ایک بار محبت کر کے تو دیکھو!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عرصہ ہوا کا فکا کی کہانی کایا کلپ پڑھی تھی۔ اس میں ایک ایسے شخص کا قصہ ہے جو ایک صبح سو کے اٹھتا ہے تو خود کو انسان کی بجائے ایک بڑے سے کیڑے میں تبدیل پاتا ہے۔ پہلے تو اس کایا کلپ کو وہ خود بھی نہیں سمجھ پاتا اس کے لیے سب کچھ بدل جاتا ہے ہر چیز ہر بات کے معنی تبدیل ہو جاتے ہیں۔ وہ حیران ہوتا ہے اور خود کو بے بس محسوس کرتا ہے۔ احساسات کی ایسی منظر کشی کی گئی ہے کہ واقعی ہی واضح طور پہ سمجھ آنے لگتا ہے کہ یہ حادثہ اگر انسان کے اپنے ساتھ بیت جائے تو وہ کیسے اس صورتحال کا سامنا کرے گا۔

کہانی میں جو پہلو میرے لیے بہت تکلیف دہ اور روح کو چھو لینے والا تھا وہ یہ تھا کہ اس کی بہن اس کی کمر میں سیب دے مارتی ہے جو اس کی کمر میں پیوست ہو جاتا ہے۔ اور اس کی تکلیف مجھے اتنی شدت سے محسوس ہوئی کہ عرصہ تک مجھے سیب سے با قاعدہ وحشت رہی۔ وقت گذرا تو سمجھ آیا یہ علامتی کہانی ہے۔ جو ایک ہمہ گیر سچائی کو ظاہر کرتی ہے کہ جب تک آپ کی ذات دوسرے لوگوں کے لیے فائدے کا باعث ہے آپ ان کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں ان کے لیے سہولت کا باعث ہوتے ہیں تب تک انسان کی وقعت اور اہمیت ہے۔ جیسے ہی انسان سے وابستہ امیدیں، توقعات اور خواہشیں پوری ہو جاتی ہیں تو وہ سب رشتوں کے لیے بے کا ر اور بے معنی ہو جاتا ہےا س کی حیثیت ایک کیڑے سے بڑھ کہ کچھ نہیں رہ جاتی جس کو اس گھر میں رکھنا بھی سوال کا باعث بن جاتا ہے جو اس کا اپنا ہوتا ہے۔ اس کی وقعت، اہمیت حتی کہ ذات بھی غیر ضروری ہو جاتی ہے۔ کافکا نے ایک ایسی حقیقت کو بیان کیا ہے جسے جھٹلانا ممکن نہیں۔ یہ ہمہ گیر سچائی ہے کہ ما دیت پرستی کی دنیا میں عالمی سطح پہ ٹشو پیپر کلچر کو اپنا لیا گیا ہے۔ انسان کی حثیت ایک ٹشو پیپر کی سی ہو گئی ہے جسے استعمال کے بعد ضائع کر دیا جاتا ہے۔ یہ کہانی ایک ایسے دکھ کی ہے جس کا سامنا ہر اس شخص کو کرنا پڑتا ہے جو اپنی اہمیت کھو دے۔ یہاں تک بات ہے انسان کی ذات کے ایک پہلو کی کہ وہ جب دوسروں کی نظروں میں اہمیت کھوتا ہے تو وہ خود کو بے معنی سمجھنے لگتا ہے۔

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر انسان میں وہ قوت ہے جو دوسروں کو حوصلہ دے سکتی ہے ان کی زندگی سنوارنے کی تحریک پیدا کر سکتی ہے اپنا آپ دان کے بدلاؤ لا سکتی ہے وہ طاقت اس میں اپنے لیے جینے کا حوصلہ کیوں پیدا نہیں کر سکتی؟ بات یہ ہے کہ دنیا میں جو جذبہ انسان کو زندہ رہنے کا حوصلہ دیتا ہے ہر سرد و گرم کے سامنے ڈٹے رہنے پہ آمادہ کرتا ہے وہ جذبہ محبت کا ہے۔ یہ محبت کا ہیجذبہ ہے جو انسان کو بے لوث بناتا ہے اسے اس کے خاندان سے، اولاد سے اور دوستوں سے جوڑتا ہے۔ اسے وہ ہمت عطا کر تا ہے جو جینے، زندگی کی جنگ لڑنے کے لیے ضروری ہے۔ جوں ہی زندگی سے محبت کا وجود ختم ہوتا ہے اور یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ انسان کی ذات اس سے جڑے لوگوں کے لیے بے معنی ہو چکی ہے تو مایوسی سر ابھارنے لگتی ہے سب حوصلے دم توڑ دیتے ہیں۔

اپنی اہمیت کھو دینے کا خوف اپنے لاچار ہونے کا خدشہ اپنی ذات کے بے معنی ہو نے کا ڈر سب سے زیادہ عمر میں آگے بڑھتے ہوئے لوگوں میں پایا جاتا ہے۔ اسے بڑھاپے کا ذہنی دباؤ کہ لیں چڑچڑے پن کا نام دے لیں یا ضرورت سے زیادہ حساسیت کا۔ وہ لوگ جو جو ریٹائیرمنٹ کے قریب ہوتے ہیں یا اپنی ذمہ داریوں کو پورا کر چکے ہوتے ہیں اس احساس کا زیادہ شدت سے شکار ہوتے ہیں یہ بات طے ہے کہ ہماری زندگی میں موجود بزرگوں کو اس محبت، عزت، قدر اور بے لوث محبت کی ضرورت ہوتی ہے جو وہ ہم پہ لٹا چکے ہوتے ہیں ابھی پچھلے دنوں سر مستنصر حسین تارڑ کی تحریر نظر سے گذری جس میں انہون نے ذکر کیا تھا کہ وہ اس عمر میں ہیں جس میں دوست تیزی سے کھوتے ہیں۔ یہ ذہنی صدمہ بہت بڑا ہوتا ہے رفاقتوں کا بننا مشکل اور ختم ہونا آسان ہے لیکن ان سے جڑی یادیں اور باتیں نا قابل فراموش ہوتی ہیں۔ جب انسان کو یقین ہو جائے کہ اب وہ دوست اور محفلیں دوبارہ نہیں ملیں گی تو اس سے بڑھ کے صدمہ اور کیا ہو سکتا ہے۔ عمر رسیدہ لوگ وہ شجر سایہ دار ہوتے ہیں جو کچھ نہ دے سکیں تب بھی لگاتار سائبان رہتے ہیں لیکن اس پیڑ کو آپ کی محبت کی، توجہ کی کہیں زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔

ان کی اس کیفیت کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے جس سے وہ گذر رہے ہوتے ہیں۔ جس کا ادراک کرنا واقعی مشکل ہے کیونکہ ایک نو جوان انسان کے خواب و خیال سے بھی کوسوں دور ہوتی ہے۔ پھر بھی زاویہ نگاہ بدلنے کی ضرورت ہے دل کو اس جذبے سے آشکار کرنے کی ضرورت ہے جو ایک بے لوث ماں کا ہو سکتا ہے۔ جسے جواب میں کچھ نہیں چاہیے جو صرف دینے پہ آمادہ۔ جو محبت میں ولی ہو۔ جسے بدلے کی تمنا ہو نہ خواہش بس خیال ہو تو محبوب کی خوشنودی کا۔ وہ محبوب جس نے اپنی خوشیوں کو، جوانی کو، اپنی ذات سے جڑے سب خوابوں کو آپ کے لیے تج دیا ہو جو آج بھی اتنا ہی قناعت پسند ہو کسی صلے کی توقع نہ کر رہا ہو جتنا کہ تب تھا جب اس کے اختیار میں تھا کہ اپنی زندگی جی لیتا۔ لیکن اس کے لیے محبتیں اہم تھیں۔ تو بے لوث محبت کر کے دیکھیں جو شاید فطری طور پہ موجود نہین لیکن جسے اپنانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments