پاکستانی اشرافیہ میں کون کون شامل ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے ہاں اصطلاح اشرافیہ (elites) کے معانی میں تضاد پایا جاتا ہے … کچھ لوگ اس اصطلاح کے معانی سمجھے بغیر اس لفظ کی بے تکی تکرار کرتے رہتے ہیں – اس تحریر میں میں نے اس اصطلاح کو واضح کرنے کی ایک مختصر کوشش کی ہے –

اشرافیہ کی ایک تعریف میکس ویبر نے کی ہے جو کافی مقبول ہے جس کی رو سے وہ سب لوگ جن کا سماجی ، سیاسی اور معاشی رتبہ (اس نے لفظ position استعمال کیا ہے) عام شہریوں سے بڑھ کر ہے وہ سب اشرافیہ میں آتے ہیں۔ امراء، سیاستداں، بیورو کریٹ اور یہاں تک کہ ویبر فوجی افسران ، دانشوروں اور مذہبی پوزیشن کے حامل لوگوں (جیسے ملا پادری وغیرہ) کو بھی اشرافیہ میں شامل کرتا ہے ….. وہ لکھتا ہے کہ ہر دور دراصل اس اشرافیہ کے باہمی تعامل (interaction )  اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے equilibrium (توازن کی وہ حالت جس پر اشرافیہ کے تمام گروہ متفق ہوں) کا مظہر ہے- اس لئے ویبر سکول آف تھاٹ میں اشرافیہ اچھی بھی ہو سکتی ہے اور بری بھی، جس کے لئے سب سے اہم پیمانہ یہ ہے کہ آیا اشرافیہ کے باہمی تعامل سے ترقی پسند دور وجود میں آتا ہے یا رجعت پسندی و افلاس کا غلبہ رہتا ہے۔

اشرافیہ کی دوسری تعریف مارکس نے کی ہے جو اسے سماجی سیاسی اور معاشی رتبہ کے بجائے سرمایہ (یعنی دولت) سے متعین کرتا ہے – اس سکول آف تھاٹ کے مطابق سماجی سیاسی اور معاشی رتبہ دراصل دولت کا مظہر ہے یا اہل دولت کی عطا ہے- یوں اشرافیہ سے مراد محض دولت مند طبقہ ہے یا ان کے منظور نظر افراد اس میں شامل ہے- اس تعریف کو جدید سوشل سائنسز میں نامکمل سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ تمام سیاسی معاشی اور سماجی مظاہر کی مکمل تشریح سے قاصر ہے اور اس میں تنوع نہی –

کچھ لوگ جیسا کہ کولمبیا یونیورسٹی کے استاد شمس رحمان خان نے اپنے مضمون The Sociology of Elite میں ویبر اور مارکس کی تعریفوں کو یکجا کر کے اشرافیہ کی تعریف متعین کرنے کی کوشش کی ہے ، یوں اس کے مطابق اشرافیہ میں وہ لوگ شامل ہیں جن کے پاس ریسورسز (یعنی دولت، سرمایہ) موجود ہیں یا وہ سماجی (جیسا کہ مذہبی عہدہ، دانشور) اور سیاسی (جیسا کہ فوجی افسران، بیورو کریٹس) رتبے کے حامل ہیں –

میں یہاں ایک بات کا اضافہ کر دوں – پولیٹیکل اکانومی کے لٹریچر کا ایک بڑا حصہ اس بات پر بحث کرتا ہے کہ ایک سیاسی و معاشی یہاں تک کہ سماجی نظام جب  مستحکم  ہو تو اس سے مراد یہ ہے کہ اشرافیہ کے تمام گروپ اس کی اس حالت (Equilibrium) پر متفق ہیں اور یہ کہ تمام بڑی تبدیلیاں اشرافیہ کے گروپوں کے درمیان تصادم (دوسرے لفظوں میں Disequilibrium ) کے سبب آتی ہیں جس کی سب سے بڑی مثال میں سول وار شامل ہے ، یہاں تک کہ اولسن کہتا ہے سوشلسٹ نظام جن ممالک میں آیا وہاں اشرافیہ پہلے سے ہی حالت تصادم میں تھی اور سوشلسٹ تحریکوں کو بھی اشرافیہ کے کسی طاقتور گروہ کی مدد حاصل تھی (بحوالہ کتاب  The Logic of Collective Action)-

یوں پاکستان کی موجودہ کسمپرسی اور ابتر حالت کی ذمہ دار پاکستان میں اشرافیہ کے وہ تمام گروہ ہیں جو اس کی موجودہ حالت پر نہ صرف خاموش ہیں بلکہ ہنوز اپنے مفادات حاصل کر رہے ہیں –

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 162 posts and counting.See all posts by zeeshan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *