوالوں سے تھی اور شاید اسی لیے اس کا شمار دنیا کی چند فیصلہ کن جنگوں میں کیا جاتا ہے اگرچہ کہ تعداد کے حساب سے دیکھا جائے تو یہ بہت بڑی لڑائی نہیں تھی۔

Read more

ثقافتی ازدحام

ہر وہ شے جو افراد کے جذبات اور احساسات سے وجود میں آئے ثقافت ہے۔ کسی بھی معاشرے میں رسم و رواج، طرز بود و باش، اظہار فن کے جو معیار رائج ہوتے ہیں، وہ معاشرے کے سماجی اقدار کہلاتے ہیں۔ جس طرح درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے، اسی طرح ثقافت اور تمدن کی پہچان اس معاشرے کے سماجی اقدار ہیں۔ سر سید احمد خان تہذیب کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جب ایک گروہ انسان کسی

Read more

نکلسن کی لاٹ

"Te zan ta Nikkal Sayn wayan?” ( Who do you think you are ? Nicholson!) تاریخ اور جغرافیہ، سیاحت کی آغوش میں سما جائیں تو دلچسپی اور تھرل بن کے نکلتا ہے۔ اور کبھی کبھی کھوج، جستجو اور تجسس نئی دنیاؤں کو دریافت کرتے کرتے ایسٹ انڈیا کمپنی بن جایا کرتے ہیں۔ کمپنی جب برصغیر کے طول عرض میں اپنے لشکر اتار کے قدم جما چکی تھی تو شمال کی سرکوبی کا سودا سمایا۔ ادھر اپنی ملکہ معظمہ کے ہاں

Read more

دس رمضان: یوم باب الاسلام اور محمد بن قاسم کے سندھ پر حملے کے نقطۂ آغاز کی کہانی

اعجاز الحق قدوسی کی کتاب تاریخ سندھ کے مطابق جس وقت سندھ پر حملے کے لیے محمد بن قاسم کا انتخاب ہوا اس وقت ان کی عمر 17 سال تھی۔انھیں چھ ہزار فوجی، سینکڑوں گھوڑوں اور اونٹوں کے لشکر کے ساتھ سندھ روانہ کیا گیا اور وہ جمعے کے دن دیبل پہنچے جہاں سرزمین سندھ پر پہلی نماز جمعہ ادا کی۔

Read more

انقلاب زندہ باد

ہماری تاریخ بتاتی ہے کہ ہم بنیادی طور پر ایک غلام ذہن قوم ہیں نسل در نسل غلام رہنے کی وجہ سے ہم آزادی کا مطلب تک بھول چکے ہیں آج بھی ہماری پشت پر جیسے غلام ذہنیت کا جھاڑ بندھا ہوا ہے اب تو جیسے ہم اس کے عادی ہو چکے ہیں یعنی ہمیں آزادی سے ڈر لگتا ہے جب غلاموں کو اپنی غلامی سے عشق ہو جائے اور زمینی آقا سے محبت ہو جائے تو ایسے مریضوں کو

Read more

اسلام میں خدا کا تصور: اختتامیہ

میں نے  گزشتہ بارہ مضامین میں اسلام کے سنہری دور میں اسلامی معاشروں میں فلسفیانہ اور دیگر دلائل کی بنیاد پر خدا کی فطرت اور خصوصیات کی تلاش کو پیش کرنے کی کوشش کی۔ اسلام کے سنہری دور کو تقریباً آٹھویں صدی کے وسط سے تیرہویں صدی کے وسط تک کا زمانہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ میرے خیال میں اسلامی تہذیب کا عروج آٹھویں صدی میں اس وقت شروع ہو چکا تھا جب اسلامی فقہ کی تشکیل ہوئی تھی۔

Read more

کمشنر پنڈی اور جنرل ضیا کا ریفرنڈم

منٹو نے اپنا افسانہ رسوائے ادب مگر بہترین افسانہ ”بو“ یوں شروع کیا ہے : ”برسات کے یہی دن تھے۔ کھڑکی کے باہر پیپل کے پتے اسی طرح نہا رہے تھے۔ ساگوان کے اس اسپرنگ دار پلنگ پر، جو اب کھڑکی کے پاس سے تھوڑا ادھر سرکا دیا گیا تھا، ایک گھاٹن لونڈیا، رندھیر کے ساتھ چمٹی ہوئی تھی۔” فروری کی سردیوں کے یہی دن ہیں۔ ان ہی دنوں نمی نمی دھوپ میں کمشنر راولپنڈی ریٹائرمنٹ سے یہی کوئی پندرہ

Read more

’غزوہِ ہند‘ کے سوال پر’انڈیا مخالف فتویٰ‘: انڈیا میں بچوں کے قومی کمیشن کا نوٹس اور دارالعلوم دیوبند کو بند کرنے کے مطالبات

انڈیا کے معروف تعلیم ادارے دارالعلوم دیوبند کی ویب سائٹ پر پوسٹ کیے گئے مبینہ ’انڈیا مخالف‘ فتوے پر بچوں کے حقوق کے تحفظ کے قومی کمیشن (این سی پی سی آر) نے سخت اعتراض کیا ہے۔

Read more

ٹاپ ٹین نیشنل ایشوز

کسی قوم کے شعور اور اوقات کا کچا چٹھا اس کے معمولات، مرغوبات، تقریبات، مشروبات، ماکولات اور محسوسات سے بآسانی کھل جاتا ہے۔ ہماری قوم کو دیکھیں تو خوشیاں نرالی تو غم عجیب اور نہایت غریب ہیں۔ پسند، نا پسند کے تو کیا ہی کہنی۔ :۔ کچھ المیے اور دکھ تاریخی حیثیت کے حامل ہیں۔ آئیے ان پر روشنی ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لونگ گواچنے کا سانحہ: چار عشرے پہلے قوم کی ایک بیٹی کے ناک کا لونگ سر

Read more

نولکھی کوٹھی کا پھوہڑ معمار

اردو میں ناول کی صنف کو بہت آسان سمجھ لیا گیا ہے۔ مدرسین اپنے موٹے شیشوں کی عینک کے عقب سے اپنے کوڑھ مغز طلبا و طالبات پر نظر شفقت فرماتے ہوئے کرم خوردہ نوٹسز سے یوں سنہری الفاظ لکھواتے ہیں : ”پیارے بچو! ناول افسانوی ادب کی بہت معروف صنف ہے جس میں زندگی کے حقیقی واقعات کا عکس پیش کیا جاتا ہے۔ یہ اپنی اصل میں افسانے سے ہی مماثل ہے۔ دونوں میں صرف طوالت کا فرق ہے۔

Read more

بابری مسجد رام مندر تنازع

بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کر کے اس کا افتتاح کر دیا گیا۔ یہ کیا ہو رہا ہے؟ یہ وہی ہو رہا ہے جو ہمیشہ ہوتا آیا ہے۔ یہ وہی ہو رہا ہے جو محمد بن قاسم سے لے کر اورنگ زیب عالمگیر تک پرلوں کے ساتھ ہوا ہے۔ کل تمہارے ہاتھ میں لٹھ تھا آج ان کے ہاتھ میں ہے۔ یہی دنیا کا نیم ہے۔ جب عربی، خلجی، غوری اور تیموری مفتوحہ ہندوستانی راجوں مہاراجوں کی بہو

Read more

سندھو دیش کی راج کماری سوریا، بنت داہر (ناول) میں

بنت داہر، دو لفظوں کی جڑت ہی نہیں، بلکہ دو تہذیبوں کی ایسی داستان ہے جس کے ہم سب صدیوں سے اسیر ہیں۔ یہ دو رویوں کی کہانی ہے جو ہمارے چاروں طرف بکھری ہوئی ہے۔ یہ دو سوچوں کے دھارے ہیں جو دریا کنارے پھلتے پھولتے تمدن کی روانی اور صحرائی معاشرے کی شدت اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ یہ دو تصور کائنات ہیں جو ایک دوسرے کی مخالف سمت میں رواں دواں ہیں۔ فاتح اور مفتوح کے درمیان

Read more

ناول بنتِ داہر: تاریخ سے ماخوذ مختلف بیانیہ

چند سال قبل ایک میڈیا ہاؤس کی ویب سائٹ پر ”اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کے دس بڑے ناول“ کے عنوان سے ایک بلاگ چھپا۔ اردو ادب سے لگاؤ کی وجہ سے انگلی خودبخود ہی دب گئی اور مکمل بلاگ آنکھوں کے سامنے آ گیا۔ اس میں بیان کردہ کئی ناول کا تو پہلے ہی سے مطالعہ کر رکھا تھا اور باقیوں سے بھی تعارف تھا ماسوائے صفدر زیدی کے ”بھاگ بھری“ سے۔ ناول منگوا لیا گیا اور دو نشستوں

Read more

ناول بنت داہر

اکثر تاریخی ناول کے بارے میں قاری کی پہلے سے ہی زیادہ تر رائے بن چکی ہوتی ہے اور وہ اس ناول کو پڑھنے کے دوران وہی کچھ پڑھنا اور تلاش کرنا چاہتا ہے جو ایک خاص مطالعے، سنی سنائی باتوں اور افواہوں کی مرہون منت ان تک پہنچ چکی ہوتی ہے۔ تاریخی ناول کے ساتھ کئی طرح سے قاری کی اٹیچمنٹ ہوتی ہے وہ سیاسی بھی ہو سکتی ہے، اخلاقی بھی ہو سکتی ہے، طبقاتی، قومی اور لسانی بھی

Read more

استاد امانت علی خان: راگ داری اور ریاست

(امانت علی خان کی وفات ( 18 ستمبر 1974 ) پر تحریر کیا گیا یہ پرانا مضمون ابا کے کاغذوں سے ملا تو پڑھ کر حیران ہو گئی۔ اس قدر علم، اس قدر تاریخی حوالے، سوچا۔ اسے پڑھنے والوں کی نظروں سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔ نیلم احمد بشیر) استاد امانت علی خان کی جواں مرگ کا ماتم دیکھتے ہوئے یہ باآسانی کہا جا سکتا ہے کہ قوم ابھی مردہ نہیں ہوئی۔ ان کا فن خاص تھا مگر لگتا ہے

Read more

سولہویں عالمی اردو کانفرنس 2023ء : مقامی زبان و ادب کے مشاہیر (حصہ اول)

پنجابی اور سندھی زبان کے اجلاس کی کارروائی اس کانفرنس میں اتنے ہمہ جہتی موضوعات پر اجلاس ہوئے ہیں کہ کسی ایک تحریر میں ان کو سمونا ان موضوعات کے ساتھ نا انصافی ہوگی۔ اس نا انصافی کا گلہ کہیں کہیں مقررین نے بھی کیا۔ اس کانفرنس پر پہلی تحریر کا موضوع وہ اجلاس ہیں جو مقامی زبان و ادب سے اردو اور اردو دان طبقے کے پہلے سے قائم روابط کو مضبوط، مستحکم اور مستقل کرنے کی محبانہ حکمت

Read more

بلوچستان؛ ایک بہترین سیاحتی مقام

بلوچستان کا نام سنتے ہی قدرتی ذخائر، بے شمار پہاڑی سلسلے، چشمہ و کاریزات اور دیگر انعامات خداوندی کا تصور ذہن میں گونجنے لگتا ہے۔ یہ سرزمین خدا کی خاص خصوصی نظر کرم اور مہربانیوں کا گہوارہ ہے۔ جہاں سرزمین بلوچستان زیر زمین ہزاروں ذخائر معدنیات و قیمتی اشیاء سے مالامال ہے تو وہی محل و وقوع کے اعتبار سے تین ملکوں سے ملنے والی ایک ایسا خطہ بھی ہے جہاں ملک کے سمندری حدود اور آبی بندرگاہیں وقوع پذیر

Read more

بنت داہر: ایک نئی سمت

جنت مکانی قاضی عابد صاحب کہا کرتے تھے : ”مطالعہ پاکستان ایک ایسا مضمون ہے جس میں نا تو مطالعہ ہے اور نہ ہی پاکستان۔“ خیر، اسی مطالعہ پاکستان میں محمد بن قاسم کی جو کہانی سنائی گئی وہ اس قدر دلچسپ اور سحر انگیز تھی کہ وہ لا محالہ ہیرو ہی لگتا تھا۔ کوئی ناہید نامی لڑکی تھی جس کو سندھ میں راجہ داہر نے کال کوٹھڑی میں بند کر رکھا تھا۔ اور جب اس کے صبر کا پیمانہ

Read more

انتخابات ہی سیاست کے رخ کا تعین کریں گے

یہ پاکستان کی سیاست کا خاصہ رہا ہے کہ جب بھی عام انتخابات ہوتے ہیں اس سے پہلے وہ تمام سیاست دان جو قومی اور صوبائی اسمبلی کا مستقل حصہ رہتے ہیں یا پھر اپنی روایتی سیٹوں پر ہمیشہ کامیاب رہتے ہیں۔ جنہیں آپ جیتے والے گھوڑے کہہ لیں یا پھر سیاسی زبان میں انہیں الیکٹ ایبل کہا جاتا ہے ان کی مانگ بڑھ جاتی ہے، ہر جماعت ان الیکٹ ایبل کو ٹکٹ دینا چاہتی ہے۔ جس جماعت میں یہ

Read more

اگر حقیقی مطالعہ پاکستان ہو، تو کیا تماشا ہو

کہتے ہیں کہ کردار کے سوا تاریخ جھوٹ کا پلندا ہے۔ کیونکہ سماجی، سیاسی اور مذہبی تواریخ یا تو طاقت نے مرتب کیں یا پھر عقیدت کے قلم سے رقم ہوئیں۔ ہمارا خطہ ہمیشہ سے ہی روایت پرستی، شخصیت پرستی اور شاہ پرستی کا امین رہا ہے۔ وطن عزیز میں جب کسی طبقے کو مقتدر حلقوں کے مقابل ہزیمت کا سامنا ہوا تو اکثر اصلی مطالعہ پاکستان اور تاریخ کو منظر عام پر لانے کے مطالبے ہوئے۔ کاش ایسا ہو،

Read more

ملتانی کاشی گری

بہت پہلے فارسی کے ایک مشہور شعر میں ملتان کو گرد، گدا، گرما اور گورستان کا شہر گردانا گیا تھا۔ لیکن اس ملتان اور آج کے ملتان میں بہت فرق ہے۔ آج کا ملتان پنجاب کا چوتھا بڑا شہر ہے جو دنیا بھر میں کئی حوالوں سے مشہور ہے جن میں ملتان کی سرزمین پر آرام فرما رہے اولیا و صوفیا، ملتانی سوہن حلوہ، آم کے باغات، ملتانی کاشی گری اور ظروف سازی، چمڑے کے دیدہ زیب کھسے، کمنگری، اونٹ

Read more

شکریہ اقبال، ہم پنجابی مسلمان تیرے مقروض ہیں

میں پنجابی مسلمان ہوں، زمانہ جاہلیت میں ہندستانی رہا ہوں، الحمد للہ پچھلے 75 سال سے پاکستانی ہوں، اس کے لیے میں حکیم الامت علامہ اقبال کا شکر گزار ہوں، اگرچہ اواخر عمری میں انہوں نے اپنی ہندی جڑوں کی تلاش بطور سپرو برہمن کرلی تھی مگر حقیقت یہی ہے کہ وہ مسلمانوں کی حالت زار پر راتوں کو اٹھ اٹھ کر شعر لکھتے اور زار و قطار روتے تھے۔ ہم ایسے گمراہ پنجابی مسلمانوں کو انہوں نے ہی سیدھا

Read more

اگر واقعی صلاح الدین ایوبی آ گیا تو پھر؟

مزے کی بات ہے کہ بائیڈن سے محمد بن سلمان تک، اردوغان سے انوار الحق کاکڑ تک اور پوتن سے جنرل سیسی تک سب کے سب اس عالمی برادری کو تلاش کر رہے ہیں جو اپنا دباؤ ڈال کر جنگ بندی کروائے ۔
حالانکہ سب اچھے سے جانتے ہیں کہ عالمِ اسلام ، اقوامِ متحدہ ، اسلامی کانفرنس یا بھوت ووت کچھ نہیں ہوتے ۔ یہ سب ہمارا وہم ہیں۔ مگر یہ وہ وہم ہے کہ جس کے پیچھے ہم سب اپنا ناکارہ وجود آسانی سے چھپا سکتے ہیں۔

Read more

علی اکبر ناطق کی خودنوشت: آباد ہوئے، برباد ہوئے

دَورِ حاضر میں علی اکبر ناطق کسی تعارف کے محتاج نہیں اورمستقبل میں بھی اُمید کی جاتی ہے کہ اُن کے ادبی قد میں مزید اضافہ ہو گا۔ ناطق کی شخصیت متاثر کُن ہے اور اُن کے قلم سے نکلا ہوا ادب بھی با ادب ہے۔ جہاں پاکستان و بھارت میں اُن کے معتقدین کی کثیر تعداد ہے، وہیں ناقدین بھی اُن پر حملہ آور ہونے کے لیے ہمہ وقت تیارہیں۔ ایک طرف وہ اُردو کے بعض کلاسیکی شعرا کے

Read more

سن 1930 کی دہائی کا سرکی شہر کیسا تھا؟

پانچ دریاؤں والے پنجند سے ذرا آگے جہاں سندھ، چناب کا ہاتھ پکڑتا ہے، سیت پور کا صدیوں پرانا قصبہ موجود ہے۔ مزید تھوڑا آگے بڑھیں تو دو دریاؤں کے بازوئی حصار میں موضع سرکی ہے جو آدھا یہاں اور آدھا اندر ہے یعنی دریا برد ہو چکا ہے۔ ضلع مظفر گڑھ کا قصبہ سرکی اپنی قدامت اور تاریخی عوامل کے حوالے سے مسلمہ حیثیت کا حامل ہے۔ ہڑپہ اور موہنجوداڑو کی تہذیب کا ہم عصر یہ قصبہ اس قدیم

Read more

پاکستان: جین آسٹن کی ایلزبتھ بینٹ اور معجزے

محفل میں گفتگو کا موضوع موجودہ سیاست سے ہوتا ہوا تحریک پاکستان پہ جا ٹھہرا۔ ایسا لگتا تھا کہ قیام پاکستان کے بارے میں ہر شخص کے پاس ایک الگ کہانی ہے۔ کوئی اس کے قیام کا راز محمد بن قاسم کی صورت میں آنے والے پہلے مسلمان کے نقوش پا میں تلاش کر رہا تھا اور کسی کے نزدیک یہ ”ملک خدا داد“ اینگلو امریکن سیاست کا شاخسانہ تھا۔ گویا آپ روزویلٹ اور چرچل کے درمیان ہونے والی مراسلت

Read more

نمک کا جیون گھر” ایک منفرد کتھا

نمک کا جیون گھر رفعت عباس کا پہلا سرائیکی ناول ہے جسے منور آکاش نے سرائیکی سے اردو میں ترجمہ کیا۔ نمک کا جیون گھر اپنی نوعیت کا ایک منفرد ناول ہے۔ ایکا ایسا ناول جس میں ایک منفرد شہر، منفرد معاشرے اور منفرد لوگوں کا تصور بیان کیا گیا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جس میں نا مذہب ہے، نا موت ہے، نا جنگ ہے اور نا ہی خدا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جس میں نا کوئی لیڈر ہے اور

Read more

گجرات اسٹیٹ، علا ؤالدین خلجی سے نریندر مودی تک

اب ہم دہلی سے چل کر ہریانہ، یوپی، سی پی، آندھرا پردیش، تلنگانہ، کر ناٹکا اور مہاراشٹرا سے ہوتے ہوئے گجرات سے گزر رہے تھے، اس طرح یہ ساتویں اسٹیٹ تھی۔ سورت گجرات کا پہلا شہر تھا۔ آگے بڑھنے سے پہلے میں آپ کو گجرات کے ایک ایسے شہر کے بارے میں بتاؤں گا جہاں سینکڑوں کی تعداد میں مختلف کیمیکلز بنانے کے پلانٹ لگائے گئے۔ میرے علم کے مطابق کسی ایسے شہر میں جو بہت بڑا بھی نہ ہو

Read more

عورت سے عدوات کیوں؟

عورت کا اپنے اپنے معاشرے کی تعمیر و ترقی میں کلیدی کردار فراموش نہیں کیا جاسکتا، یہ صنف نازک کئی قسم کی ہوشربا صلاحیتوں سے نوازی گئی ہے۔ تصویر کائنات میں سارے حسین اور انمٹ رنگ اسی کے دم سے ہیں۔ عورت نے انسانی زندگی کے تمام ارتقائی مراحل میں مرد کے شانہ بشانہ اپنا منفرد اور موثر کردار منوایا ہے۔ دنیا کی ہر قدیم سے قدیم تہذیب اس بات کی شہادت دے گی کہ اس دور کی عورت باصلاحیت

Read more

رفعت عباس کا ناول: نمک کا جیون گھر

یہ ایک گمبھیر اور منفرد ناول ہے۔ یہ کسی ایک انسان اور اس کے معاشرے کی کہانی نہیں ہے۔ یہ اس وقت سے لے کر جب سے انسان نے اس دنیا میں آنکھ کھولی ہے اور اب انسان جس مقام پر ہے یہ تب تک کی کہانی ہے۔ انسان کے زمین پر بسنے کی داستان سے لے کر اکیسویں صدی تک کے سفر میں انسان سے ایسی کیا غلطی ہوئی کہ خدا، جنگ اور موت انسان کے لئے لازم و

Read more

تاریخ پاکستان

پاکستان کی تاریخ ایثار، قربانی، جنون، اور عشق سے بھرپور ہے۔ جس میں اہم واقعات ہیں۔ ملک کی کہانی کا پتہ قدیم زمانے سے لگایا جا سکتا ہے، جس میں مختلف تہذیبوں اور خاندانوں نے خطے پر اپنا نشان چھوڑا ہے۔ آئیں پاکستان کی تاریخ پر ایک مختصر جائزہ لیتے ہیں۔ پاکستانی تاریخ کا سفر پاکستان خطے کہ لحاظ سے جنوبی ایشیا کا ایک ملک ہے۔ ایک ایسی سرزمین ہے جس کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ قدیم تہذیبوں کے

Read more

نمک کی جیون نگری

”کسی شہر کا کلام جاگ اٹھے تو لوگ پہلے سے بڑھ کر حسین ہو جاتے ہیں۔“ ایسی انوکھی بات کرنے والا کوئی جادوئی حقیقت نگار ہی ہو سکتا ہے جو اپنے قاری کو اس دھرتی کے ایسے شہر طلسمات میں داخل کر دے، جہاں نہ خدا ہو، نہ جنگ اور نہ ہی موت! ملتان کی زرخیز فکری دانش سے تعلق رکھنے والے اور مقامی آدمی کے موقف بڑے سلیقے سے پیش کرنے والے ہمارے منفرد تخلیق کار اور جادوئی حقیقت

Read more

پدر سری نظام میں صنف کی سیاسی تفریق (دوسرا حصہ)

فعل مختار مرد کی جنسی دادا گیری سیاسی، سماجی اور معاشی یہاں تک کہ محدود عائلی سرگرمیوں کی بنیاد پر بھی یہ بات واضح طور پہ کہی جا سکتی ہے کہ عورت کو مرد کے مساوی حقوق یا اِختیارات حاصل نہیں ہیں۔ اور اِس کی وجہ یہ ہے کہ عورت بحیثیت صنف کے نہیں بلکہ بحیثیت جنس/شے کے برتی جاتی ہے۔ لہٰذا مساوی حقوق کی بات تو درکنار یہ کہنا بھی درست نہیں ہے کہ مرد اور عورت صنفی تفریق

Read more

بے کفن لاشے کا ماتم

اشاروں کنایوں کی زبان وہ بہت اچھی طرح سمجھتی تھی کیونکہ وہ طوائف تھی اور گاہک کی رگ رگ سے واقف۔ طوائفوں سے عشق نہیں، سودا ہوتا ہے۔ لوگ کھلونوں سے دل بہلانے آتے ہیں اور وہ ان کی جیبوں سے اپنا سرمایہ تجارت حاصل کرتی ہیں۔ طوائف سے عشق کا دعویٰ بہت کرتے ہیں لیکن ان کا عشق اس غزل کی مانند ہوتا ہے جس کا مقطع خلوت بے ناموس ہے اس لیے آہ سرد اور لب خشک اسے

Read more

صفدر زیدی کا ناول: "بنت داہر” اور بن قاسم

ناول کا انتساب مفتوح اقوام کے نام ہے۔ خود کلامی میں اپنے خلاف تھیسس کھڑا کیا گیا ہے اور اختتامی انتساب کی روایت قائم کرتے ہوئے راج کماری کو اس کا حق دار ٹھہرایا گیا، اور پھر البرٹ کامیو کے قول کو جھوٹ اور سچ کی صلیب پر رکھے فکشن نگار نے اپنے ہنر کی تابانیاں دکھائی ہیں۔ ہر سامراج کے اپنے ظلمات ہوتے ہیں۔ لیکن ہر اچھے ناول نگار کے اپنے بحر ظلمات بھی ہوتے ہیں۔ بنت داہر دو

Read more

پاکستان: نیوکالونیل ازم کے 76 سال

برطانوی کالونیل عہد کے سیاسی اور معاشی پالیسیوں کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ تقسیم ہند کے 76 سال بعد بھی ان تمام حقائق تک پہنچنا آسان نہیں۔ دراصل پاکستان کے پوسٹ کالونیل سسٹم میں رائج نظریہ علم اور تعلیمی نظام ان حقائق تک پہنچنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس نظریہ علم کی ترویج کے لیے کالونیل عہد کی طاقتیں آج بھی سرمایہ کاری کر رہی ہے تاکہ اپنی علمی بالادستی کے ذریعہ ایک مخصوص سانچہ

Read more

ثقافتی تاریخ میں لوک داستان کا کردار

لوک داستان ماضی کی حقیقت جاننے کا سب سے موثر ذریعہ ہے کیونکہ ان کا مکمل انحصار زبانی تاریخ پر ہوتا ہے جو ہمیں اس دور کی وہ حقیقت بتاتی ہیں جو ثانوی اور اعلی ثانوی ذرائع کے ذریعے سے یا مؤرخ کی غفلت یا ذاتی اناء کی بنیاد پر منظر عام سے دور ہو جاتی ہیں اس طرح لوک داستانیں ہر دور کی تلخ حقیقت کو ایک تخیلاتی انداز میں پیش کرتی ہیں۔ اسی طرح کی کئی مثالیں ہمیں

Read more

پاکستان: نیو کالونیل ازم کے 76 سال

برطانوی کالونیل عہد کے سیاسی اور معاشی پالیسیوں کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ تقسیم ہند کے 76 سال بعد بھی ان تمام حقائق تک پہنچنا آسان نہیں۔ دراصل پاکستان کے پوسٹ کالونیل سسٹم میں رائج نظریہ علم اور تعلیمی نظام ان حقائق تک پہنچنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس نظریہ علم کی ترویج کے لیے کالونیل عہد کی طاقتیں آج بھی سرمایہ کاری کر رہی ہے تاکہ اپنی علمی بالادستی کے ذریعہ ایک مخصوص سانچہ

Read more

عبداللہ شاہ غازی کی کرامات یا سائنسی وجوہات: کراچی ہر بار سمندری طوفان سے کیسے بچ نکلتا ہے؟

اب یہ بحث بھی اہم ہے کہ کراچی کے اس بار یا ہمیشہ طوفان سے بچ جانے کے پیچھے عبداللہ شاہ غازی کی کرامات ہی ہیں یا پھر اس کی کوئی سائنسی وجوہات بھی ہیں؟

Read more

کیا ہندستان میں نوجوان مسلم قیادت کا طلوع ممکن ہے؟

ہندستانی مسلمانوں میں قیادت کے بحران کی بہت ساری وجوہ ہیں، تاہم ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہندستانی مسلمانوں کی موجودہ اعلیٰ قیادت قوم کے نوجوانوں سے غافل ہے، ان کے بارے میں انھیں بظاہر فکر تو ہے مگر ایسی کوئی پالیسی یا منصوبہ سامنے نہیں آتا جس سے یہ اندازہ کیا جا سکے کہ ہمارے قائدین؛ نوجوانوں پر کوئی خاص توجہ دے رہے ہیں۔ ایک تو ویسے ہی بہت کم مسلم نوجوان تعلیم و قیادت کے میدان

Read more

استحکام پاکستان میں میڈیا کا کردار

سانحہ 9 مئی کے واقعات نے ملکی سیاست کا رخ موڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وطن عزیز پاکستان کا ہر درد مند شہری غم و غصے میں دکھائی دیتا ہے۔ ملکی املاک اور شہدا کی یادگار کی توڑ پھوڑ کے ساتھ ساتھ متعصبانہ اور متنفرانہ نعرہ بازی سے کم از کم اتنا فائدہ ہوا ہے کہ ہر ذی ہوش کو ڈیجیٹل میڈیا کے خطرناک ہونے کا بخوبی اندازہ ہو چکا ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کی

Read more

کیا چنگیز خان صرف کھوپڑیوں کے مینار بناتا تھا؟

ہماری تاریخ میں ایسے کردار بھی ہیں جن سے شاہد مکمل انصاف نہیں کیا گیا۔ جیسے پراپیگنڈہ کی آج بہت زیادہ اہمیت ہے اسی طرح پروپیگنڈا ہر دور میں اہمیت کا حامل رہا ہے۔ یہاں اورنگزیب عالمگیر جس نے تمام بھائیوں کو مروا دیا تھا تاریخ میں ٹوپیاں سی کر بادشاہت کرنے والا بادشاہ کے طور پر مشہور ہے۔ سلطان محمود غزنوی جو 30 ہزار بچوں اور عورتوں کو برصغیر میں سے مال غنیمت کے طور پر لے گیا جن

Read more

بنت داہر – ایک نیا زاویہ

ہندوستان کے زر سے زن تک لوٹنے والوں کو اس سماج نے اچھی طرح نہیں پہچانا۔ اس سماج میں کنفیوژن کے انبار پہاڑوں کی طرح تہہ در تہہ دبیز موجود ہیں جو اس سماج کے نا بلوغت کا اظہار ہیں۔ عربوں سے لے تاتاریوں اور آریاؤں نے جب بھی زر، زن اور دھن کی کمی محسوس کی تو ہندوستان پہ چڑھائی کردی۔ انہی کشمکش میں ہندوستان کے باشندے اپنی تہذیب و تمدن کو بھی پس پشت ڈال بیٹھے، اپنے اقدار

Read more

ماضی سازی کی منافع بخش صنعت

کون مائی کا لال کہتا ہے ماضی نہیں بدلا جا سکتا۔ ترکیب نہایت آسان ہے۔ پہلے کوئی سا بھی سرخ، سبز، نیلا، زرد نظریاتی چوکھٹا بنائیے اور اس میں من پسند سنہرا ماضی آسانی سے فٹ کردیجئے۔ ماضی بدل دیا جائے تو پھر اسے تلوار، بھالا، نیزہ، بندوق بنا کے حال کو بھی باآسانی خانہ ساز مستقبل کی جانب ہنکایا جا سکتا ہے۔ اسرائیل کو ہی دیکھ لیجیے جہاں ماضی سازی کا کام ایک دن کے لیے نہیں رکا کیونکہ

Read more

عافیہ کو چھڑانے والا قاسم کب پہنچے گا

کراچی کی ’پورٹ قاسم‘ کو کسی زمانے میں ’دیبل کی بندرگاہ‘ کہا جاتا تھا۔ تب اس ساحلی پٹی کا حاکم راجہ داہر ہوا کرتا تھا جسے عربی جرنیل محمد بن قاسم نے 92 ہجری ( 711 عیسوی) میں شکست دی تھی۔ محمد بن قاسم، حجاج بن یوسف کے سپہ سالار تھے، جنہوں نے اہل عرب کو جوش دلانے اور سندھ پر حملہ کرنے کا جواز ڈھونڈنے کے لئے یہ کہانی تخلیق کی تھی کہ، ”دیبل کی بندرگاہ پر راجہ داہر

Read more

پاکستان میں مظلومیت کی سیاست: رجحانات و اثرات

وطن عزیز اس وقت بیشمار المیوں کا مجموعہ بن چکا ہے۔ ان بڑے المیوں میں ایک ’مظلومیت کی نفسیات‘ یا شاید مظلومیت کا لبادہ موزوں لفظ ہو سکتا ہے۔ ہم نے بحیثیت قوم وتیرہ بنا لیا ہے کہ ذاتی یا قومی سطح کے تمام معاشی، سماجی اور سیاسی مسائل کو پیش کرنے اور حل کی طرف بڑھنے سے پہلے رونے دھونے یا مارے گئے لٹے گئے کی مشق کو تکرار کے ساتھ یقینی بنایا جائے۔ عوام سے لے کر اشرافیہ

Read more

تم کیا ہو؟ ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو ؟

آزادی کتنی بڑی نعمت ہے اس کا اندازہ گزشتہ دنوں مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی دہشت گردوں کی طرف سے نمازیوں پر کی جانے والی بربریت کے بعد شدت سے ہوا جہاں دل غمگیں ہوا وہیں اس بات کا شدت سے احساس بھی ہوا کہ ضمیر مردہ ہو چکے ہیں اور ہم سب بے حس۔ دنیا کے نقشے پر بمشکل اور ”زبردستی“ نظر آنے والے اس قابض اسرائیل نے ایک زناٹے دار تھپڑ ستاون اسلامی ممالک کو ایک لمحے میں دے

Read more

صفدر زیدی کا ناول: بنت داہر

دنیا میں ہمیشہ فاتح اور غالب قوموں کی تاریخ لکھی جاتی ہے۔ ان کے نظریات مغلوب قوموں پر ٹھونس دیے جاتے ہیں۔ مغلوب قوم کی تاریخ، تہذیب و تمدن، ثقافت، طور طریقے اور روایات کو اس طرح غالب قوم غائب کرتی ہے جس طرح پانی ریت میں غائب ہو جاتا ہے۔ یہی کچھ سندھ کے ساتھ بھی ہوا، جب عربی حملہ آور یہاں آئے تو انہوں نے اپنی تاریخ و تہذیب یہاں لا کر سندھ و ہند کی تاریخ اور

Read more

تاریخ اور معاشرتی علوم کی تاریخ

حجاج بن یوسف بنی امیہ کا نامی گرامی گورنر رہا۔ 20 سال تک پورے عراق اور آس پاس کے علاقوں کا مختار کل رہا۔ اس کی سب سے بڑی خوبی کہیں یا خامی وہ اپنے مالکوں یعنی بنی امیہ کا خطرناک حد تک وفادار تھا۔ اس کا ہر لفظ قانون کا درجہ رکھتا تھا۔ مخالف آواز کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیتا اور اس کے لئے وہی کلیہ استعمال کرتا تھا جو ہر جابر ظالم اپنے ظلم کے اوپر

Read more

حکمرانی سے محکومی کی طرف سفر

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ مسلمانوں کی آمد سے پہلے ہندوستان جغرافیائی، سماجی اور سیاسی اعتبار سے بری طرح تقسیم اور نہایت پس ماندہ تھا۔ اُس کی ہزاروں سالہ تاریخ میں صرف چندر گپت موریا اور اَشوک دو اَیسے حکمران گزرے ہیں جن کے زیرِانتظام پورا ہندوستان رہا، مگر یہ عہد فقط نوے برسوں پر محیط تھا۔ باہر سے آریہ آئے جنہوں نے قدیم ہندوستانی باشندوں کو جانوروں کی طرح جنوب کی طرف دھکیل دیا اور پورے معاشرے کو ذات

Read more

مشرف دور پالیسیاں کراچی میں دوبارہ لانے کی تیاریاں؟

فوجی آمریت اور پاکستانی سیاسی آمریت میں صرف اتنا فرق ہے کہ فوجی حکومت میں ہر ادارے پر فوج کا کنٹرول ہوتا ہے جبکہ سیاسی حکومت میں ادارے سیاست دانوں کے رشتہ داروں اور خیرخواہوں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں بلکہ ”آمریت“ میں بڑے اداروں میں کوئی ایک یا دو فوجی افسر تعینات ہوتے ہوں گے پالیسیاں یقیناً اپنی مرضی سے بناتے ہوں گے اس کے برعکس سیاسی حکومت میں سیاسی پارٹیوں کے رکن قومی و صوبائی اسمبلی

Read more

سندھ کی بیٹی ام رباب کو انصاف کب ملے گا؟

سینکڑوں سال پہلے سندھ کی ایک بیٹی کی فریاد پر محمد بن قاسم اپنے لشکر کے ساتھ پہنچا اور اس نے تاریخ رقم کردی۔ نہ صرف فریادی کی داد رسی کی بلکہ برصغیر ہندوستان میں اسلام کی بنیاد رکھی۔ آج پھر سندھ کے ایک ضلع دادو کی تحصیل مہر کی ام رباب ایوان اقتدار اور انصاف فراہم کرنے والے اداروں سے انصاف کی فریادی بن کر عدالتوں کی دہلیز کے چکر کاٹ رہی ہے۔ آج سے 5 سال قبل 17

Read more

غلام شاہ کلہوڑو: ’سندھ کے شاہجہاں‘ کہلوائے جانے والے حکمران جو ’مچھلی والے بابا‘ بن گئے

غلام شاہ کلہوڑو کے دور میں حیدرآباد کے پکے قلعے کے ساتھ کچا قلعہ بھی تعمیر کیا گیا۔ ان کے مزاد پر لوگ اینٹوں کا رسمی گھر بناتے ہیں اور اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ حقیقی زندگی میں بھی اپنا ذاتی گھر بنا لیں۔

Read more

یہ ریل کی پٹری نہیں، ترقی کا زینہ ہے

مگر ہم ترقی سے خائف لوگ۔ انفرادی ترقی کو ہی ترقی سمجھتے ہیں۔ اجتماعی ترقی کی سوچ کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اجتماعی ترقی کی کوشش کرنے والے کو پھانسی چڑھا دیتے ہیں یا ملک بدر کر دیتے ہیں۔ ہم اس مداری سے خوش ہیں جو تماشا دکھائے اور منجن بیچے۔ یورپ بھر میں آمدورفت کا سستا ترین ذریعہ ریلوے ہے۔ آرام دہ ہونے کے علاوہ سیاحتی اعتبار سے بھی دلکش ہے۔ یہ تمام یورپی ممالک کو جوڑے ہوئے ہے اور

Read more

بیٹی کے مبینہ اغوا، تبدیلی مذہب کے بعد بیٹے کی ہلاکت: ’پولیس چشم دید گواہ ماں کا بیان نہیں لے رہی‘

سندھ کے ضلع عمر کوٹ میں ایک معمر خاتون لکھاں کچھی نے کئی روز سے نبی سر تھانے کے باہر دھرنا دیا ہوا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ بیٹی کے مبینہ اغوا اور تبدیلی مذہب کے بعد ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے بیٹے کو قتل کیا گیا تاہم پولیس اسے حادثہ قرار دے رہی ہے۔

Read more

میری پہلی محبت، میرا شہر کراچی

کراچی صوبہ سندھ کا دارالحکومت اور پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی اور صنعتی مرکز ہے جہاں اک دنیا آباد ہے پاکستان کا جدید شہر کراچی اپنی ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ کراچی کی جدید اور خوبصورت عمارتوں کے درمیان کہیں کہیں کہن سالہ، پرانی اور قدیم عمارتیں آج بھی فخر سے کھڑی ہیں، تو کہیں یہ قدیم عمارتیں ایک بھولی بسری داستان بن جانے کو تیار ہیں۔ ان قدیم عمارتوں کے ساتھ کراچی کی ایک پوری تاریخ وابستہ ہے۔

Read more

گوادر کی ڈائری۔ ہنگلاج کے پہاڑ اور نانی مندر

گوادر میں ایک سال قیام کے دوران اکثر نانی مندر کا تذکرہ سنا جو ہنگلاج کے پہاڑوں کے درمیان واقع ہے۔ یہ مندر انتہائی قدیم ہے اور دنیا بھر کے ہندوؤں کی ایک اہم عبادت گاہ ہے۔ ہر سال میں اپریل میں یہاں ایک میلہ منعقد کیا جاتا ہے جس میں دنیا بھر کے ہندو شریک ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے ضلعے لسبیلا کے پہاڑی سلسلوں میں واقع نانی مندر اس حوالے سے بھی اہم ہے کہ یہاں دریائے ہنگول یا

Read more

حیدر علی: ایک دور اندیشں بہادر انسان جس نے انگریزوں کا تن تنہا مقابلہ کیا

1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔ ہم اس علاقے سے گزر رہے تھے جو کبھی حیدر علی کی ریاست میں تھا۔ میں تصور ہی تصور میں اس دور میں چلا گیا جب حیدر علی تن تنہا انگریزوں، مرہٹوں اور نظام حیدر آباد کا مقابلہ کر رہا تھا۔ حیدر علی کی زندگی کے بارے چند معلومات آپ کی خدمت میں پیش ہیں۔ حیدر علی کی تاریخ پیدائش سے

Read more

مسلمانوں کے عروج و زوال کی داستان

اسلام سے پہلے کی عرب تہذیب و تمدن نے انسانی تہذیب کی ترقی اور نشوونما میں کوئی اہم کردار ادا نہیں کیا تھا۔ اس زمانے میں یونان کی تہذیب انسانی اقدار کی نشوونما میں کچھ نہ کچھ قدرے بہتر کرنے کے لیے کردار ادا کر رہی تھی۔ یونانی فلاسفرز کے نظریات و خیالات کا بہت بڑا چرچا تھا۔ یونان اس زمانے میں بطور ایک سلطنت کے روپ میں دنیا کے سامنے ظہور پذیر ہوا۔ اس کے ساتھ روم کا بھی

Read more