قصہ مولانا فضل الرحمن کے بھائی کی ’متنازع‘ تعیناتی کا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انجینئر ضیاء الرحمن صاحب جنوری 2020 سے ہی کراچی میں تعینات ہیں، ابتداء سال میں ان کی خدمات سندھ حکومت نے حاصل کی اور وہ بطور او ایس ڈی سندھ میں سات ماہ سے خدمات انجام دے رہے ہیں ان کی پیشہ روانہ صلاحیتوں کی بنیاد پر انہیں ڈی سی لگانے کا فیصلہ کیا گیا،

اور پھر یہ بات مدنظر رہے کہ انجینئر ضیاء الرحمن کی بیرون صوبہ یہ کوئی پہلی پوسٹنگ نہیں ہے بلکہ اس سے قبل وہ کے پی کے سے پنجاب کے ضلع خوشاب ٹرانسفر ہوکر بطور ڈی سی خدمات انجام دے چکے ہیں، اور اس کے بعد دوبارہ کے پی کے میں افغان کمشنر کے طور پر تعینات ہوئے،

جب انجینئر ضیاء الرحمن ڈی سی ضلع خوشاب تعینات ہوئے تو اس وقت ان کا گریڈ 18 تھا اور بیرون صوبہ پوسٹنگ تھی۔ جبکہ سندھ میں جب وہ ڈی سی ضلع وسطی کراچی مقرر ہوئے ہیں اب وہ گریڈ 19 کے افسر کے طور پر خدمات دے رہے ہیں،

افغان کمشنری کے بعد وہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے ہوتے ہوئے بھی کے پی کے میں تین ماہ تک ڈپٹی سیکرٹری ہیلتھ کے عہدے پر تعینات رہے،

اور پھر یہ اعتراض کہ کیا سندھ میں کوئی ایسا شخص نہیں تھا کہ کے پی کے سے خدمات منگوانی پڑی یہ انتہائی بے بنیاد اعتراض ہے سول سروس کا کوئی بھی افسر کسی بھی صوبائی حکومت کی درخواست اور اپنی صوبائی حکومت کی این او سی سے ملک کے کسی بھی حصے میں تعینات کیا جا سکتا ہے، اس وقت سندھ کے سینکڑوں ایسے افسران ہیں جو بیرون صوبہ تعینات ہیں کیا دیگر صوبوں میں ان کی تعیناتی کے وقت ان معترضین کی عقل گھاس چرنے گئی ہوئی تھی،

ملاحظہ کریں
اس وقت صوبہ سندھ میں
10 سے زیادہ ایس ایس پی
10 سے زیادہ ڈی ایس پی
20 سے زائد اے ایس پی ایسے ہیں جن کا دیگر صوبوں سے تعلق ہے وہ سندھ کے نہیں ہیں،

صوبہ سندھ میں آئی جی پولیس کی اہم ترین پوسٹ پر آئی جی کلیم امام طویل عرصہ تعینات رہے وہ سندھ کے رہائشی نہیں تھے، کیا ان پر کبھی اعتراض ہوا؟

اور پھر اگر سندھ میں بیرون صوبہ کا افسر تعینات نہیں ہو سکتا تو صوبہ سندھ کا ثناء اللہ عباسی کیوں گلگت بلتستان میں تعینات کیا گیا تھا؟ ہے کسی کے پاس جواب؟

اس وقت بھی گلگت بلتستان کا آئی جی سندھ کا رہائشی ہے،
ڈی جی موٹروے بھی سندھ سے تعلق رکھتے ہیں،
ایف آئی اے کے سربراہ کا تعلق بھی سندھ سے ہے،
ان کی تعیناتی کس زمرے میں گردانی جائے گی؟
آگے بڑھتے ہیں پنجاب کی جانب
اس وقت صوبہ پنجاب میں

10 سے زیادہ ایس ایس پی، اور تقریباً دس کے قریب ڈی ایس پی ایسے ہیں جو سندھ سے تعلق رکھتے ہیں، تحریک انصاف کی صوبہ پنجاب میں حکومت ہے ان تعیناتیوں پر کیوں چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے؟

اور پھر صوبہ بلوچستان کی طرف آئیں
صوبہ بلوچستان میں تقریباً پانچ ڈی ایس پی ایسے ہیں جو سندھ سے تعلق رکھتے ہیں،

حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان کی سول سروس کا کوئی بھی ملازم کسی بھی جگہ کام کرنے کا مجاز ہے اور اسے یہ حق آئین پاکستان نے دیا ہے،

ان تمام حقائق کے مدنظر یہ بات وثوق سے کہ سکتا ہوں کہ انجینئر ضیاء صاحب کی تعیناتی پر تکلیف کی اصل وجہ صرف ان کا مولانا فضل الرحمن کا بھائی ہونا ہے، ورنہ ان کی میرٹ پر سلیکشن سے لے کر کے پی حکومت کی این او سی تک کوئی بھی ایک قدم ایسا نہیں جسے پاکستان کے کسی قانونی فورم پر ثابت کیا جا سکا ہو؟ اگر ایسا ہوتا تو تحریک انصاف انہیں افغان کمشنری سے ہٹانے کے بعد سرکاری نوکری سے ہی ہٹا دیتی لیکن ہر طرح کی شکست کھانے کے بعد بالآخر تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے انہیں ڈپٹی سیکرٹری ہیلتھ کے عہدے پر تعینات کیا اور پھر جنوری 2020 میں انجینئر ضیاء صاحب کی خدمات بطور او ایس ڈی کراچی سندھ حکومت نے لے لیں،

ذیل میں سندھ میں تعینات پولیس افسران کا ریکارڈ ملاحظہ کیجئے
ایس ایس پی لاڑکانہ مسعود بنگش
ایس ایس پی گھوٹکی عمر طفیل
ایس ایس پی شکارپور کامران نواز پنجوتھا
ا ایس پی لاڑکانہ کلیم امام
ڈی سی لاڑکانہ نعمان صدیقی
اے ایس پی سٹی لاڑکانہ رضوان طارق
ایس پی یوٹی لاڑکانہ احمد فیصل چودھری
ڈی آئی جی سندھ ناصر آفتاب
ڈی سی کاشف ٹیپو
ایس ایس پی اسد ملھی
ایس ایس پی اسد رضا شاھ
ایس ایس پی ڈاکٹر فرخ
ایس ایس پی عمران قریشی
ایس ایس پی ساجد امیر سدوزئی
ایس ایس پی توقیر محمد نعیم
ڈی آئی جی اکبر ریاض
ایس ایس پی عرفان بھادر
ایس ایس پی طارق ولایت

یہ تمام وہ افسران ہیں جن کا تعلق صوبہ سندھ سے نہیں ہے بلکہ مختلف صوبوں سے ہیں لیکن خدمات سندھ میں سرانجام دے رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply