قوم کا مبینہ اغوا اور ملزم کی تلاش؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مطیع اللہ جان کو 22 جولائی 2020 کی صبح اسلام آباد سے مبینہ طور پر اغوا کیا گیا۔ ان کے مبینہ اغوا کاروں نے ان پر گھنٹوں مبینہ طور پر تشدد کیا اور پھر مبینہ طور پر فتح جنگ کے پاس ویرانے میں چھوڑ کر مبینہ طور پر فرار ہو گئے۔ ہمارے ملک میں یہ سرگزشت نئی نہیں۔ یہ قصے مئی 1949 میں سول اینڈ ملٹری گزٹ کے خلاف سات اخبارات کے مشترکہ اداریے سے شروع ہوئے۔ پبلک سیفٹی ایکٹ، پروگریسو پیپرز لمیٹڈ، نیشنل پریس ٹرسٹ اور پریس اینڈ پبلیکیشز آرڈیننس کے سیاہ ابواب سے گزرتے ہوئے کہانی بھٹو صاحب کے دور تک پہنچی۔ منتخب حکومت کا یہ پہلا تجربہ پنجاب پنچ اور اردو ڈائجسٹ میں امتیاز کئے بغیر ایک ناخوشگوار یاد چھوڑ گیا۔ جمہوری قیادت صحافت کی قدر و قیمت سے بے گانہ نکلے تو آمریت کا کام آسان ہو جاتا ہے۔

ضیا آمریت میں سنسرشپ، قید و بند، ایذا رسانی اور بے روز گاری کی قیامت کا گلہ بے کار ہے۔ ایک صاحب مجیب الرحمن ہوتے تھے، وہی مدیر تھے، وہی محتسب تھے اور وہی محب وطن۔ مارچ 1985 میں نومنتخب وزیر اعظم محمد خان جونیجو کی افتتاحی تقریر کو سنسر کرنے کی پاداش میں سبکدوش کئے گئے۔ عجب قسمت پائی ہے ہم نے۔ قائد اعظم ہوں یا فاطمہ جناح یا آٹھ سالہ آمریت کے بعد نومنتخب وزیراعظم جونیجو، ہمیں سنسر شپ کا مالیخولیا لاحق رہا۔ سرکاری ملازم خود کو ریاست کے مترادف گردانتا رہا۔ نوآبادیاتی دور گزر گیا، اپنی تلچھٹ چھوڑ گیا۔

بابائے قوم کے رفقا کی سیاسی قامت میں فی تھی ورنہ غلام محمد، محمد علی اور اسکندر مرزا کی کیا مجال تھی کہ قوم پر محکومی کا پالان ڈال سکتے۔ یاد رکھیے، لیاقت علی ہوں یا سہروردی، ذوالفقار بھٹو ہو یا بے نظیر، نواز شریف ہو یا عطااللہ مینگل، غوث بخش بزنجو ہو یا خیر بخش مری، سیاست دان قوم کی قسمت سے بے گانہ نہیں رہ سکتا۔ ریاستی منصب کے بل پر اڑانیں بھرنے والے گالف کھیلنے چلے جاتے ہیں، نومبر 2009 میں جنرل مجیب الرحمن کا انتقال ہوا تو کسی کو خبر نہیں ہوئی۔ نفسیاتی جنگ کے ماہر تھے، نت نیا خیال ذہن رسا پر اترتا تھا، اخبار کیوں نہیں نکالا؟

کچھ یاد دلاؤں؟ فروری 1952 میں ڈھاکہ کے طالب علموں پر گولی چلی تو ڈھاکہ کا ایس پی مسعود محمود تھا۔ 1978 میں بھٹو کے خلاف وعدہ معاف گواہی دے کر ملک سے چلا گیا۔ جنوری 1965 میں فاطمہ جناح کو ووٹ دینے کی پاداش میں کراچی والوں پر گولی چلی تو دفعہ 144 کی آڑ میں شہریوں کو بے بس کرنے والے کمشنر کا نام روئیداد خان تھا۔ اپریل 2014ء میں حامد میر پر حملے کے بعد سامنے آنے والے ایک نام پر ایسا ہنگامہ ہوا کہ میر شکیل الرحمٰن آج بھی اسی ناکردہ گناہ کی سزا بھگت رہے ہیں۔ جنوری 2019ء میں وہی نام ایک عائلی مقدمے میں سامنے آیا تھا، پھر اس خبر کی ہوا نہیں نکلی۔ فروری 2002 میں ڈینیل پرل قتل ہوا۔ ہمارے ہاں مقدمہ ابھی زیر سماعت ہے لیکن دنیا اپنی رائے قائم کر چکی۔

حیات اللہ خان نامی صحافی کی لاش جون 2006ء میں ملی تھی۔ اس کا جرم سوات میں دہشت گردوں کی صف بندی کی خبریں دینا تھا۔ میں اس شریف صحافی کا نام بتا کر اس کی نیکی برباد نہیں کرنا چاہتا جو آج بھی خاموشی سے حیات اللہ کے بچوں کو تعلیم دلا رہا ہے۔ یہ بتا سکتا ہوں کہ انکوائری کمیٹی کی رپورٹ معلوم نہیں ہو سکی۔ ستمبر 2010 میں عمر چیمہ نام کے صحافی کو مبینہ طور پر اغوا کر کے ناقابل بیان تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انکوائری کمیٹی کی رپورٹ سامنے نہیں آ سکی۔ مئی 2011 میں سلیم شہزاد نامی صحافی کو اغوا کر کے مبینہ طور پر قتل کر دیا گیا۔ اس کا جرم یہ تھا کہ اس نے مہران بیس پر حملے کے بعد خبردار کرنا چاہا تھا کہ آئندہ اس قسم کا حملہ ممکنہ طور پر کہاں ہو گا۔ سلیم شہزاد کی موت کے ٹھیک 14 ماہ بعد اگست 2012 کو کامرہ ایئر بیس پر دہشتگرد حملہ ہوا۔

19 اپریل 2014 کی شام حامد میر پر مبینہ طور پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ انہیں مبینہ طور پر چھ گولیاں لگیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کے سامنے اپنے ممکنہ حملہ آوروں کی نشاندہی کی، کسی کو طلب کیا گیا اور نہ کوئی قانونی کارروائی اپنے انجام کو پہنچ سکی۔ البتہ حامد میر سے ہمدردی کا اظہار کرنے والوں کو قیمت چکانا پڑی۔ ستمبر 2017ء میں مطیع اللہ جان کی کار پر مبینہ طور پر حملہ کیا گیا۔ اکتوبر 2017 میں احمد نورانی پر اسلام آباد میں مبینہ طور پر حملہ ہوا۔ اس حملے کے بعد’’پیشہ ور گواہوں‘‘ کی خبروں سے معلوم ہوا کہ احمد نورانی ایک بدکردار صحافی ہے، جسے زدوکوب کرنے سے ملکی مفاد مضبوط ہوتا ہے۔

مطیع اللہ جان بازیاب نہیں ہوئے، انہیں غیر قانونی حراست سے رہا کیا گیا۔ رہائی کے بعد انہوں نے اپنے مبینہ اغوا کاروں کے بارے میں کچھ اشارے دیے ہیں جنہیں دہرانے کی غلطی میں نہیں کر سکتا۔ صرف یہ بتا سکتا ہوں کہ جس ملک میں لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہی سوال کرتے ہوں کہ کیا ہونے جا رہا ہے؟ وہاں دستور کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی نہیں ہوتی۔ مبینہ جرائم رونما ہوتے ہیں۔ دستور قوم کی ڈھال اور قانون شہری کا حصار ہے۔ ڈھال چھن جائے اور حصار گر جائے تو محض ایک فرد یا چند صحافی مبینہ طور پر اغوا نہیں ہوتے، پوری قوم یقینی طور پر اغوا ہو جاتی ہے۔

قوم کی آزادی معرض خطر میں ہو تو سیاست دان، صحافی اور دانشور کی ضرورت پیش آتی ہے کیونکہ معمول کا بندوبست توFiat Accompli (امر واقعہ) کی پناہ لے لیتا ہے۔ بابائے قوم نے فرمایا تھا کہ صحافت اور قوم ایک ساتھ عروج و زوال پاتے ہیں۔ صحافت کی فصیل منہدم ہو جائے تو قوم غیر محفوظ ہو جاتی ہے۔ یہ بات انہیں کیسے سمجھائی جائے جنہیں قوم کے ساتھ اجتماعی جرم سے چشم پوشی کی عادت ہو گئی ہے۔ مخصوص میعاد کے پابند محافظوں سے مطیع اللہ جان کے ملزم تلاش کرنے کی استدعا لاحاصل ہے۔ الحمدللہ، ملک کا دستور سلامت ہے، ہمارا وفاق زندہ اور توانا ہے، جمہوریت کا خواب دھندلایا ہے، اوجھل نہیں ہوا۔ صحافی کا قلم خاموش نہیں ہے، اس قوم کے لئے امید کے سب چراغ ابھی تاریک نہیں ہوئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *