استاد: غلام سے نوکر تک

استاد کے سماجی مرتبے کے بارے جتنے اقوال، حکایات اور قصے مشہور ہیں یہ سب کے سب فرضی ہیں۔ اگر ان میں کچھ حقیقت ہے بھی تو جزوی اور وقتی نوعیت تک محدود ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پوری انسانی تاریخ میں استاد کا سماجی مرتبہ زیر التوا رہا ہے۔ ہم استاد کو پیغمبر، گرو، پروہت، پادری اور مذہبی علماء سے جوڑ کر ایک بہت بڑا مغالطہ پیدا کرتے ہیں۔ پیغمبروں کا تو معاملہ ہی الگ ہے۔ مذہبی علماء پادری،

Read more

قتل ( افسانہ)

لوگ کردار مار دیتے ہیں لیکن سچائی زندہ رہتی ہے۔ کردار مارنے کے بھی دو طریقے ہیں ایک آلۂ قتل سے مارنا اور دوسرا آدمی جب کسی زبردست روحانی رشتے سے الگ کر دیا جاتا ہے اور وہ اس جدائی کا عادی نہیں ہو پاتا تو خود بخود مر جاتا ہے۔ آدمی کی اس سے بڑی بدنصیبی اور کیا ہو سکتی ہے کہ کسی چیز کا عادی نہ ہو پائے اور جو لوگ کسی چیز کے عادی نہیں ہو پاتے

Read more

عورت مارچ اور رنگ برنگے تاثرات

میں زندگی کو ہمیشہ کتابوں سے باہر دیکھنے کا عادی ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ میڈیائی دور میں کتاب اپنے گرد و نواح کی زندگی سے سو فیصد مطابقت نہیں رکھتی۔ بہت کم لکھاری زندگی کا عکس اتارنے ہوئے اپنے لوکیل تک محدود رہتے ہیں اور میں اسی کہانی یا ناول کو اہم سمجھتا ہوں جو اپنے لوکیل تک محدود ہو ورنہ اس میڈیائی دور میں کیسے ممکن ہے کہ ایک لکھاری کو کراچی، لاہور سے نیویارک

Read more

فیمنزم اور شفاف فطری ہم آہنگی

انڈسٹری اور گلیمرائزیشن نے فیمنزم کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے انسانی ہم آہنگی پر ضرب کاری لگائی ہے جس کے نتیجہ میں مرد اور عورت الگ الگ پولز پر کھڑے ہیں۔ انسانی زندگی ایک رزم گاہ بنی ہوئی ہے جہاں حقوق کی جنگ برپا ہے۔ میں نے انسانی زندگی کو بہت قریب سے دیکھا ہے ، زندگی بھید بھری گتھیوں کا جھمیلا ہے۔ ہم مرد اور عورت کے ہم آہنگ ہونے کے لطف کو الگ کردیں تو انسان غیر فطری زندگی گزارنے پر مجبور ہو جائے۔ جیسا کہ لیسبیئن اور گے کلچر ترقی پا رہے ہیں اور بازار پلاسٹک کے جنسی کھلونوں سے بھرتے جا رہے ہیں۔ ویسے بھی ہم اپنی ضرورت کی چیزوں سے لطف اور دلچسپی نکال دیں تو شاید اپنے جسم کی حیاتیاتی ضرورتوں کو بھی پورا نہ کر پائیں۔

Read more

کنارے کشتیاں

مجھے نہیں معلوم پہلی بار ہم کہاں ملے تھے مگر اتنا یاد ہے کہ ایک بار دکھ کی چھتری کے نیچے سمندر کنارے ملنے کا وعدہ کیا تھا۔ وہ مجھے سمندر کہتی تھی اور میں اسے سورج۔ شاید اس لیے کہ میں بہت عمیق تھا اور وہ بہت خوب صورت۔ اسے سمندر کنارے ڈوبنے کا منظر بہت اچھا لگتا تھا اور اس کی خواہش تھی کہ میں سمندر میں ڈوبتے ہوئے سورج کا منظر اس کی آنکھوں سے دیکھوں۔

Read more

قدیم سنسکرت کی شعریات اور نظریۂ دھون

ہندوستان میں شاعری پر بحث و تمحیص کی روایت نہایت قدیم ہے۔ ویدوں کی رچائیں، منتر اور شلوک ہر چند تہذیب کے عہد طفلی کی کہانیاں ہیں، لیکن ان میں اظہار اور اسلوب کی پختگی بدرجہ اتم پائی گئی ہے۔ ویدوں کی تالیف کا عہد تقریباً ایک ہزار سال قبل مسیح ہے۔ ”ہسٹری اینڈ کلچر آف انڈین پیپل“ کے مصنف کے مطابق لسانیاتی بنیادوں پر قدیم ترین وید ”رگ وید“ کی زبان ایک ہزار سال قبل مسیح ہے، لیکن اس کا مواد اس سے کہیں زیادہ قدیم ہے۔ اے۔ ایل۔ ہاشم کے بقول دوسری ہزاری قبل مسیح میں جو لوگ ہندوستان میں داخل ہوئے ان میں ایک قبیلہ بھرت نامی تھا جو بعد میں برہما ورت سے معنون ہوا۔ برہما ورت کے پروہتوں کے گیتوں کو باقاعدہ ترتیب دے کر رگ وید تالیف ہوئی۔

Read more

عالم تمام حلقہء دامِ جمال ہے

ہمہ دم حُسن کاری میں مصروف رہنا کائنات کی سب سے اہم سرگرمی ہے۔ کائنات کی بقا، فروغ اور مسرت کا نظم حُسن پر ہی مبنی ہے۔ کیٹس نے اگر یہ کہا ہے کہ حُسن ایک ابدی مسرت ہے تو کوئی نئی بات نہیں ہے۔ انسان قدیم عہد سے حسن کے احساس سے وابستہ ہے اور اس کے راز ہائے سربستہ کی گرہ کشائی میں سرگرداں ہے۔ حسن بنفسہ کیا ہے؟ وہ کون سے عوامل اور محرکات ہیں جو کسی

Read more

محبت کی نفسیات اور سماجی ردعمل

محبت کا فلسفہ اتنا ثقیل اور گراں بار نہیں جس قدر ہماری سماجی سوچ اور اجتماعی رویوں نے گنجلک بنا دیا ہے۔ تھوڑی دیر اپنے اردگرد غور کریں تو بہت جلد ادراک ہو جائے گا کہ جبلتوں پر سماجی جبر نے منافقت اور دوغلے پن کی کو فروغ دیا ہے۔ رومانوی قصوں اور فلموں میں ہماری تمام تر ہمدردیاں محبت کے کرداروں کے ساتھ منسلک رہتی ہیں۔ ہم جیسے ہی کہانی سے باہر حقیقی سماج میں آتے ہیں ہمارے اندر

Read more