میرا کراچی ڈوب رہا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے جس کی آبادی ڈھائی کروڑ سے زائد ہے۔ غالباً دس سال قبل ایک بار میں والد صاحب کے ساتھ صوبہ سندھ کے موضوع پر بات کر رہا تھا تو والد صاحب کراچی کی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے۔ میں نے وجہ پوچھی تو بتانے لگے کہ بیٹا ایک وقت تھا کہ کراچی پاکستان کا ”دوبئی“ ہوا کرتا تھا۔ ہمارے صوبہ پنجاب سمیت پورے پاکستان سے ان پڑھ اور پڑھے لکھے ہر طرح کے لوگ بسلسلہ روزگار کراچی کا رخ کرتے تھے اور وہاں بہت اچھی ملازمتیں ملتی تھیں۔

ہمارے اپنے آبائی گاؤں سے بیسیوں لوگ بسلسلہ روزگار کراچی میں مقیم رہے ہیں اور ان کی معاشی حالات بہت بہتر تھے۔ غرض کہ ملک کے طول و عرض سے تعلق رکھنے والے بہت سے کاروباری لوگوں نے بھی اپنے کاروبار کراچی میں کر رکھے تھے۔ پاکستان کے تمام بڑے کاروباری لوگوں میں سے اکثریت کا تعلق کراچی سے ہے۔ پاکستان کے ریونیو کا بڑا حصہ کراچی پیدا کرتا تھا۔ پھر اچانک اس پر رونق روشنیوں کے شہر کو نا معلوم کس کی نظر لگ گئی اور دن بدن کراچی سمیت پورے سندھ کے حالات روزگار کے لئے ناساز گار ہوتے گئے۔ آج بھی بڑے بڑے کاروباری اداروں کے ہیڈ آفس کراچی میں ہیں۔

بہر حال یہ تو ماضی کا معمولی سا تذکرہ تھا۔ حالیہ مون سون بارشوں نے کراچی شہر کے اکثر علاقوں کو ڈبو کر رکھ دیا ہے۔ کراچی کے بیشتر علاقے جھیل کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ اس گدلے پانی میں کراچی کے باسیوں کے ارمان بہہ رہے ہیں۔ اورنگی ٹاؤن تالاب کا منظر پیش کر رہا ہے۔ فیڈرل بی ایریا میں بھی جگہ جگہ پانی جمع ہو چکا ہے۔ کراچی کے بیشتر علاقوں میں پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے ٹریفک اور کے الیکٹرک کا نظام بھی درہم برہم ہو چکا ہے۔

حالیہ بارشوں کی وجہ سے کے الیکٹرک کے تین سو فیڈر ٹرپ کر چکے ہیں اور بہت سے علاقوں میں بجلی غائب ہے۔ اب تک آٹھ کے قریب لوگ کرنٹ لگنے سے جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ٹریفک کا نظام درہم برہم ہونے سے ملازم پیشہ، کاروباری اور دیگر لوگوں کو سفر کرنے میں انتہائی مشکلات کا سامنا ہے۔ گویا پورا شہر جمود کا شکار ہو کر رہ گیا ہے۔

کراچی صوبہ سندھ کا کیپیٹل ہے۔ ماضی میں جب بھی بارش آتی ہے تو تقریباً اسی طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دراصل مسئلہ یہ ہے کہ اس شہر کا سیوریج سسٹم کافی پرانا ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ آبادی بڑھتی گئی لیکن سیوریج سسٹم کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ چنانچہ اب اس سیوریج سسٹم کی گنجائش ختم ہو چکی ہے۔ دوسرا یہ کہ کچھ عرصہ سے ندی نالوں کی مکمل صفائی کی طرف بھی خاطرخواہ توجہ نہیں دی گئی۔ یہ بھی حالیہ دنوں میں پیدا ہونے والی صورتحال کی ایک اہم وجہ ہے کہ نکاسی آب کے خاطر خواہ انتظامات نہیں کیے گئے۔

پیپلزپارٹی کے ساتھ ساتھ ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کے بھی ایم پی ایز اور ایم این ایز موجود ہیں۔ بدقسمتی سے تمام سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرانے میں مصروف ہیں۔ حالیہ صورتحال کی ذمہ داری لینے کو کوئی تیار نہیں ہے۔ میئر کراچی کی بات کریں تو ان کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں بے اختیار ہیں۔ وفاقی حکومت کی بات کی جائے تو ان کی طرف سے جواب آتا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد اب یہ تمام معاملات صوبوں کی ذمہ داری ہے۔

اس ساری صورتحال کو دیکھیں تو یوں لگتا ہے کہ کوئی ایسا میکنزم ہی موجود نہیں ہے کہ شہر کی صفائی کا کس نے خیال رکھنا ہے۔ کوئی اونر شپ لینے کو ہی تیار نہیں ہے۔ اب اگر کوئی اس کی اونرشپ لینے کو تیار نہیں ہے تو اس سارے مسئلے کو کسی نے تو حل کرنا ہے۔ کراچی سے ووٹ تو سب لے لیتے ہیں لیکن اس کے مسائل کے لئے کوئی بات کرنے کو ہی تیار نہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کو ایک دوسرے پر الزام تراشی اور ایک دوسرے پر ملبہ ڈالنے کی بجائے ایک پیج پر آنا ہو گا۔

اب وقت آ گیا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز مل بیٹھ کر اس معاملے کا کوئی قابل قبول حل تلاش کریں۔ ایک ایسا میکنزم بنائیں کہ شہر کے مسائل بہتر انداز سے حل کیے جائیں اور پاکستان کے سب سے بڑے شہر کے باسیوں کو اس اذیت سے نجات دلائی جا سکے۔ چودہ ایم این ایز اور پچیس کے قریب ایم پی ایز پی ٹی آئی کے ہیں۔ وہاں پی ٹی آئی کا اچھا خاصا ووٹ بنک ہے۔ پی ٹی آئی وفاق کے اندر اقتدار میں ہے۔ کراچی میں وفاقی حکومت کے بھی بہت سے پراجیکٹ موجود ہیں، محکمہ ریلوے کے بھی بہت سے پراجیکٹ چل رہے ہیں۔

لہٰذا وفاق کو بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد بہت سے معاملات صوبائی حکومت کے ماتحت آتے ہیں لہٰذا صوبائی حکومت کو بھی اس میں اپنی ذمہ داری لینا ہو گی اور مئیر کراچی کے ساتھ مل کر ایک لائحہ عمل تشکیل دے کر ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے۔ ہم سب کا شہر ہے۔ اس کے بارے میں ہم سب کو اپنی تمام تر سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر سوچنا ہو گا تاکہ کراچی کو پھر سے ایک خوبصورت اور پر رونق شہر بنایا جا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *