شاعر ایسا ہی ہوتا ہے بھائ اسے جوتے مت دیجیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


شاعر کئی قسم کے ہوتے ہیں، بیوروکریٹ شاعر، پی آر پسند شاعر، افسر شاعر، شوقین شاعر، شو باز شاعر، تاجر شاعر، بے روز گار شاعر، کل وقتی یا جز وقتی شاعر۔

اور ایک ہوتا ہے صرف شاعر۔ ایسا شاعر دنیا وی معاملات میں کرنا تو بہت کچھ چاہتا ہے، لیکن فطرتاً اس شعر کی عملی تفسیر ہوتا ہے۔

کیا کر رہا ہوں اور کیا کیا کروں گا میں
کرنے کے کے باب میں یہی سوچا کروں گا میں
تقریباً سارے ہی شاعر درویش ہوتے ہیں۔ ہمارے میاں کچھ زیادہ شاعر ہیں اس لیے کچھ زیادہ درویش ہیں۔

اور درویشوں کی قدرو منزلت دیکھنی ہو تو رؤسا و نوابین کے ہاں دیکھو۔ درویش شعرا کے کچھ مداح ایسے بھی ہیں، جن کے پلے ان کے ایک دو شعر ہی پڑے ہوں گے، مگر وقت کاٹنے کو ان کی مداحی کے سچے جھوٹے دعوے کے ساتھ کراما کاتبین کی طرح ساتھ ہی نہیں چلتے۔ اعمال پر بھی کڑی نظر رکھتے ہیں۔ جب اس درویش کی رؤساء کے ہاتھوں مدارات اور وقعت دیکھتے ہیں تو شوق مداحی، مریدی اختیار کر لیتا ہے۔

سب سے پہلے ظاہری حلیے پر نگاہ جاتی ہے۔ ملگجے کپڑے، بڑھا شیو، پرانے جوتے، پھٹے موزے، فوراً ایسے عظیم انسان کی ظالم، دنیاداری بیوی پر نفرین بھیجنے کے لیے فون کر دیا جاتا ہے۔ اب کیوں کہ ایسے ہی ایک درویش، مظلوم شاعر کی بیوی ہونے کا اعزاز ہمیں بھی حاصل ہے۔ سب سے پہلے تو ہمیں فون پر یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ نوید بھائی ایک درویش انسان ہیں پھر ان کے اچھے شاعر ہونے کا اعتبار دلایا جاتا ہے۔ پھر دوسری سانس میں اس بات پر شرمندگی کا اظہار کیا جاتا ہے کہ ایسا شاعر جس کی شہر کا رئیس عزت کرتا ہو، ۔ وہ کتنا بڑا شاعر ہو گا۔ یعنی شاعر کی عزت اگر رئیس نہ کرتا تو ان پر شاعر کی عزت کبھی منکشف نہ ہو تی۔

ہم نے مدعا پوچھا۔ تو بھرائی ہوئی آواز میں گویا ہوئے۔

بھابی بڑی شرم آئی جب نوید بھائی کے بے پالش بوسیدہ جوتے نواب صاحب نے اپنے ہاتھوں سے اٹھا کر رکھے۔ اور نوید بھائی کے پیروں کی انگلیاں موزوں سے نکلی پڑ رہی تھیں۔

ہم نے کہا بھیا آکر خود ان کی آلماری کھولو، کبھی ان پر جینز اور شرٹ کا جنون چڑھتا ہے تو سالوں شلوار قمیض نہیں پہنتے، کبھی تو صبح شام کپڑے بدلتے ہیں، کبھی ہفتوں ایک ہی جوڑے میں رہتے ہیں۔ جوتے چپل نئے نئے پڑے ہیں، لیکن یہ کہتے ہوئے گھر سے نکل جاتے ہیں کہ یہیں دھابے پر بیٹھا ہوں۔

اب آج کل پینٹ شرٹ سے جی اوب گیا ہے۔
انہوں نے ہماری جھنجھلاہٹ کو کسمپرسی سے تعبیر کیا۔
دوسرے دن احمد اپنے ہاتھوں میں جوتوں کے ڈبے اور بیگز لیے گھر آئے۔

پوچھنے پر بتایا کہ ان کے تازہ تازہ مداح نے انہیں گفٹ کیا ہے۔ دو جوڑی چپلیں ایک جوتا، پہن کر دیکھا تو تینوں چھوٹے۔

کپڑے ٹرائی کیے تو شلواریں اٹنگی، قمیضیں ٹائٹ۔

ہم نے کہا واپس کر دیں، کہنے لگے بری بات، اس کا دل ٹوٹ جا ئے گا۔ ان میں سے ایک جوڑا جسم پر پھنسایا، اور تیار ہو گئے۔

ہم نے کہا شیعہ ہیں، مگر اس حلیے میں کٹر دیو بندی لگ رہے ہیں۔ نماز کی تو خیر ہے، لیکن اشعار میں ایمان کی تھوڑی بہت جو کسررہ گئی ہے، اگر تبلیغی جماعت والے، وہ دور کرنے میں کامیاب ہو گئے تو شہر کے نوابین اور رؤسا کس کی جوتیاں سیدھی کریں گے۔ اور پھر ان کا یہ عمل جن چار مداحوں کے دل میں جو قدر پیدا کرتا ہے اس کا کیا ہو گا۔

مگر جناب یہ روز روز کی کہانی ہے۔ مداحوں کی محبت کے قرض کے ساتھ درویش شاعر کی بے نیازی بھی بڑھتی جارہی ہے۔ مداحوں کے جوتے تو کافی ہو چکے، لیکن بھیا اگر ناپ کے دے دیں گے تو پہن بھی لیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *