انقلابی پروفیسروں کی خدمت میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ویسے تو پروفیسر ہونا ایک پیشہ ہے مگرہمارے وطن میں پروفیسر ہونا ایک کیفیت ہے۔ حقیقت میں ”پروفیسر“ کالج اور یونیورسٹی کے اساتذہ کا سب سے بلند درجہ ہے۔ ایسا درجہ جس کے بعد صرف ایک درجہ آتا ہے، ”مرحوم پروفیسر“ ۔ کالجوں میں عمومی روش یہ ہے کہ کوئی ریسرچ اسسٹنٹ بھی بھرتی ہوتا ہے تو خود کو پروفیسر کہلوانا شروع کردیتا ہے۔ جامعات میں معاملہ اندر تو ایسا نہیں مگر جامعات میں بحیثیت لیکچرار بھرتی ہونے والے بھی بہت سے افراد اپنے خاندان والوں اور رشتہ داروں میں پروفیسر کے نام سے ہی معروف ہو جاتے ہیں۔

مگر اوپر جن کا تذکرہ ہے وہ پروفیسر نہ بھی ہوئے تو ”راہی پروفیسریت“ تو ہیں ہی۔ مگر پروفیسر ہونے کی کیفیت جب کسی پر طاری ہو اس کا اثر بہت مرتبہ نجومی، پامنسٹ اور عامل ”پروفیسروں“ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ مگر یہ تو مذاق کی بات ہے۔ ہماری مراد پروفیسر راشد بنگالی جیسوں سے نہیں۔ ہماری نظر میں تو آج ایک اور ہی طبقہ ہے۔ مگر ان پر بات شروع کرنے سے قبل ہم ایک تمثیل بیان کرنا چاہیں گے۔ پڑھئے اور غور فرمائیے۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے۔ ایک ملک میں ایک عظیم فلسفے کے پروفیسر رہا کرتے تھے۔ اصل میں آپ لیکچرر تھے مگر علاقے میں پروفیسر مشہور تھے۔ آپ روز کانٹ اور نطشے پر لیکچر دیا کرتے۔ لیکچر دیتے ہوئے آپ کا چہرہ جذبات سے کبھی سبز ہوجاتا، کبھی سرخ۔ آپ کی آواز کانپنے لگتی۔ آپ کو اپنے جذبات کی زیادتی کی وجہ سے اکثر ’موٹیلئم‘ اور ’رائزک‘ کھانی پڑتی۔ آپ اپنے پی ایچ ڈی کا تحقیقی مقالہ لکھ رہے تھے۔ آپ کا مقالہ عہد حاضر کے خلاف اعلان جنگ تھا۔

ایسا مقالہ جس میں ہر قسم کے سماجی و معاشی نظام کی خرابیاں بیان کرکے ایک نیا سماجی ڈھانچہ پیش کیا گیا تھا۔ آپ نے مقالہ جمع کرایا اور وہ منظو رہوگیا۔ آپ کی ترقی ہوگئی اور آپ اسسٹنٹ پروفیسر بن گئے۔ تنخواہ بڑھ گئی۔ لیکن آپ جانتے تھے کہ یہ مقالہ دنیا کے سامنے آتے ہی طوفان لے آئے گا۔ مقالہ لائبریر ی کی زینت بنا۔ آپ انتظار کرتے رہے مگردس سال تک کوئی انقلاب نہ آیا۔ آپ نے اپنے مقالے کو کتابی صورت میں شایع کیا۔

کتاب بازار میں بک نہ سکی۔ آپ کے گھر میں ہی ڈھیروں پڑی رہی۔ بعد میں اس میں سے کچھ حصہ دیمک کھاگئی اور باقی حصہ آپ کی اولاد نے آپ کے انتقال کے بعد ردی میں فروخت کر دیا۔ ردی سے وہ کتاب چنے والے نے خریدی۔ صفحے پھاڑ پھاڑ کر اس میں مکئی کے بھنے دانے اور چنے فروخت کرتا۔ لوگ چنے اور مکئی کھاتے۔ کاغد کومروڑ کر پھینک دیتے۔ ایک اور تمثیل سنئے اور غور فرمائیے۔

ایک جامعہ میں ا یک ذہنی پروفیسر تھے۔ یعنی تھے تو وہ دفتری عملے کے شخص بلکہ رجسٹرار بھی بنے۔ مگر تھے انتہائی علمی انسان اور فطرتااًیک پروفیسر تھے۔ آپ نے ایک انقلاب لانے کے لئے اپنے شعبے میں ہفتے میں ایک دن ایک علمی انقلابی نشست کا سلسلہ شروع کیا۔ ایک رسالہ بھی جاری کیا۔ مگر اس پورے عمل میں رازداری کا بہت خیال رکھا جاتا۔ کوشش ہوتی کہ محفل میں صرف ان کے ہم خیال ہی آئیں۔ کوشش یہ بھی ہوتی کہ رسالہ بھیہم خیال لوگوں کو ہی ملے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ وہ صاحب رٹائر ہوگئے۔ وہ کوئی انقلاب نہیں لاسکے، کوئی تبدیلی نہ لاسکے بلکہ وہ تو ایک وفادار انقلابی گروہ بھی پیدا نہیں کرسکے۔ بس ہوا یہ کہ ایک قسم کی ہلکی پھلکی ”گرین ٹی“ جیسی علمی سرگرمی چلتی رہی اورعمر گزر گئی۔ بقول ندا فاضلی،

وقت ندیوں کو اچھالے کے اڑالے پربت
عمر کا کام گزرنا ہے گزر جائے گی

پھر ہمارے ملک میں ذہنی پروفیسروں کی ایک فوج ظفر موج الحمدللہ اب کالم نگاری میں بھی نظر آتی ہے۔ میں تو یار دوستوں کے کالم بہت شوق سے پڑھتا ہوں۔ سب میں ہی ایک قسم کا انقلابی Ambitionپوشیدہ ہوتا ہے۔ مجھے بھی ایک زمانے میں لگتا تھا کہ ساری دنیا میں نہیں تو کم از کم علمی دنیا میں ہی میں سگمنڈ فرائیڈ جیسا کوئی دھماکہ ضرور کروں گا۔ اور اس دھماکے کی راہ میرے پی ایچ ڈی کے مقالے سے ہوگی۔ تب پروفیسر ڈاکٹر سیما مناف صاحبہ جب میری تحقیق کی تربیت کررہی تھیں۔

انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ ریفرنس لکھنا سائنسی جریدے کے مضمون کی سب سے اول شرط ہے۔ ہر بات کا حوالہ ہوگا تو بات ہوگی۔ وہ ایک نقطے اور ایک نشان پر میرے لکھے حوالاجات کاٹ دیا کرتی تھیں۔ غصے سے کہتیں ”آپ کیا اپنا ذاتی APAمینول بنارہے ہیں؟“ میں نے ایک دن میڈم سے اپنے خاص نقلی فلسفی کے انداز میں دریافت کیا، ”میڈم ہم تحقیق کیوں کرتے ہیں“ ۔ میری کوشش یہ تھی کہ کسی نرگسیت پسند کی طرح اپنے عظیم مقالے کے خیالی ماڈل کی جھلکیاں میڈم کو دکھا کر داد طلب کی جائے۔

میڈم نے مجھے غور سے دیکھ کر کہا ”آپ اپنے پی ایچ ڈی کے لئے اور میں اپنی نوکری کے لئے۔“ میں ان کی بات سمجھ گیا اور ہوش میں آ گیا۔ میں نے الحمدللہ اسی لئے دو سال میں ایم فل کی ڈگری وصول کی اور تین سال میں پی ایچ ڈی کیا۔ مجھے پتہ چل گیا تھا کہ تحقیقی مقالے دیمک کے کھانے اور نوکری پانے کے لئے لکھے جاتے ہیں۔ لیکچر اس تنخواہ کے لئے دیے جاتے ہیں جو مہینے کے آخر میں ملتی ہے اور کانفرنسوں میں مقالے اس لیے بھیجے جاتے ہیں کہ دوسرے ملکوں کی سیر کی جاسکے۔

مقالوں نے انقلاب نہیں پیدا ہوتے۔ مقالوں سے ابن خلدون اور نطشے نہیں نکلتے۔ مقالوں سے خمینی اور لینن نہیں نکلتے۔ مقالوں سے چی گوارا برامد نہیں ہوتے۔ مگر افسوس اس بات کا ہوتا ہے کہ ہمارے ملک کے بہت سے حقیقی ذہین اور اہلیت والے لوگ ذہنی پروفیسر بن جاتے ہیں۔ تھیسس نہیں لکھا تو تھیسس جیسا مضمون لکھ مارا۔ خیا ل ہوتا ہے جیسے کہ مضمون کے الفاظ گولیاں بن کر دشمنوں کے سروں پر برسیں گے۔ اگر مخالفین کو غصہ ہی دلانا ہے، ان سے کوئی ردعمل محض الفاظ سے ہی پانا ہے تو گالی بکو۔

اور گالی میں APAاسٹائل کا ریفرینس نہیں ڈالا جاتا۔ واقعی بہت سے پیغامات اتنے قوی ہوتے ہیں کہ دنیا میں تبدیلی لے آتے ہیں۔ مگر ان پیغامات کو عوام میں عام کرنے والے خود عوام کے درمیان اپنی دعوت لے کر جاتے ہیں۔ وہ عوام اور خواص سے مکالمہ کرتے ہیں اور اپنے کردار سے اپنے نظرئے یا عقیدے کی حقانیت کو ثابت کرتے ہیں۔ عوام یوٹیوب کے لیکچروں سے نہیں جاگ سکتی۔ عوام پی ایچ ڈی کے مقالوں سے نہیں جاگ سکتی۔ عوام حوالوں میں لگے نقطوں اور اور بریکیٹوں سے نہیں جاگ سکتی۔

مگر جامعات اور کالجوں کی پرسکون فضا اور پینشن کا وعدہ انسان کو بڑا آسان پسند بنا دیتا ہے۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ جامعات اور کالجز بڑی حد تک بند قلعوں ی طرح ہوتے ہیں۔ اساتذہ کو نمبروں سے ڈرے یا اس کی لالچ میں چاپلوسی کرتے طلبہ کو دیکھ کر یہ التباس ہونے لگتا ہے کہ بس ساری دنیا اسی طرح ہمارے الفاظ کی اسیر ہو جائے گی۔ پھر ’سی وی‘ بنانے کی زمانہ طالب علمی کی عادت مارے رہتی ہے۔ بس نہیں چلتا کہ کیسے اپنے ’سی وی‘ میں اپنے کارنامے بھر لئے جائیں۔ تو یہ مفت کے لیکچر اور نشستوں کے نفسیاتی کھیل شروع ہوتے ہیں۔

علمی لوگوں کی ایک اور مجبوری بھی ہوتی ہے کہ وہ بقول اقبال، بے عملی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ بے عملی، علمی لوگوں کے بڑی حد تک ”منہ کا فائر“ بنادیتی ہے۔ پھر علمی لوگوں کی انا بہت بڑی ہوجاتی ہے۔ نتیجہ ان دونوں باتوں کا یہ نکلتا ہے کہ مقالہ بازی اور لیکچر نشستوں سے اپنی انقلابی خواہشات کو بغیر حقیقی عوام میں جائے ہی پورا کر لیا جاتا ہے۔ یہ بڑی حد تک ایک علمی ’فون سیکس‘ کی طرح ہے بس اس میں فرق اتنا سا ہے کہ فون کی دوسری طرف کوئی ہوتا نہیں۔

مجھے بھی زمانہ طالب علمی میں ’فلسفہ‘ ہوا تھا۔ شکر ہے کہ مجھے پھر پروفیسر سیما مناف مل گئیں۔ انہوں نے مجھے بتادیا کہ جامعات کی دنیا نوکری کی دنیا ہے۔ باقی ہر قسم کا خواب دیکھنے کے لئے جامعات کے دروازوں سے باہر جانا پرتا ہے۔ انقلابات، ڈنڈوں، گولیوں اور جیل کی تنگ و تاریک کوٹھریوں سے برآمد ہوتے ہیں۔ مقالوں سے نہیں۔ رسالوں سے نہیں۔ ”منہ کے فائر“ سے، کبھی نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *