وسائل کی موجودگی میں افلاس کی شکار قوم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملک میں مخصوص مفادات رکھنے والے گروہ کا قومی مفادات پر شب خون پچھلی سات دہائیوں سے جاری ہے۔ اختیارات کے کلی حصول کے لیے آئین کی معطلی، اس میں من مانے رد و بدل سے لے کر منتخب وزرائے اعظم کے قتل اور ملک بدری جیسے اقدامات پاکستان کی عوام کے ذہنوں اور دلوں پر نقش ہیں۔

اس گروہ کے چہرے بدلتے رہتے ہیں، لیکن، آئین و قانون کی پامالی کا مشن تسلسل سے جاری رہتا ہے۔ ملک کی 72 سالہ تاریخ گواہ ہے کہ عوام کے اکثریتی ووٹ سے منتخب کیے گئے وزرائے اعظم سے لے کر خود گروہ کے اپنے ہاتھوں چنے گئے وزرائے اعظم بھی اپنی مدت پوری ہونے سے قبل الزامات کے بچھائے گئے جال میں الجھا کر معزول کیے جاتے رہے ہیں۔

گزرتے وقت کے ساتھ اس گروہ کی حکمت عملی میں تبدیلی آتی رہی ہے۔ براہ راست اقتدار پر قبضہ کرنے کے بجائے انتخابی نتائج میں اپنی مرضی کے رد و بدل سے لے کر خواہش مطابق نتائج کے لیے دہشت گرد تنظیموں کا استعمال اور انتخابی عمل کو مفلوج بنانے کے حربے 2008 کے انتخابات میں واضح طور پر نظر آ چکے ہیں، 2018 کے انتخابات میں حکمت عملی کی تبدیلی انتخابی نتائج پر اثر انداز ہو کر اقتدار پر بالواسطہ گرفت مضبوط کر چکی ہے اور اپنے مطلوبہ نتائج کے لیے ایک کٹھ پتلی حکومت عوام کے سر پر مسلط کر دی گئی ہے۔

ملک میں بدنظمی پھیلانے کی شعوری کوششوں کا اندازہ اس واقعہ سے لگانا مشکل نہ ہو گا جس میں سرکار سے تنخواہ وصول کرنے والے ایک شخص نے آئین و قانون سے وفاداری کا حلف اٹھانے کے باوجود اپنے بد نظم ہونے کا ثبوت اس طرح دیا کہ اپنے ہی محکمے کے چیف کی تقرری کرنے والے وزیراعظم کی بھیجی سرکاری دستاویز پر ”Rejected“ لکھ کر ذرائع ابلاغ میں تشہیر کے لیے روانہ کر دی۔ حدود سے باہر نکل جانے کا مقصد عوام میں سول حکومت کے لیے حقارت اور اس کی بے اختیاری کا احساس پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اپنے محکمے کے ملازم افسر کے اختیارات سے تجاوز پر محکمہ کا کوئی عملی قدم نہ اٹھانا محکمے کی قیادت کا اس عمل پر رضامندی کا کھلا اظہار اور درحقیقت اقتدار اعلی کے خلاف انکار کے مترادف ہے۔

قوم حیرت سے دیکھتی رہی کہ ایک تنخواہ دار ملازم ملک کے چیف ایگزیکٹو کو کتنی آسانی سے بے توقیر کر سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ قوم نے یہ حقیقت بھی جان لی کہ ملک نا انصافی، لاقانونیت اور معاشی بحران کی لپیٹ میں کیوں رہتا ہے۔

ملک کی سول آبادی کے لیے حقارت اور مخصوص مفادات کے محافظوں کا احساس برتری اب ملک کی سڑکوں پر نظر آنے لگا ہے۔ روز مرہ کے معمولات زندگی میں رعونت، مہنگی ترین زمین پر تعیش رہن سہن، سفر کے لیے کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیاں، زرعی اراضی کی ملکیت، کاروبار کے لیے ٹیکس سے مستثنی، کمرشل سرگرمیوں میں اضافے کے لیے مزید اختیار کی ضرورت وسائل پر مکمل قبضے کی ہوس میں اضافے کی بنیادی وجہ ہے۔

ملک کے 22 کروڑ عوام کو آئین میں ملنے والے حقوق میں مسلسل دخل اندازی اور کٹھ پتلی حکومت کے ذریعے معاشی حقوق چھیننے کے لیے قومی مالیاتی کمیشن کے طے شدہ اصولوں میں رد و بدل کی خواہش میں روز افزوں اضافہ ملکی بقاء کے لیے تشویشناک صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

موجودہ حکومت کے اب تک اٹھائے گئے اقدامات سے عوام کو جن بدترین نتائج کا سامنا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بد ترین غربت سے نبرد آزما عوام کی تعداد 2018 میں چھ کروڑ نوے لاکھ تھی، سابقہ حکومت میں یہ تعداد پچھلے برسوں کے مقابلے میں بتدریج کم ہو رہی تھی، مفاد پرست اشرافیہ کی لائی گئی موجودہ حکومت میں غربت تلے دبے شہریوں کی تعداد بڑھ کر آٹھ کروڑ ستر لاکھ  تک پہنچ چکی ہے جس میں مسلسل اضافہ جاری ہے، ماہر معاشیات ڈاکٹرحفیظ پاشا کے مطابق ناقص حکومتی منصوبہ بندی کی وجہ سے اس مالی سال میں مزید ایک کروڑ افراد کے اضافے کے ساتھ غربت کے شکار افراد کی تعداد بڑھ کر نو کروڑ ستر لاکھ ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ ایکسپریس ٹریبون میں شائع ہونے والے اعداد و شمار مطابق متوقع غربت کی شرح کل آبادی کا چالیس فیصد سے زائد تک پہنچ سکتی ہے۔

تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کو ترستی قوم میں بیروزگاری کی شرح جو 2016 میں 7۔ 3 فیصد تھی پردے کے پیچھے سے حکومت چلانے والوں کے موجودہ دور میں تقریباً دو گنا بڑھ کر 2۔ 6 فیصد ہو چکی ہے جبکہ افراط زر کی شرح جو سابقہ حکومت میں 9۔ 3 فیصد تھی اب 11 فیصد سے زیادہ ہو چکی ہے۔

ایک طرف ملک پر دھونس اور دھاندلی سے مسلط کی گئی موجودہ حکومت کی بدترین کارکردگی معیشت کی زبوں حالی بیان کر رہی ہے جو عام شہری میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور مہنگائی سے پیدا ہونے والی بے چینی، مشکلات اور پریشانیوں میں مسلسل اضافے کا باعث ہے تو دوسری طرف مراعات کے مزے لوٹتا مفادات کا محافظ طبقہ ہے جو کبھی اندرونی تو کبھی بیرونی خطرات کا شور مچا کر ملک اور قوم سے خوف کے نام پر پہلے سے حاصل بے تحاشا وسائل میں مزید اضافہ طلب کر رہا ہے، صرف یہی نہیں بلکہ اپنی ذمہ داریوں پر توجہ دینے اور اپنے کام سے کام رکھنے کے بجائے آئین اور قومی مالیاتی کمیشن پر تحفظات کا اسی طرح اظہار کرتا نظر آتا ہے جس طرح چند برس پہلے وزیراعظم کو ریجکٹڈ لکھ کر اپنے تئیں بڑا کارنامہ سرانجام دیا تھا، یہ جانے سمجھے بغیر کہ اس طرح کے رویوں پر مہذب دنیا تمسخر اڑاتی ہے کیونکہ مہذب دنیا میں فرائض کے حدود سے معمولی روگردانی بھی عہدے سے فوری برطرفی کا موجب ہوتی ہے۔

جو عناصر ملکی وسائل کو مکمل طور پر اپنے تصرف میں لانا چاہتے ہیں انہیں یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اس طرح معیشت بدترین اور ناقابل تلافی بحران کی زد میں آ جائے گی اور کیک کا بہت بڑا حصہ جو انہیں مل رہا ہے اس سے بھی محروم ہو جائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *