امریکہ میں بجلی اور ٹیکنالوجی کے بغیر زندگی گزارنے والے امیش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ عرصہ پہلے ایک بس ٹور کے ہمراہ امریکی ریاست پنسلوانیا میں واقع امیش ویلج میں رہائش پذیر امیش لوگوں کے طرز زندگی کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا تھا۔ میں امریکہ کے سیاحتی مقامات پر جانے کے لیے اکیلے یا فیملی کے ساتھ کار میں جانے کی بجائے بسوں میں جانے والے مشترکہ ٹور کے ہمراہ جانے کو ترجیح دیتا ہوں۔ اس کی بنیادی وجوہات یہ ہوتی ہیں کہ دوران سفر اسی ٹور پر گئے ہوئے آپ کو مختلف کمیونٹیز کے لوگوں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ دوسرا ایک ٹرینڈ ٹور گائیڈ اپنی نگرانی میں کم سے کم وقت میں جزیات میں جا کر زیادہ سے زیادہ مقامات کی سیر کروا دیتا ہے۔

کروونا شروع ہونے سے کچھ عرصہ پہلے ایسا ہی ایک بس ٹور نیویارک سے پنسلوانیا کے ”امیش ویلج“ گیا تھا۔ جس کا میں بھی حصہ تھا۔ امیش لوگوں کے طرز زندگی کے متعلق بہت کچھ سن رکھا تھا۔ آج کے دور میں بجلی اور بہت ساری جدید ٹیکنالوجی کی سہولیات کے بغیر رہنے والے امیش لوگ حیرت کا ایک عجوبہ لگے۔

ماسوائے میڈیکل ضرورت کے، وہ جدید دور کی سہولیات جیسے موٹر کار، کمپیوٹر، فون، آئر کنڈیشنز ز، بس، ٹرین اور ہوائی جہاز سے سفر کرنے کو اچھا خیال نہیں کرتے۔

بجلی کا متبادل یا توانائی کے دیگر ذرائع، وہ زیادہ تر پروپین گیس یا کیروسین آئیل کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔ کھانا پکانے، روشنی کے حصول، پنکھے چلانے، استری کرنے اور کپڑے دھونے والی مشینوں کے لیے وہ پروپین گیس سے چلنے والی موٹریں استعمال کرتے ہیں۔ کاروں کے ذریعے سفر کی بجائے گھوڑوں سے چلنے والی بگیاں استعمال کرتے ہیں۔ تاہم کچھ امیش اپنے کاروبار یا ملازمت پر جانے کے لیے اگر کسی وجہ بگی دستیاب نہ ہو تو کرائے کی کار منگوا کر دوسرے ڈرائیور کے ہمراہ سفر کر لیتے ہیں۔

زیادہ تر امیش لوگ تعلیم کے لیے اپنے بچوں کو آٹھ جماعت تک اپنے بنے ہوئے سکولوں میں بھجیتے ہیں۔ تیرہ چودہ سال کی عمر کے بعد بچوں کو سکول سے اٹھوا لیا جاتا ہے۔ اس کے بعد انہیں سولہ سال کی عمر تک ووکیشنل ٹریننگ دی جاتی ہے۔

بچوں کی اعلی تعلیم کے لیے امیش لوگ زیادہ سرگرمی نہیں دکھاتے۔ ہاں ضرورت کے تحت بعض لڑکوں اور لڑکیوں کو میڈیکل، نرسنگ اور دیگر ہنگامی نوعیت کے شعبوں کی تعلیم دلوائی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی کمیونٹی کی خدمت کر سکیں۔

امیش لڑکے اپنی شادی ہونے تک بغیر داڑھی کے رہ سکتے ہیں۔ تاہم شادی کے بعد انہیں لازمی طور داڑھی رکھنی پڑتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں مردوں کے شادی شدہ اور غیر شادی شدہ ہونے کے فرق کا پتہ صرف داڑھی سے چلتا ہے۔

امیش سادہ اور دیہی طرز زندگی کے دلدادہ ہیں۔ اپنے کھانے پینے کے لیے فروٹ، سبزیاں اور دیگر زرعی اجناس خود اگاتے ہیں۔ اور کھانے پینے میں تمام آرگئینک چیزیں پسند کرتے ہیں۔ دودھ اور گوشت وغیرہ کے لیے اپنے فارموں پر خود جانور پالتے ہیں۔

ماڈرن چیزوں کے استعمال کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ سال میں ایک بار اپنے اجلاس میں امیش چرچوں پر مشتمل مذہبی کونسل کرتی ہے۔ اس کے فیصلے کو تسلیم کرنا ہر ایک کے لیے لازمی قرار پاتا ہے۔

ایمرجنسی کی صورتحال میں فون یا بعض دیگر جدید ٹیکنالوجی کی چیزوں کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ عام حالات میں اکثر امیش ایسی چیزوں کے استعمال سے اجتناب کرتے ہیں۔

امیش لوگ اپنے گھروں میں سونے کے لیے ڈبل بیڈ کی بجائے سنگل بیڈ کا استعمال کرتے ہیں۔ امیش لوگوں کا طرز زندگی عام لوگوں سے بالکل الگ تھلگ ہے۔ انہیں دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح آج کے جدید دور میں بھی امیش لوگ اپنی الگ شناخت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

امیش لوگ کمرشل انشورنس خریدنے کے خلاف ہیں۔ تاہم گورنمنٹ کی جانب سے سوشل سیکورٹی کے فوائد پر یقین رکھتے ہیں۔ مذہبی لحاظ سے وہ انابئپیسٹ عیسائی مذہب کے پیروکار ہیں۔ اور مقدس کتاب بائبل کو ہی مانتے ہیں۔

وکیپیڈیا کے مطابق 2019 کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں امیش لوگوں کی کل تعداد تین لاکھ بیالیس ہزار کے قریب ہے۔ زیادہ تر امیش لوگ امریکی ریاست پنسلوانیا، انڈیانا، اؤہائیو، میزوری، ۔ مشی گن، کن ٹیکی، ویسکانسن اور نیویارک میں آباد ہیں۔

امیش لوگ زبان کے اعتبار سے بائی لینگوئل ہیں۔ وہ انگلش کے ساتھ ساتھ پنسلوانیا جرمن زبان یا پھر ڈچ بولتے ہیں۔

تاریخی طور پر امیش چرچ کی ابتداء 1693 ء میں سیچزم، سوئٹزرلینڈ سے ہوئی تھی۔ امیش کا بانی جیکب امانن تھا۔ جیکب کے ماننے والے امیش کہلائے جانے لگے۔ انیسویں صدی میں امیش دو حصوں میں تقسیم ہو گئے۔ ایک ”اولڈ آرڈر آمیش“ اور دوسرا دھڑا ”امیش مینوٹائیز“ کہلایا جانے لگا۔ اولڈ آرڈر امیش زیادہ کنزرویٹو ہیں۔ وہ اپنے پرانے اور روایتی طرز زندگی کو ترجیح دیتے ہیں۔ موٹر گاڑیوں کی بجائے بگیوں میں سفر کرنا پسند کرتے ہیں۔

اٹھارہویں صدی میں زیادہ تر امیش بہت ساری وجوہات کی بنا پر امریکی ریاست پنسلوانیا میں آ کر آباد ہو گئے۔ آج کل زیادہ تر اولڈ آرڈر امیش، نیو آرڈر آمیش، اولڈ بیچی امیش اور اولڈ آرڈر مینن ٹییز امیش پنسلوانیا جرمن زبان بولتے ہیں۔ جو پنسلوانیا ڈچ بھی کہلاتی ہے۔

امیش ویلج کے دورے کے دوران امیش ویلج میں سیاحوں کے لیے بنے امیش انفارمیشن سنٹر کی گائیڈ نے ہمیں بتایا کہ امیش لوگ زیادہ بچے پیدا کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ ایک فیملی کے اوسطاً چھ سے سات کے قریب بچے ہوتے ہیں۔

2000 ء کے اعداد وشمار کے مطابق امریکہ میں امیش آبادی کی تعداد ایک لاکھ پینسٹھ ہزار کے قریب تھی۔ جبکہ کینیڈا میں پندرہ سو کے قریب امیش رہائش پذیر تھے۔ پھر 2008 ء کی ایک رپورٹ کے مطابق امیش لوگوں کی تعداد دو لاکھ ستائیس ہزار تک پہنچ گئی۔ جبکہ 2010 ء میں دس فیصد اضافے کے ساتھ یہ تعداد دو لاکھ انچاس ہزار ہو گئی تھی۔ تاہم وکیپیڈیا کے مطابق 2019 ء میں امریکہ میں آباد امیش آبادی کی تعداد تین لاکھ بیالیس ہزار کے لگ بھگ ہے۔

امیش لوگ امریکہ میں رہتے ہوئے ملٹری جابز میں حصہ نہیں لیتے۔ تاہم امریکہ میں رہتے ہوئے جن علاقوں میں ان کی اکثریت ہے وہاں ان کے عقیدے کے مطابق متعلقہ ریاستوں کی جانب سے ان کے لیے بعض خصوصی قوانین رائج ہیں۔ وہ حکومتی محصولات اور ٹیکسز دینے کے عام شہریوں کی طرح پابند ہیں۔ البتہ بعض معاملات میں انہیں خصوصی اسستسناء حاصل ہے۔

امریکہ میں فال کا موسم ستمبر سے لے کر دسمبر تک جاری رہتا ہے۔ یہ موسم امیش لوگوں کی شادیوں کا سیزن ہوتا ہے۔ خصوصاً نومبر کا مہینہ شادیوں کا پیک ماہ تصور کیا جاتا ہے۔

بیس سال یا اس سے زائد شادی کی آئیڈیل عمر تصور کی جاتی ہے۔ امیش لوگ عام طور پر اپنے رشتہ داروں اور جاننے والوں میں ہی شادیاں کرنی پسند کرتے ہیں۔ اجنبی یا غیروں میں شادیاں نہیں کرتے۔

ہماری چائنیز ٹور گائیڈ زیر لب مسکراتے ہوئے ہمیں بتایا کہ امیش لڑکوں اور لڑکیوں کو اپنے لیے خود اپنا ساتھی چننا ہوتا ہے۔ دونوں بہت سالوں سے اپنی کمیونٹی میں ساتھ رہتے ہوئے ایک دوسرے کو جان چکے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ سولہ سال کی عمر کے بعد سے انہیں علیحدگی میں ملنے (بند درازوں میں نہیں ) کے مواقع دیے جاتے ہیں۔

امیش لوگ خصوصاً لڑکیاں شادی میں پہننے کے لیے ملبوسات میں زیادہ تر نیلا رنگ پسند کرتی ہیں۔ دولہا دلہن شادی کے بعد اپنی پہلی رات دلہن کے والدین کے گھر پر گزارتے ہیں۔

پاکستانی سوسائٹی کی طرح امیش لوگوں میں بھی روایت ہے کہ شادی کے بعد ان کے قریبی عزیزوں اور دوستوں کے ہاں بھی نئے جوڑے کے اعزاز میں دعوتوں کا سلسلہ ساتھ ساتھ چلتا رہتا ہے۔ نیاشادی شدہ جوڑا اگلے موسم بہار تک دلہن کے والدین کے گھر ہی قیام کرتا ہے۔ اس اثناء میں لڑکا اپنے لیے علیحدہ گھر کا بندوبست کر لیتا ہے۔

موسم خزاں میں میں مکئی کی فصل کی کٹائی کے بعد شادیوں کی تقریبات شروع ہو جاتی ہیں۔ شادیاں مقامی چرچ میں ہوتی ہیں۔ اور عام مذہبی دعائیہ تقریبات کی طرح شادیاں بھی اسی فارمیٹ کے ساتھ سرانجام پاتی ہیں۔ چرچ کے بشپ اور منسٹرز ایسی تقریبات کی صدارت کرتے ہیں۔ دولہا اور دلہن کی جانب سے سینکڑوں کی تعداد مہمان شادی میں شرکت کرتے ہیں۔ ایک عام سی شادی میں بھی مہمانوں کی تعداد تین سو سے پانچ سو کے قریب ہوتی ہے

ہمارے لیے یہ بات حیرت کا باعث تھی کہ امیش کمیونٹی میں شادی شدہ جوڑوں کو ناچاقی کی صورت میں طلاق کی اجازت نہیں دی جاتی۔ مذہبی طور پر بھی امیش لوگوں کے چرچ طلاق کی اجازت نہیں دیتے۔ تاہم جوڑے شدید اختلافات کی صورت میں بغیر طلاق کے علیحدگی اختیار کر سکتے ہیں۔

امیش معاشرے، کلچر میں یہ بات عام ہے کہ لوگ اپنی فیملیوں اور کمیونٹی کے درمیان اتحاد اور یگانگت کو برقرار رکھنے کے خاطر طلاق جیسے عمل کو ناپسندیدہ تصور کرتے ہیں۔ البتہ کسی ایک فریق کی وفات کی صورت میں دوسرا فریق دوبارہ شادی کر سکتا ہے۔

امریکی ٹی وی نیٹ ورک ٹی ایل سی نے 2012 میں اس موضوع پر امیش لوگوں کے طرز زندگی پر ڈرامہ سیریز ”بریکنگ امیش“ بنائی تھی۔ جس میں امیش کمیونٹی کے طرز معاشرت، رسوم و رواج اور کلچر کے ساتھ ساتھ امیش نوجوان لڑکے لڑکیوں کے مسائل کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔

”امیش امریکہ“ کی جانب سے مہیا کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پنسلوانیا کی لنکاسٹر کاونٹی جہاں امیش لوگوں کی اکثریت آباد ہے۔ وہاں ہر سال اوسطاً 80 لاکھ کے قریب سیاح آتے ہیں۔ جس سے سالانہ دو بلین امریکی ڈالر اکٹھے ہوتے ہیں۔

پنسلوانیا کا سفر کرتے ہوئے کھلے کھلے اور سر سبز و شاداب رقبے پر مشتمل بڑے بڑے فارم اور ان فارموں پر بنے گھر اور ارد گرد چرتے ہوئے جانور عجیب نظارہ دیتے ہیں۔ راحت سے بھرپور ایک خوشگواریت انسان سارا راستہ اپنے سحر میں جکڑے رکھتی ہے۔ امیش ویلج ایسا مقام ہے جسے ایک بار دیکھنے کے بعد دوبارہ دیکھنے کو بھی دل کرتا ہے۔

امیش ویلج کے مشاہدات کے دوران مجھے امیش لوگوں کے طرز معاشرت کی بعض چیزیں بہت حد تک مسلمانوں کے رہن سہن اور عادات و اطوار سے قریب تر محسوس ہوئیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *