ہمارا پردیسی درخت
کسی دور میں ہمارے گاؤں میں ایک فقرہ زبان زد خاص و عام تھا، ”چلو یار ونڑ پر چلیں“ ۔ گاؤں سے باہر سکول کے ساتھ ایک ونڑ کا درخت تھا (یہ ایک باریک پتوں کے ساتھ موٹے تنوں والا اور زمیں کے رخ پر پھیلا ہوا درخت ہوتا ہے، باقی علاقوں میں اسے پتا نہیں کیا کہتے ہیں لیکن ہم اس کو ونڑ کہتے ہیں ہاں البتہ نسیم حجازی کا ناول ”پردیسی درخت“ پڑھنے کے بعد میں نے بھی
Read more
