کنارے کشتیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے نہیں معلوم پہلی بار ہم کہاں ملے تھے مگر اتنا یاد ہے کہ ایک بار دکھ کی چھتری کے نیچے سمندر کنارے ملنے کا وعدہ کیا تھا۔ وہ مجھے سمندر کہتی تھی اور میں اسے سورج۔ شاید اس لیے کہ میں بہت عمیق تھا اور وہ بہت خوب صورت۔ اسے سمندر کنارے ڈوبنے کا منظر بہت اچھا لگتا تھا اور اس کی خواہش تھی کہ میں سمندر میں ڈوبتے ہوئے سورج کا منظر اس کی آنکھوں سے دیکھوں۔

ایک شام جب میں سمندر کنارے پہنچا تو وہ لڑکی پانی کی سطح پر ڈوبتے سورج کو ہلکورے لیتے دیکھ رہی تھی۔ مجھے دیکھ کر ہلکا سا مسکرائی اور کہا تم وعدے کے کتنے پکے ہو اور وقت کے بھی پابند۔ تم واقعی ایک خوب صورت دوست ہو۔ مجھے دیکھ کر سمندر کے پانی میں گھلتے سورج کے رنگ کی لپ اسٹک اپنے ہونٹوں پر پھیرنے لگی اور کہا یہ سیگریٹ کا دھواں باہر کیوں نکال دیتے ہو؟

مجھے اس کی بات پر بالکل بھی حیرت نہیں ہوئی تھی کیوں کہ اس طرح کے آؤٹ پٹانگ سوالات اس کی عادت تھی۔ میں نے بات کا رخ موڑا اور کہا زمین پر رہ کر آسمانوں میں پھل ڈھونڈنے ہوں تو یہ سب کرنا پڑتا۔ پھر ارض و سما کے رشتے پر اپنا فلسفہ جھاڑنے لگا۔ اچانک اس کی نظر ایک چھوٹے سے جزیرے پر پڑی جو سمندر کی بڑی لہروں میں ڈوب رہا تھا۔ کہنے لگی

وہ دیکھو سوہنی کا کچا گھڑا ڈوب رہا ہے۔

اس وقت مارئی کے گالوں پر حساسیت کی وہ کیفیت تھی جیسا جیسے سمندر کی ساری لہریں اس کے گالوں کے ایک بوسے کے لیے بیتاب ہیں۔ اس نے فوری اپنے چہرے پر گرے بالوں کو درست کیا اور دماغ کے خلیوں کو ترتیب دے کر ساری حساسیت لپیٹ لی اور قدرے سنجیدہ لہجے میں بولی

چلیں سمندر میں اترتے ہیں۔

میں نے کہا: نہیں! ہم سمندر میں نہیں اتر سکتے یہ کنارے کے ساتھ بندھی کشتیاں اسی لیے ہیں کہ لوگ ان پر سوار ہو کر سمندر کی سیاحت کریں۔

مجھے کشتیوں پر یقین نہیں سوہنی کو اس کے گھڑے نے دھوکہ دیا تھا۔ اس وقت مارئی کی آنکھیں دیکھنے سے سے زیادہ چومنے والی تھیں۔ اس کی آنکھوں میں جھانکنا عبث تھا کیونکہ اس کی آنکھوں کے پیچھے کیا کچھ تھا میں نہیں جاننا چاہتا تھا۔

کہنے لگی یہ کشتیاں کیا ہوتی؟
میں نے بتایا کہ کشتی ایک دائرہ ہے جس میں قید ہو کر ملاح وسیع سمندروں میں اترتے ہیں۔
ملاح کشتی میں کیوں سوار ہوتا ہے؟
اس لیے کہ کناروں تک پہنچ جائے۔
پر اعتماد لہجے میں بولی! بالکل اس طرح جیسے تم نے کش لگا کر دھواں باہر نکال دیا۔

میں نے پھر سیگریٹ کی بات کو اور رخ دیا اور کہا مارئی! کناروں میں کشش ہوتی ہے اور یہ کشش ان ملاحوں کے لیے ہوتی ہے جو کشتی میں قید ہو کر سمندر میں اترتے ہیں۔ تم نے اس بوڑھے ماہی گیر کی کہانی نہیں سنی جو ایک طویل عرصہ سمندر کے ساتھ رہنے کے بعد ایک خالی ڈھانچہ لے کر کنارے پہنچتا ہے۔ یہ کناروں کی کشش ہمارے اجتماعی لاشعور میں رکھ دی گئی ہے۔ تم جانتی ہو آدمی جینے کے لیے پیدا ہوتا ہے لیکن پیدائش کے ساتھ ہی موت کی کشتی میں سوار ہو جاتا ہے۔ تم نے ثروت کو پڑھا؟

موت کے درندے میں اک کشش تو ہے ثروت
لوگ کچھ بھی کہتے ہوں خود کشی کے بارے میں
بولی! اس کا مطلب ہم سب خود کشی کرتے ہیں؟

خود کشی تو اس وقت پیدا ہو گئی تھی جب بے کنار سمندر کے گرد اونچے اونچے کنارے اور کناروں کے ساتھ کشتیاں باندھ دی گئی تھی۔

اگر کناروں میں اتنی کشش ہے تو ملاح سمندروں کی طرف کیوں جاتے ہیں؟

سمندر کی اپنی کشش ہے جو ملاحوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ تم پوچھو گی سمندر میں کشش کیوں ہے؟ سمندر اور ملاح کا وہی تعلق ہے جو فطرت اور آدمی کا۔ فطرت ہمیشہ آدمی کو اپنی طرف کھینچتی ہے لیکن جب آدمی چھوٹی سی کشتی میں بیٹھ کر سمندر میں اترتا ہے تو یہ بھول جاتا ہے کہ کناروں پر کشتیاں لنگر کیوں کی جاتی ہیں۔ تم نے پانیوں کو بلاتے تو سنا ہو گا مگر کنارے سے بندھی کشتیوں پر غور نہیں کیا۔

لوگ کناروں سے کشتیاں کیوں باندھتے ہیں؟
اس لیے کہ یہ آدمی نے خود ایجاد کی ہیں۔
وہ کون آدمی تھے؟

اپنے پرکھوں سے پوچھنا، جنھوں نے کنارے ایجاد کیے اور پھر کناروں پر اپنی اپنی کشتیاں باندھ دی اور ملاحوں کے لیے کناروں میں کشش بھر دی۔

کیا وہ آدمی سمندر کی کشش سے بے خبر تھے؟

نہیں سب کچھ جانتے تھے مگر ملاحوں کو کشتیوں میں اس لیے قید کیا گیا تاکہ ان کے بنائے ہوئے کناروں کو پوجا جا سکے۔

اس کا مطلب یہ کنارے اور کناروں کی کشش آدمی کی ایجاد ہے۔

ہاں اور پھر آدمی نے وقت کے ساتھ ساتھ ان کناروں کو اونچا اور کشتیوں کو تنگ بھی کیا ہے۔ اسی لیے سمندر عمیق تر ہوتا چلا گیا اور تم جانتی ہو کہ کناروں سے جان چھڑا کر آدمی سمندر میں اترنا چاہے تو ڈوب جاتا ہے۔

ہاں! کتنے ملاح سمندر کی وسعتوں کی کھوج میں پھر پلٹ کر نہیں آئے اور کتنے ہیں جو اترتے ہی موجوں کی زد میں آ گئے ہوں گے۔

تو ان کے ڈوبنے کا ذمہ دار کون ہے؟

مجھے تو یہی کنارے کشتیاں ذمہ دار لگتے ہیں۔ مگر اب تو یہ کنارے اس قدر مضبوط ہو چکے ہیں کہ زمین کی ساخت کا حصہ بن چکے ہیں۔

مارئی اسی لیے تو ہم زمین پر رہ کر آسمان کے ثمرات کی آرزو رکھتے ہیں اور یہی کناروں میں کشش ہوتی ہے۔
زمین کا پھل کیا ہے؟ مارئی نے بہت غور سے میری طرف دیکھا

ملاح اور سمندر کے درمیان فطری کشش سمجھ لیں اور اپنے اپنے کنارے پست کردیں تو سمندر وسیع ہوتا جائے گا اور گہرائی کم ہوتی جائے گی۔ پھر ہمیں کشتیوں کی ضرورت نہیں ہو گی اور ہم سمندر کے ساتھ ایک خوب صورت وقت گزار کر زمین کے تمام ثمرات کا ذائقہ چکھ لیں گے۔

پھر ڈوبے گا کوئی نہیں؟ اس وقت مارئی کی آنکھیں ایک بار پھر چمک اٹھی۔
تم نے سورج کو ڈوبتے دیکھا، کیا ڈوب گیا؟
ہاں! ڈوب گیا
نہیں مارئی!

سورج کناروں سے بے کنار ہے۔ آسمان کی وسعتوں کا سیاح اور سمندر کی گہرائیوں کا رازداں ہے۔ وہ کشتی پر سوار ہو کر سمندر کی اوپر سطح پر نہیں تیرتا بلکہ سمندر میں اتر کر ادھر ڈوبتا ہے اور ادھر طلوع ہوجاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں معدومیت نہیں رہتی۔ تم نے سوہنی کے کچے گھڑے کی آواز تو سنی ہو گی لیکن مہینوال سے جدائی ختم نہیں ہوئی تھی۔ سوہنی اور مہینوال ڈوب نہیں گئے تھے کناروں پر آباد بستی والوں کی نظروں سے اوجھل ہو گئے تھے۔ وہ ہمارے اردگرد پانیوں میں زندہ ہیں مگر ہم کنارے سے بندھی کشتیوں پر سوار ہو کر انھیں ڈھونڈ نہیں پاتے

جب کنارے ٹوٹ جائیں گے اور کشتیاں نہیں رہیں گی تو ہم سوہنی مہینوال سے مل سکیں گے
اس وقت ہم دونوں کی کیفیت کسی ڈوب جانے والے گاؤں کے دو آدمیوں جیسی تھی جو دور کھڑے ہو کر اپنی چھتوں کی منڈیروں کو دیکھ کر سوچ رہے تھے کہ پانی کم ہوتا جا رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *