اندھا جگنو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں ایک ایسے شہر کی باسی ہوں، جس کے درو دیوار اندھیرے میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ یہاں وقت گزارے نہیں گزرتا، کوئی کسی کی نہیں سنتا، بات ہو بھی تو کیسے ہونٹ سلے ہوئے ہیں۔ یہاں رہنے والے باہر کی دنیا جیسے نہیں ہیں، ہاں نظر ویسے ہی آتے ہیں لیکن ان کے دلوں پر صبح شام ایسے کوڑے برسائے جاتے ہیں کہ وہ سخت جان بن چکے ہیں، کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے کہ دل کی جگہ پتھر پیوست کر دیا گیا ہے۔ انہیں اب کچھ محسوس نہیں ہوتا۔ ادھر کسی کے احساسات جاگے ادھر منہ پر زناٹے دار تھپڑ پڑتاکہ اس اندھیرے میں بھی چودہ طبق روشن ہو جاتے۔

میں بھی انہی گلیوں میں پل کر بڑی ہوئی ہوں، کبھی سوچا کرتی تھی ہو سکتا ہے روشنی کی کوئی کھڑکی میرے لئے کھلے اور میں اس اندھیر نگری سے چھٹکارہ پا لوں۔ گھپ اندھیرے میں کیا دن اور رات کی تفریق لیکن پھر بھی ہر گزرتے لمحے کے ساتھ، پتھر ڈھوتے، پانی بھرتے، سانس لیتے، روشنی کی چاہ کم نہ ہو تی۔ پھر ایک دن کیا ہوا، مجھے ایک جگنو نظرا۔ ، میں چل پڑی اس کے پیچھے پیچھے، اندھیرے میں بھی چھپتی چھپاتی، راستے ٹٹولتی، چلتی جارہی تھی۔

جگنو نے مجھے بتایا کہ ان اندھیروں سے باہربھی ایک دنیا ہے جہاں ہرشے چمکتی ہے، جہاں چہروں کو چھو کر محسو س نہیں کرنا پڑتا بلکہ وہ روشن نظر آتے ہیں۔ اور جب ایسی روشنی آس پاس ہوتی ہے تو قبر کے اندھیرے سے نکل کر آیا ہوا بھی جھوم اٹھتا ہے۔ میں نے تو پہلے کبھی روشنی کا منظر دیکھا نہیں تھا لیکن جگنو کی روشنی کو دیکھ کرمیں اب میں دل ہی دل میں روشنی کی منظر کشی کر سکتی تھی۔ میرے روزو شب جو پہلے ایک جیسے تھے اب نہیں رہے تھے، مجھے اندھیرے میں چلتے ہوئے ٹھوکر بھی لگتی، دھکے بھی پڑتے تو مجھے ان سے تکلیف محسوس ہوتی ہی نہیں تھی۔

میں تو اس جگنو کی روشنی میں کھوئی ہو ئی تھی۔ وہ جب بھی ہمارے شہر سے گزرتا، مجھ سے ملنے ضرور آتا، میٹھی میٹھی باتیں کرتا، میرا دل بہلاتا، روشنی کے خواب دکھاتا۔ کبھی یوں بھی ہوتا کئی دن گزر جاتے اور سوچ سوچ کر میرے دماغ کی رگیں پھڑکنے لگتیں، اس کے بارے میں ہزار وسوسے دل میں اٹھنے لگتے، کہیں وہ کسی طوفان میں مارا تو نہیں گیا؟ کہیں اس کی روشنی کا میرے علاوہ کوئی اور طلب گار تو نہیں آ گیا۔ اور انہیں سوچوں میں نہ جانے کتنے ہی دن گزر جاتے۔

جب میں مایوس ہو نے لگتی تو وہ پھر آجاتا۔ میں ہمیشہ اس سے پوچھتی مجھے ان اندھیر گلیوں سے نکلنے کا راستہ کب بتاؤ گے؟ میں باہر جانے والے ہر راستے کو ذہن نشین کر رہا ہوں جیسے ہی مجھے سارت راستے ازبر ہوگئے، تو بس اسی دن تمہیں لے چلوں گا۔ اس کے جواب پر میں خوش ہو جاتی، اور دل میں روشنی کی جستجو مزید بڑھ جاتی، اب میں اندھیروں میں بھی باہر کی دنیا دیکھ سکتی تھی، میرے دل کے سارے کونے نرم ہونے لگے تھے۔ ایک دن وہ آیا اور مجھے کہنے لگا کہ مجھے یہاں سے نکلنے کا راستہ مل گیا ہے، اب تم چلو میں تمہیں ان اندھیروں سے کہیں دور لے جاؤں۔

میری خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا، میں نے کہاچلو ابھی چلو۔ اندھیرے میں بھی مجھے ہر شے واضح نظر آ رہی تھی۔ کئی دنوں کی مسافت تھی، کبھی وہ مجھے کسی ٹھکانے پر چھوڑ کر کھانے کی تلاش میں نکل پڑتا لیکن پھر لوٹ آتا۔ چل چل کر میرے پیروں سے خون رسنے لگا تھا، اور میرا دل موم کی طرح پگھلتا جا رہا تھا، میں کبھی اپنے پیروں کے چھالے اسے دکھاتی، کبھی پگھلتا ہوا دل دکھاتی۔ وہ میری طرف مڑ کر دیکھتا اور چپ ہو جاتا۔ میں سمجھ نہیں پاتی کہ اسے میر ی تکلیف کا احساس ہو رہا ہے یا نہیں؟

آہستہ آہستہ مجھے شک ہونے لگا کہیں وہ خود اندھا تو نہیں۔ پھر سوچتی اندھا ہے تو میری رہنمائی کیسے کر رہا ہے۔ شاید وہ مرحم کسی مشکل کے لئے بچا کر رکھ رہا ہے، اسی تذبذب میں، میں چلتی جا رہی تھی۔ لیکن اندھیرا کم ہونے کی بجائے، بڑھتا جا رہا تھا، اب تو میں جو دل ہی دل میں روشنی کے بارے منظر کشی کر رہی تھی، وہ بھی دھندلانے لگی تھی۔ پھر مجھے جگنو کی آواز سنائی دی کہ لو، ہم پہنچ گئے دیکھو تو تمہارے آس پاس روشنی کے نظارے ہیں۔

میں جو اندھیروں میں بھی ہر شے واضح دیکھ لیا کرتی تھی اب مجھے کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا، میں ہاتھوں سے ٹٹولتی ہوئی ادھر سے ادھر جا رہی تھی، مجھے کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ دل تھا کہ پگھلتا جا رہا تھا، پیروں کے چھالوں سے خون بہتا جا رہا تھا، اس روشن دنیا میں ایسا شور تھا کہ میرے کان پھٹے جا رہے تھے، نہ جانے یہ کیسی روشنی تھی جس نے میری بینائی بھی مجھ سے چھین لی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *