سازشی نظریات اور حقیقی گارڈ آف آنر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا میں تین طرح کی سوچ کے حامل لوگ پائے جاتے ہیں۔ پہلے وہ جو سنی سنائی بات پہ یقین کر لیتے ہیں، دوسرے وہ جو منطق تلاش کرتے ہیں اور تصدیق کرنے کے بعد مانتے ہیں، تیسرے وہ جو سنتے ہیں، دیکھتے ہیں مگر یقین نہیں کرتے جب تک کہ خود ان پر نہ بیتے۔

‌ہمارے ملک کے 70 فیصد عوام کا تعلق تیسری قسم سے ہے۔ ہم لوگ کسی کامیاب انسان کی کامیابی کو قبول نہیں کرتے۔ بجائے اس کے کہ ہم اس کی کامیابی کے پیچھے چھپی اس کی محنت، سالوں کی ریاضت اور پیہم کوشش کو تلاش کریں ہم اس کی کامیابی کو برائی ثابت کرنے، اسے جھوٹا اور فراڈیا ثابت کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ ہم کسی کی دل سے تعریف کرنا پسند نہیں کرتے کسی کی کامیابی کو تسلیم نہیں کرتے۔ باوجود اس کے کہ ہم جان جائیں اس نے کتنی محنت اور ریاضت سے یہ مقام حاصل کیا ہے ہم اس کی کامیابی کو تکہ fluke، دھوکہ اور نوسر بازی سے جوڑ دیتے ہیں۔

ہمارے اندر acknowledgement کا جذبہ سرے سے موجود ہی نہیں۔ ہم ہمیشہ اپنے سے دراز قد شخص کو نیچے کھینچے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ ہم اس تک نہیں پہنچ سکتے۔ اس دوران اس کو تو شاید تھوڑا نقصان ہو مگر وہ پھر سے اٹھ جائے گا لیکن ہم مزید پستی میں گر چکے ہوں گے اور ہماری ناکامی کی جملہ وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے۔

اگر کوئی ناکام ہوتا ہے تو اس کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جاتا ہے۔ اس کو لعن طعن کیا جاتا ہے، برا بھلا کہا جاتا ہے اس کی حالت زار کو کوئی نہیں سمجھتا بلکہ ہر شخص اس کی برائیوں کی گردان الاپتا ہوا پایا جاتا ہے۔ کوئی نہیں سوچتا اس شخص پر کیا گزر رہی ہو گی اس نے یہاں تک آنے کے لیے کتنے پاپڑ بیلے ہوں گے پھر بھی وہ ناکام ہوا تو ضرور اس کی کوئی وجہ ہو گی مگر اس کو حوصلہ دینے کی بجائے ہر شخص judge، jury and executioner بن جاتا ہے۔

اگر اس کو دلاسا دیا جائے اس کی ہمت بندھائی جائے تو ہو سکتا ہے وہ پھر سے اٹھ کھڑا ہو اپنے مقصد کی لڑائی لڑنے اور آخر کار کامیاب ہو جائے تو سوچیں وہ لوگ جنھوں نے مشکل وقت میں اس کا ساتھ دیا وہ ان کی کتنی قدر کرے گا وہ ان کو زندگی بھر اپنا محسن سمجھے گا۔ مگر ہماری اس اپروچ نے نہ جانے کتنے لوگوں کو ناکامی سے دو چار کیا اور کتنوں کو خودکشی کرنے پہ مجبور کیا۔

جب کورونا وبا پوری دنیا میں پھیل چکی تھی اور سارے ممالک کی طرح ہماری حکومت نے بھی لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا تو ہم اسی اپروچ کے ساتھ آگے بڑھے۔ چار و ناچار ہمیں یہ فیصلہ بر حال قبول کرنا تھا۔ لیکن اس دوران ہمارا رویہ کیا تھا اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ ہم نے ماسک پہننے، سماجی فاصلہ برقرار رکھنے اور گھروں میں بیٹھنے سے انکار کر دیا۔ اور اس پر سونے پہ سوہاگا یہ کہ ہم نے کورونا وبا کے وجود سے ہی انکار کر دیا۔

چونکہ ہم خود کو دنیا کی عظیم ترین قوم سمجھتے ہیں تو اس پر بھی اکتفا نہ ہوا، پوری دنیا میں conspiracy theories بنتی ہیں اور ان کی کوئی نہ کوئی منطق پیش کی جاتی ہے۔ مگر ہمارا تو اس میں بھی کوئی ثانی نہیں ہم نے اسے امریکہ کی سازش قرار دے دیا کہ امریکہ تیل نکالنے کے لئے برازیل کے ایمزون جنگلات میں آدم خور قبیلے کو ہر ہفتے 20000 لاشیں پہنچا رہا ہے اس لیے یہ سب ڈرامہ کیا گیا ہے اور ڈاکٹرز لوگوں کو زہر کا ٹیکہ لگا رہے ہیں اور ایک لاش کے عمران خان کو دو لاکھ روپے ملتے ہیں۔ اگر ایک لمحے کے لیے اس فضول ترین تھیوری کو مان بھی لیا جائے کہ یہ یہودیوں کی سازش ہے تو دنیا بھر کے ایک سو پچانوے ممالک کیوں اتنا عرصہ بند رہے اور سب سے زیادہ خود امریکہ کیوں متاثر ہوا؟ ان کے اپنے ممالک کھربوں ڈالرز کا نقصان کیوں برداشت کر رہے ہیں؟

اب سوچئیے وہ ڈاکٹرز جو اپنی اور اپنے خاندان کی جان داؤ پہ لگا کر دن رات اسپتالوں میں ہمیں اس وبا سے بچانے کے لیے کام کر رہے تھے تو ان کے دل پر کیا گزری ہو گی؟ بجائے اس کے کہ ہم ان کا حوصلہ بڑھاتے، ان کو داد دیتے اور ان کی ہمت بندھاتے ہم نے ان پر قتل کرنے کا الزام لگا دیا۔ وہ پیرا میڈیکل اسٹاف، نرسز اور ڈاکٹرز جو اس جہاد میں جان کی بازی ہار گئے ان کی روحیں ہمارے بارے میں کیا گمان کرتی ہوں گی کہ یہ وہ قوم ہے جن کے لیے ہم نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا اور یہ لوگ ہم پر قاتل ہونے کا الزام لگا رہے ہیں شاید ہم نے غلطی کی اور شاید وہ بھی غلطی پر ہیں جو اس وقت ہمارے مورچوں پر لڑ رہے ہیں۔

ہم ایک طرف اسے یہودیوں کی سازش قرار دے رہے ہیں اور دوسری جانب ویکسین کے لیے انہیں یہودیوں کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ ہم عظیم قوم اس وائرس کا دوا بھی نہیں بنا سکتے لیکن بر حال ہم عظیم ہیں اور ہمیں کسی سے کچھ سیکھنے کی ضرورت ہر گز نہیں ہے۔

اس دوران کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنھوں نے غریبوں کی مدد کرنے کا سوچا اور زندگی گزارنے کے لیے اشیا ضروریہ کو مستحق لوگوں تک پہنچانے کا بیڑا اٹھایا اور حکومتی اداروں کی مدد بھی کی۔ ایسے لوگ ہمارے اصلی ہیرو ہیں جنھوں نے اپنے بہن بھائیوں کو مشکل کی اس گھڑی میں اکیلا نہیں چھوڑا۔ یہ لوگ واقعی داد کے مستحق ہیں۔

سرگودھا میں کورونا کے آخری مریض کی صحت یابی کے بعد جاتے ہوئے تصویر سوشل میڈیا کی زینت بنی۔ یہ تصویر خود بول رہی تھی جس کو کسی کیپشن کی ہرگز ضرورت نہ تھی۔ اس تصویر کو دیکھ کر ایک خوشگوار حیرت ہوئی اور بے اختیار آنسو چھلک پڑے۔ قوم کے مسیحا کوریڈور میں دو قطاروں میں کھڑے تالیاں بجا رہے تھے اور درمیان سے گزرتا ہوا کورونا سے جیتنے والا وہ آخری شخص انھیں سیلوٹ کر رہا تھا۔ شاید یہ دنیا کا انوکھا گارڈ آف آنر تھا جس میں سیلوٹ درمیان میں سے گزرتا شخص کر رہا تھا۔

آج الحمدللہ پاکستان میں دو لاکھ تیس ہزار سے زائد افراد صحت یاب ہو چکے ہیں اور تیس ہزار کے قریب ایکٹیو کیسسز باقی ہیں۔ امید ہے جلد ہم اس وبا سے چھٹکارا پا لیں گے جس میں سب سے بڑا کردار ہمارے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کا ہے اور وہ خراج تحسین پیش کیے جانے کے لائق ہیں، وہ حقیقتاً گارڈ آف آنر پیش کیے جانے کے مستحق ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ ہم اپنی اس اپروچ کو کب بدلیں گے؟ کب ہم سیکھنے کی طرف آئیں گے؟ کب تک ہم خود کو عظیم ترین اور دوسروں کو حقیر ترین سمجھتے رہیں گے؟ اگر ہم ترقی کرنا چاہتے ہیں تو ہر صورت ہمیں اپنی اپروچ تبدیل کرنا ہو گی۔ ہمیں دوسروں کی کامیابیوں کو سراہنا ہو گا، انھین تسلیم کرنا ہو گا، دوسروں کی ناکامیوں میں ہمدرد بننا ہو گا اور ان سے سیکھنا ہو گا۔

ہمیں ہر چیز کو یہودیوں اور امریکہ کے کھاتے میں ڈالنے کی بجائے منطق تلاش کرنا ہو گی اور حل نکالنا ہو گا۔ ہمیں غدار اور کافر کے فتوے لگانے کا سلسلہ بند کرنا ہو گا۔ ہمیں حب الوطنی اور کامل ایمان کے سرٹیفکیٹ جاری کرنا بند کرنا ہو گا۔ ہمیں اپنی اپروچ پر سنجیدگی سے غور کرنا ہو گا اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے اور ہم جہاں آج ہیں شاید کل اس سے بھی پیچھے چلے جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *