عہدِ وبا، ہم کہاں تھے اور کہاں ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


چین میں کرونا وائرس نے دسمبر 2019ء میں پہلا حملہ کیا۔ چین میں اپنا پنجہ گاڑنے کے بعد دوسرے ممالک تک پھیلتا چلا گیا اور براستہ ایران پاکستان پہنچ گیا۔ ملک میں خوف ہراس کی کیفیت پھیل گئی، کیوں کہ جو بیماری دنیا کے طاقتور ممالک قابو نہیں کر سکے، تو پاکستان کیسے مقابلہ کرتا۔

حکومت نے احتیاطی تدابیر اختیار کیں۔ اس لیے تمام جامعات، اسکول، بازار حتیٰ کہ مسجدوں کو بند کر دیا گیا۔ لوگ گھروں تک محدود ہوگئے، اتنی سخت وبا کا کسی نے ابھی تک سامنا نہیں کیا تھا۔ اس موجودہ وبا کی وجہ سے صرف بیماری کا خوف نہیں پھیلا، بلکہ اس سے ہمارا اور بھی بہت سا نقصان ہوا۔ تعلیمی اداروں کو تالے لگنے سے تعلیم کا نظام منجمد ہو گیا۔ اسکولوں کے بندش کی وجہ سے بچے اپنے روٹین سے نامانوس ہو گئے ہیں، زندگی ایک حد تک بے مقصد سی بن کر رہ گئی ہے۔

زندگی کا بے مقصد ہونا معاشرے کی خرابی کی طرف پہلا قدم ہے۔ حکومت نے جامعات کے آن لائن کلاسز کا انعقاد کیا لیکن ہر کسی کے پاس سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے بڑوں اور بچوں کا وقت ضائع ہو گیا۔ شاید وقت کے ضائع ہونے کے نقصان کا پتا ہمیں چند مہینوں میں نہ چلے لیکن نقصان ہو گا ضرور۔ بچوں کے وقت کا ضائع ہونا بڑوں کے وقت ضائع ہونے سے زیادہ نقصان دہ ہے، کیوں کہ بچے تعلیم کے ساتھ اور بھی کچھ اسکولوں میں سیکھتے ہیں۔ اور سیکھنے کا واحد ذریعہ اسکول ہوتا ہے۔ دوسری طرف اگر دیکھا جائے جو بچے کام کرتے تھے وہ بے روز گار ہو گئے۔ اور بچوں کے ساتھ زیادتی میں بھی اضافہ ہوا۔

نہ گھر پہلے کی طرح رہیں اور نہ بازار، اسی لئے کہ لوگ گھروں اور محلوں تک محدود ہو گئے ہیں۔ گھروں کے اندر چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑے شروع ہوگئے۔ کچھ لوگ غربت سے تنگ آ کر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ دوسری دنیا کے ساتھ پاکستان میں بھی خواتین کے مسائل میں لاک ڈاؤن کے دوران اضافہ ہوا۔ لاک ڈاؤن میں خواتین کے کیس بہت زیادہ آ گئے۔

حکومت نے سخت لاک ڈاؤن وبا پر قابو پانے کے لئے کیا تھا۔ لیکن کرونا کی وبا پر قابو تو کسی حد تک پا لیا گیا لیکن ہم معاشی و معاشرتی اور گھریلوں مسائل کو زیادہ ہونے سے روک نہ سکے۔ اس کی وجہ سے معاشرے میں اور بھی مصیبتیں پیدا ہو گئیں۔ بلکہ وہ مصیبتیں پیدا ہو گئیں جو وبا سے بھی خطرناک ہیں۔ کرونا وبا کا احتیاط تو آسان تھا اب جو وبا معاشرے کو لگی اور جو لگنے والی ہے، اس کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا کرونا والی تدابیر سے بھی بہت مشکل کام ہے، کیوں کہ معاشرے کو معاشی، معاشرتی اور نسل کی خرابی کی وبا لگی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
معاذ خان مروت کی دیگر تحریریں

Leave a Reply