اے این پی 34 سال کی ہو گئی
نیشنل عوامی پارٹی کی نئی شکل عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی بنیاد 1986 میں ولی خان نے رکھی جمہوریت، امن اور ترقی جیسے نعرے لگاتی اے این پی نے ہزاروں شہدا کا خون اپنے وطن اور مٹی پر قربان کرتے ہوئے آج پختونخوا، بلوچستان کے پشتون بیلٹ، سندھ خصوصاً کراچی اور پنجاب کے کئی اضلاع میں اپنا اثر و رسوخ اور ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔
ملک میں لگے تمام مارشل لاؤں سے لے کر کیپٹلزم بلاک کے فساد سے بھر پور جہاد تک ہر دور میں عوامی نیشنل پارٹی کا موقف صاف اور ہر گزرتے دن کے ساتھ حق اور سچ ثابت ہو رہا ہے۔ شہدا کی ایک بہت لمبی فہرست ہے گزشتہ کئی سالوں میں بشیر بلور، ہارون بلور، میاں افتخار کا اکلوتا بیٹا میاں راشد حسین، ملک قاسم خان جیسے ہزاروں شہدا شاہد ہی کسی دوسری سیاسی جماعت نے قربان کیے ہو۔
اے این پی کا موقف شروع دن سے آج تک سوائے چند ایک موضوعات کے ہر حوالے سے صاف ہے۔
پاکستان میں جب اسامہ کو اسلامی دنیا کا ہیرو ماننا اور اسامہ کے حق میں عوامی ریلیز کا انعقاد ہونے لگا تو اے این پی نے ببانگ دہل اسامہ کو اس خطے میں امن کے خلاف لگائی گئی آگ کا ایندھن قرار دیا۔ جب طالبان نے پہاڑوں سے شہری آبادی خاص کر صوبہ پختونخوا کا رخ کیا تو واحد اے این پی تھی جس نے طالبان کو دہشت گرد قرار دیا یعنی عین اسی وقت جب پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے طالبان سے گویا یہ درخواست کی کہ جس کو بھی جلانا ہے جلا دو جس پر بھی دائرہ اسلام سے باہر ہونے کا فتویٰ لگا کر قتل کرنا ہے کرو لیکن آپ ہمارے صوبے پنجاب میں دھماکے نہ کریں۔
جب جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام وغیرہ کے قائدین طالبان کے لئے بیواؤں اور یتیموں سے طالبان کو مضبوط بنانے کے لئے اسلام کے نام پر چندے مانگ رہے تھے، جب سوات میں طالبان نے مخالفین کو اسلامی سٹمپ کے ساتھ چوکوں چوراہوں پر لٹکانے کا عمل شروع کیا، جب بڑے مفتی صاحب کی جماعت نے طالبان کی طرف سے موسیقی کی دکانوں اور آلات کو جلانے کے عمل کو شرعی قرار دیا، جب بی بی شہید نے طالبانی حکومت کو باقاعدہ تسلیم کرنا کا اعلان کیا، جب امریکیوں کی مدد سے مدرسے بننے لگے، جب سعودی فنڈ سے معصوم شہریوں کو جہاد کے لئے ٹریننگ دینے لگے جب بدامنی کی ہوا میں ایرانی ہوا محسوس ہوئی غرض یہ کہ ہر دور میں عوامی نیشنل پارٹی کا موقف صاف، حق اور سچ پر مبنی رہا ہے شاہد یہی وجہ ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کے لیڈران اور کارکنان ہر دور میں شہید ہوتے آرہے ہیں۔
شروع میں اے این پی ہی تھی جس نے افغان جہاد کو فساد قرار دیا باور دو ہاتھیوں کی لڑائی سے تشبیہ دی لیکن اے این پی کے قائدین پر روسی ایجنٹس کے الزامات لگے ولی خان نے اس وقت کہا تھا یہ جو آپ دوسروں کے گھروں میں خاص کر افغانستان میں جہاد اور اسلام کے نام پر آگ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں یاد رکھنا یہ آگ کسی دن بھڑک کر آپ کے اپنے گھر کو لپیٹ میں لے گی لیکن آج اللہ غریق رحمت کریں ولی خان تو زندہ نہیں ہیں لیکن ولی خان کا موقف آج بھی زندہ ہے اور آج پوری دنیا کا شعوری طبقہ بشمول ہمارے وزیر اعظم، آرمی چیف، وزیر دفاع وغیرہ ولی خان کے اس موقف کو درست قرار دے رہا ہے۔



بہت سوچ اور بچار کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ذہنی تشدد جسمانی تشدد سے کہیں زیادہ اذیت ناک ہے۔ جسمانی زخم تو کچھ دنوں میں بھر جاتے ہیں۔ آپ اپنے زخم دیکھا کر مرہم پٹی بھی کروا لیتے ہو اور لوگوں سے ہمدردیاں بھی سمیٹ لیتے ہو پر ذہنی تشدد کے درد کو آپ الفاظ میں بیان نہیں کرسکتے آپ کسی کو وہ زخم دیکھا نہیں سکتے اس لیے ان زخموں کی مرہم پٹی بھی نہیں ہوپاتی اور یہ ناسور بن جاتے ہیں اور جب تک آپ سانس لیتے رہتے ہو آپ اذیت و کرب میں مبتلہ رہتے ہو۔
کل رات گئے میں مری روڈ راولپنڈی پر موٹر سائیکل پر جار رہا تھا کہ ایک پیٹرول پمپ کے ساتھ روڈ کنارے کھڑا ایک شخص زور زور سے چیخ کر رو رہا تھا۔
میں نے پاس جاکر حال احوال پوچھا کہ کیوں پریشان ہو؟
بولا مزدور ہوں۔ فیکٹری میں کام کرتا ہوں، بیٹی بیمار تھی، بےنظیر ہسپتال راولپنڈی میں داخل تھی۔ ابھی کال آیا کہ بیٹی فوت ہوگئی۔ اس لیئے رو رہا ہوں۔ میں نے جھوٹی تسلی دیتے ہوئے کہا کہ صبر کرو ، اللہ ہمت دے یہ قدرت کا قانون ہے۔ اور جھوٹی تسلی دیتے ہوئے روانہ ہوا۔
لیکن واپس آتے ہوئے اسکے دل کا اندر کا آواز میں نے محسوس کیا وہ بہت تکلیف میں تھا اور شاید اسکی اس تکلیف کا اندازہ ہر کوئی نہ کرسکے کیونکہ زمین وہی جلتی ہے جہاں آگ جل رہی ہو۔
جب آپنے آشیانے پر پہنچا تو بار بار دل ودماغ میں بہت سے خیالات آنے لگے۔ اپنے مولا سے بہت رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ بار بار اپنے مولا کو بلاتا رہا کہ اگر آپ ایسا کرتے ہو، تو کیوں لوگوں کا دل توڑتے ہو؟ پتہ نہیں کسی نے میرے میاں سے میری شکایت لگائی ہے شاید، نہ وہ جواب دیتا ہے اور میری کوئی بات سنتا ہے پر اگر آپ میں سے کسی کی بات سنتا ہے تو سب سے پہلے میرا سلام پہنچانا اور یہ بھی بتا کہ آئی لب یو مولا !
آپ تو سچ مچ میں ناراض ہوگئے ہو؟
آپ پلیز مجھ سے ایک بار بات کرو، میں نے آپ سے بہت سی باتیں کرنی ہے؟
آپ سے بہت سی باتیں پوچھنی ہیں؟
اور ہاں آپکے ساتھ بہت شکایتیں بھی کرنی ہیں؟
اور تو اور آپ سے بہت سی گلے شکوے کرنے ہیں؟
بس تو ایک بار میری بات سن لے مولا۔
#باسط_شادوزئی۔