پاکستان کی پست شرح خواندگی: حل کیوبا سے سیکھیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم اپنی روز مرہ زندگی میں لکھنے اور پڑھنے کی صلاحیت پر کتنا انحصار کرتے ہیں شاید ہمیں اس کا اندازہ نہ ہو۔ اخباروں میں تبصرے اور تجزیے پڑھ کر ملکی و عالمی حالات سے باخبر رہنا ہو یا حاضری رجسٹر میں اپنے نام کا اندراج کرنا، سائنس کے پیچیدہ مضامین کو سمجھنا ہو یا رجسٹری وصول کرنے کے بعد رسید پر دستخط کرنا، ہر جگہ لکھنے اور پڑھنے کی یہ صلاحیت ہی استعما ل ہوتی ہے۔ عام طور ان صلاحیتو ں کے حامل شخص کو ہی خواندہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ اب ذرا تھوڑی دیر کے لیے سوچیے کہ اگر آپ سے لکھنے اور پڑھنے کی صلاحیت چھین لی جائے تو آپ کی روز مرہ زندگی کیسی ہوگی؟ آپ کو جس صورت حا ل کا سامنا کرنا پڑے گا اس کا سامنا پاکستان کی 43 فی صد آبادی ہر لمحے کرتی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے گلوبل ایجوکیشن مانیٹرنگ ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں شرح خواندگی 57 فی صد ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک کی 43 فی صد آبادی پڑھنے لکھنے کی صلاحیت سے محروم ہے۔ یہ محرومی نہ صرف ان کی زندگی میں مشکلات پیدا کرتی ہے بلکہ معاشرے کے لیے ایک مفید شہری بننے کی راہ میں بھی حائل ہوتی ہے۔ نا خواندگی معاشرے میں طبقاتی تقسیم کو بھی بڑھاتی جس کے نتیجے میں معاشرے میں دو ایسے گروہ وجود میں آتے ہی جو ایک دوسرے سے بالکل لا تعلق رہتے ہیں۔ ملک میں شرح خواندگی میں اضافہ کرنے کے لیے ایک ایسے قلیل مدتی منصوبے کی ضرورت ہے جس کے نتیجے میں شرح خواندگی میں تیزی سے اضافہ ہو۔

اس کی ایک بہترین مثال 1961ء میں کیوبا ء میں شروع ہونے والی خواندگی مہم ہے۔ کیوبا میں انقلاب کے بعد 1959ء میں فیڈل کاسترو کی سربراہی میں بننے والی حکومت نے کئی اصلاحات نافذ کیں جس کے نتیجے میں معاشرے کے نچلے طبقے کے طرز زندگی میں بہتری آئی۔ ان اصلاحات میں صحت اور زراعت کے ساتھ ساتھ تعلیم پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ 1957ء کی مردم شماری کے مطابق کیوبا کی شرح خواندگی 77 فی صد تھی یعنی ملک کی 23 فیصد آبادی نا خواندہ تھی۔ اس 23 فیصد غیر خواندہ آبادی میں 10 لاکھ بالغ افراد بھی شامل تھے۔ خواندگی کی شرح میں اضافے کے لیے حکومت نے 1961ء کو تعلیم کا سال قرار دے ملک گیر خواندگی مہم کا آغاز کیا جس میں رضا کاروں نے گلیوں، محلوں، کھیتوں اور کارخانوں میں ناخواندہ افراد تک پہنچ کر انھیں تعلیم دی۔

یہ مہم تین مرحلوں پر مشتمل تھی۔ پہلے مرحلے میں نا خواندہ افراد کے لیے خصوصی نصاب تیار کیا گیا اور اسے پڑھانے کے لیے پروفیشنل اساتذہ کی مدد سے رضاکاروں کی تربیت کروائی گئی۔ یہ سلسلہ چار مہینے تک جاری رہا۔ مہم کے دوسرے مرحلے میں حکومت نے اسکولوں کو گرمیوں کی تعطیلات سے کچھ پہلے ہی بند کر دیا تاکہ اسکولوں کے طلبہ بھی رضاکاروں کے ساتھ مہم میں حصہ لے سکیں۔ نتیجے کے طور پر تقریباً ایک لاکھ طلبہ اس مہم میں شامل ہوئے۔

ان رضاکاروں نے ملک کے کونے کونے میں پھیل کر ناخواندہ افراد کو پڑھانا شروع کیا۔ فیکٹریو ں میں کام کرنے والے نا خواندہ مزدوروں کو پڑھانے کے لیے فیکٹریوں کے ہی 13 ہزار خواندہ مزدوروں کی خدمات حاصل کی گئیں جنھوں نے اپنے ساتھیوں کو خواندہ بنایا۔ کہا جاتا ہے کہ کم و بیش ڈھائی لاکھ افراد نے اس مہم میں حصہ لیا جن کی کوششوں سے 1962ء تک کیو با کی شرح خواندگی 96 فی صد ہوگی۔ اس دوران تربیت حاصل کرنے والے رضاکاروں نے بعد میں بھی دیگر ممالک میں بھی تعلیمی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور سلسلہ آج تک جاری ہے۔

پاکستان میں شرح خواندگی میں اضافے کے لیے کیوبا کی طرز کے اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکومت چاہے تو نجی شعبے کے ساتھ مل کر خواندگی مہم چلائی جاسکتی ہے جس میں عوام میں سے رضا کاروں کو منتخب کیا جائے اور حکومت اس مہم کے لیے وسائل مہیا کرے۔ پاکستان میں نا خواندگی کی ایک بڑی وجہ غربت ہے۔ والدین اضافی آمدنی کے لیے بچوں کو اسکول بھیجنے کے بجائے مزدوری پر بھیجنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس وجہ سے گلی محلوں، کھیتو ں، کارخانوں اور اس طرح کی دیگر جگہوں کے قریب اسٹریٹ اسکول کے طرز کے اسکول بنائے جائیں جہاں نا خواندہ بچوں اور بڑوں دونوں کو تعلیم دی جائے۔

اگر حکومت اس قسم کا کوئی منصوبہ شروع نہیں بھی کرتی تو ایک ذمے دار شہری کی حیثیت سے ہر خواندہ شخص کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنی ہر ممکن کوشش کرے۔ پاکستان میں یونی ورسٹی کی سطح کے تقریباً 13 لاکھ طلبہ موجود ہیں اگر ہر طالب علم یہ عہد کرے کہ وہ ہرسال دو افراد کو خواندہ بنائے گا تو ہر سال 26 لاکھ پاکستانیوں کو لکھنا اور پڑھنا سکھایا جا سکتا ہے۔ اس کام کے کئی طریقے ہو سکتے ہیں۔ چاہے آپ ہوم ٹیوشن کا طریقہ اختیار کریں یا کچھ دوست مل کر کسی پارک یا دوسرے عوامی مقام پر اسٹریٹ اسکول کا آغاز کریں۔ اگر ہر خواندہ شخص اس کام کو اپنی سماجی ذمہ داری سمجھ کر ادا کرے تو کچھ ہی سالوں میں ملک کی شرح خواندگی میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے جس کا براہ راست اثر نہ صرف عوام کے طرز زندگی پر پڑے گا بلکہ یہ ملک کی سماجی اور معاشی صورت حال کے لیے بھی بے حد مفید ثابت ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply