سینئر صحافی مطیع اللہ جان اپنے اغوا کی کہانی  سناتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سینئر صحافی مطیع اللہ جان نے اپنے یوٹیوب چینل پر بتایا کہ انہیں اغوا کر کے منہ پر ٹیپ لگائی گئی اور آنکھوں پر کپڑا باندھ دیا گیا، ان کے ہاتھ ہتھکڑی سے پیچھے کی طرف باندھ دیے گئے۔ انہیں ایک گاڑی میں ڈال کر کہیں لے جایا گیا، کسی جگہ گاڑی رکی تو باہر سے کسی اور بندے کی آواز آئی جس نے کہا ” اوکے آپ اب جا سکتے ہیں”

مطیع اللہ جان کے مطابق انہیں جس گاڑی میں رکھا گیا تھا وہ گاڑی سڑک پر نارمل رفتار میں جارہی تھی۔ لگ رہا تھا کہ شاید پشاور یا افغانستان کی طرف جارہا ہوں۔ گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ بعد یہ گاڑی کسی کچے ٹریک پر الٹا چلنا شروع ہوگئی۔ ڈیڑھ سے 2 منٹ بعد گاڑی رکی اور مجھے گاڑی سے گھسیٹ کر نکالا گیا، مجھے لگا کہ اب یہ مجھے مار کر پھینک دیں گے، جیسے پہلے بھی صحافیوں کے ساتھ ہوا ہے ویسے ہی میرے قاتل بھی نہیں ملیں گے، میں نے کلمہ پڑھنا شروع کردیا، اغوا کار مجھے گھسیٹ کر لے گئے اور جھاڑیوں کے اوپر گرادیا۔

مطیع اللہ جان کے مطابق ایک بندے نے پشتو بولنے کی کوشش کی حالانکہ اس سے بولی نہیں جارہی تھی، اس نے مجھ سے میرا نام پوچھا اور کہا کہ تم زرک خان ہو؟ میں نے کہا کہ میں زرک خان نہیں بلکہ میں مطیع اللہ جان ہوں اور ایک صحافی ہوں۔اس نے اپنے ساتھی سے کہا کہ یہ تو کوئی اور بندہ ہے، اس سے مجھے امید پیدا ہوگئی، میں نے قسم کھا کر دوبارہ کہا کہ میں زرک خان نہیں مطیع اللہ جان ہوں اور صحافی ہوں، اس نے پھر کہا کہ یہ غلط بندہ آگیا ہے، اس کو چھوڑو۔ تھوڑی دیر بعد انہوں نے کہا کہ ہم چلتے ہیں، جاتے جاتے کسی بندے نے میرے سر پر بہت زور سے کوئی چیز ماری، میں بیہوش نہیں تھا لیکن میں نے ایسا ظاہر کیا کہ میں بیہوش ہوں۔ اس بندے نے مجھے جھنجھوڑ کر اٹھایا اور میرے ہاتھ میں پانی کی بوتل پکڑا کر چلے گئے۔

مطیع اللہ جان کے مطابق ان کے ہاتھ کھول دیے گئے تھے ، جس کے بعد انہوں نے بڑی مشکل سے اپنے منہ پر لگی ٹیپ ہٹائی اور چلتے ہوئے اسی سڑک تک پہنچے جہاں سے گاڑی ریورس ہوئی تھی۔ سڑک کے بائیں ہاتھ پر آبادی تھی میں اس طرف چل پڑا، وہاں ایک بورڈ لگا ہوا تھا جس پر حکومت پنجاب کا لوگو بنا ہوا تھا، اس پر تین الفاظ پڑھے ” محکمہ زراعت پنجاب”

مطیع اللہ جان کے مطابق انہوں نے ایک مسافر سے موبائل لے کر فون کیا، بھائی کچھ دیر بعد اس جگہ پر آگیا اور اٹھا کر واپس گھر لے آیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply