ہمارا پردیسی درخت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی دور میں ہمارے گاؤں میں ایک فقرہ زبان زد خاص و عام تھا، ”چلو یار ونڑ پر چلیں“ ۔ گاؤں سے باہر سکول کے ساتھ ایک ونڑ کا درخت تھا (یہ ایک باریک پتوں کے ساتھ موٹے تنوں والا اور زمیں کے رخ پر پھیلا ہوا درخت ہوتا ہے، باقی علاقوں میں اسے پتا نہیں کیا کہتے ہیں لیکن ہم اس کو ونڑ کہتے ہیں ہاں البتہ نسیم حجازی کا ناول ”پردیسی درخت“ پڑھنے کے بعد میں نے بھی اسے پردیسی درخت بلانا شروع کر دیا۔ )

اس کے چوڑے تنے وی شیپ میں کچھ اس طرح پھیلے ہوئے تھے کہ ان کے اوپر بغیر گرنے کے ڈر کے لیٹا اور بھاگا جا سکتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ کبھی اس جیسے اور بھی کافی تھے لیکن اب وہ اکیلا ہی بچا ہے، نا کوئی پودا نا کوئی بیج، بالکل اکیلا، شاید اسی وجہ سے اسے دیکھ کر نسیم حجازی کا پردیسی درخت یاد آتا تھا۔ ایک اور بات جو اس کے بارے مشہور تھی وہ یہ کہ اس پر جنوں کا بسیرا ہے اور یہ بات بڑھے بزرگ بڑے ہی سنسنی خیز انداز میں بتایا کرتے اور ساتھ میں ایک آدھ کہانی بھی ضرور سنا دیتے کہ کیسے کسی کو اس ونڑ پر چڑھنے یا اس کے پتے توڑنے پر جن چمٹ گئے تھے ان کہانیوں کے کردار آج تک میرے لیے نامعلوم ہیں، خیر ہم پر اس کا کبھی اثر نا ہوا، ہم چھٹی کے بعد اس پر چڑھ دوڑتے، اس کی گھنی شاخوں میں لکا چھپی کھیلتے، ٹہنیوں پر جھولتے، جب تھک جاتے تو اس کے ترچھے، چوڑے تنوں پر لیٹے ادھر ادھر کی چھوڑتے رہتے، یا پھر کیل وغیرہ سے تنوں پر اپنے نام کے ساتھ کسی نازک اندام حسینہ ( اکثر نازک ہوتی تھیں نا حسین ) کے نام کا پہلا لفظ کھود کر سرعام لیکن ڈھکے چھپے انداز میں اپنے نوخیز پیار کا اظہار بھی کر دیتے، بس شکر دوپہر کو اس پر چڑھنے سے اجتناب برتتے کیوں کہ کہتے ہیں جنات دوپہر کو زیادہ غصے میں ہوتے باقی اوقات میں تھوڑا بہت لحاظ کر جاتے۔

وہی ہمارا گراؤنڈ تھا وہی ہمارا پارک اور جب اس کے ساتھ ملحق بنجر زمین میں ہم نے پچ بنا لی تو وہی ہمارا پویلین بھی بن گیا، آؤٹ ہونے کے بعد ونڑ پر چڑھ کر بیٹھ جاتے، اوپر سے گزرتے چھکے دیکھنا ہمیں بہت اچھا لگتا تھا۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں تو ہم صبح صبح وہاں پہنچ جاتے اور وہیں رہتے جب تک گھر والے ڈانٹ ڈپٹ کر وہاں سے لے نا جاتے۔ گاؤں کا جو لڑکا کہیں اور نا ملتا، وہاں مل جاتا، وہاں کی آزادی اور رونقیں سبھی کو وہاں کھینچ لاتی لیکن یہ آزادی زیادہ دن نا قائم رہ سکی۔

تب ہمارے سکول کی بلڈنگ نہیں ہوا کرتی تھی لہذا ہمارا سکول کبھی کسی درخت کے نیچے لگتا تو کبھی کسی خالی پڑے گھر میں ہم ٹاٹ بچھا کر بیٹھ جاتے، ایک بار جب گرمی کی چھٹیاں ختم ہوئیں تو جس درخت کے نیچے ہم بیٹھتے تھے وہاں اب فصل لہلہا رہی تھی، اب ہمارے پاس سکول لگانے کی کوئی جگہ نہیں تھی تبھی ہمارے کانوں نے وہ منحوس فیصلہ سنا کہ آج کے بعد گورنمنٹ سکول رشیدی ونڑ کے نیچے لگے گا اور ہم کو سختی سے ونڑ پر چڑھنے سے روک دیا گیا کہ کہیں چھاؤں نا خراب ہو جائے، ہماری آزادی اور رونق کے ہیروشیما میں ایٹم بم پھٹ چکا تھا۔

خیر ہم نے جاپان کی طرح بغیر کسی شرط کے ہتھیار ڈال دیے لیکن کچھ باغی جو سکول تو آتے نہیں تھے لیکن ونڑ پر باقاعدگی سے جاتے رہے اور ایک دن وہی ہوا جس کا ڈر تھا وہ کھیل رہے تھے اور وزن سے ایک بڑا سا تنا ٹوٹ گیا۔ صبح ہم سب مرغا بنے ہوئے تھے اور اسی ونڑ سے بنی چھڑی ہماری پیٹھ پر برس رہی تھی۔ اس کے بعد تو ہم نے ونڑ کی طرف دیکھنا بھی چھوڑ دیا اور ونڑ پر جانے اور وہاں پر کھیلنے کی روایت آہستہ آہستہ ختم ہو گئی۔

سکول کی تو بعد میں عمارت بن گئی اور ساتھ والی بنجر زمین بھی آباد ہو گئی لیکن ونڑ بے آباد ہی رہا۔

اب جب کبھی اسے دیکھتا ہوں تو یوں لگتا ہے کہ وہ بوڑھا پردیسی درخت آج بھی انتظار کر رہا، کوئی آئے، اسے آباد کرے، اس کی ٹہنیوں پر جھولے، اس پر کھیلے، لیکن کوئی نہیں آتا، وہ کیا ہے نا کہ اب ہم بڑے ہو گئے ہمیں شرم آتی ہے، اور ہم سے بعد میں آنے والوں کو پتا ہی نہیں کہ ونڑ پر بھی کھیلا جا سکتا ہے، لہذا اب وہاں کوئی آتا ہے نا کوئی کھیلتا ہے، اس پر کوئی قہقہ گونجتا ہے نا اوپر سے چھکے گزرتے ہیں اور نا ہی کوئی اس کے تنوں پر دو لفظوں کی کہانی لکھتا ہے اور ہاں اب اس پر موجود جنوں کی کہانیاں بھی کوئی نہیں سناتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *