ہمارا پردیسی درخت

کسی دور میں ہمارے گاؤں میں ایک فقرہ زبان زد خاص و عام تھا، ”چلو یار ونڑ پر چلیں“ ۔ گاؤں سے باہر سکول کے ساتھ ایک ونڑ کا درخت تھا (یہ ایک باریک پتوں کے ساتھ موٹے تنوں والا اور زمیں کے رخ پر پھیلا ہوا درخت ہوتا ہے، باقی علاقوں میں اسے پتا نہیں کیا کہتے ہیں لیکن ہم اس کو ونڑ کہتے ہیں ہاں البتہ نسیم حجازی کا ناول ”پردیسی درخت“ پڑھنے کے بعد میں نے بھی

Read more

دیرلیش ارطغرل، ایک عظیم الشان سلطنت کا ابتدائیہ

تاریخ کو افسانے کی شکل میں ڈھالنے کا ایک مقصد ہوتا ہے کہ تاریخ کی اہم شخصیات کو اعلی خوبیوں کی علامت بنا دیا جائے اور کردار نگاری، ماجرہ سازی اور رومانیت کی آمیزش سے سے قارئین کے لیے ایک دلچسپ اور پر اثرداستان ترتیب دی جائے، اس سے ایک طرح کی پیغام رسانی کا کام لیا جاتا ہے۔ خاص طور پر قوموں کے زوال کے دور میں ان کے شاندار ماضی کو افسانوی رنگ میں رنگ کر مرقع اور

Read more

ادب اور معاشرہ

ادب ہمیشہ سے ہی انسانی زندگی کا ایک اہم حصہ رہا ہے۔ پڑھے لکھے ان پڑھ سب کی زندگی کا، یہ بڑے بوڑھوں کی کہانیاں ہوں، شعرا کی شاعری ہو، ناول نگار کی داستان ہو، مضمون نگار کا مضمون ہو، پردے کے پیچھے کا اسٹیج ہو، پردہ سکرین ہو، یا پھر آج کا میڈیا، ہر حال میں معاشرہ کا خیال ساز و کردار ساز رہا ہے۔ اپنی کردارنگاری، رومانویت، مکالمہ بازی اور باقی ادبی لوازمات کے ساتھ یہ اپنے پڑھنے

Read more

علی سفیان آفاقی کی کتاب "فلمی الف لیلیٰ”

بچپن سے ہی مجھ کو فلم سے جنون کی حد تکا لگاؤ تھا، نا صرف فلم دیکھنا بلکہ فلم کے بارے پڑھنا میرا پسندیدہ مشغلہ تھا، اسی لیے فیملی میگزین یا اخبار جہاں اگر پڑھتا تو شوبز والے سیکشن سے ہی شروعات کرتا (اکثر وہیں تک ہی محدود رہتا ) ۔ یہ2012 کی بات ہے جب پہلی دفعہ میں نے فمیلی میگزین میں علی سفیان آفاقی کی ”فلمی الف لیلی“ کے نام سے آپ بیتی پڑھی تو اسی میں ہی

Read more