نعرہ تکبیر اور کمرہ عدالت میں قتل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پشاور کے ایک مقامی عدالت میں ایک ”مسلمان“ انسان نے ایک ایسے ” مبینہ احمدی“ انسان پر جج کی موجودگی میں گولی چلادی جس پر توہین رسالت کا الزام تھا۔ وہ بندہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ اس پر الزام تھا، یعنی وہ ملزم تھا، یعنی اس پر ابھی تک جرم ثابت نہیں ہوا تھا، عدالت اس بات کا فیصلہ کرنے کے لئے ہی لگی تھی کہ وہ مجرم تھا یا نہیں لیکن عدالت سے پہلے ہی ایک بندے نے فیصلہ سنا دیا۔

کچھ حلقوں کی جانب سے اس واقعے کو یہ رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہیں کہ لوگوں کا عدالتوں پر سے اعتبار اٹھ گیا ہے، اس لیے یہ واقعہ پیش آیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ دلیل اپنے رویوں کی شدت پر پردہ ڈالنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ عدالتوں پر سے اگر اعتبار اٹھ ہی گیا ہے تو سیاسی اور عسکری فیصلوں پر شعوری مزاحمت کیوں سامنے نہیں آتی؟ بات عدالتوں پر اعتبار کی نہیں، بات ایک خاص طبقے کی خود ساختہ راج کے بقا کی ہے، بات لوگوں کے اندر اس نفرت کی ہے جس کو یہ طبقہ کسی بھی وقت کسی بھی مفاد کے لئے استعمال میں لا سکتا ہے۔

چند برس پہلے مردان کے عبدالولی خان یونیورسٹی میں ایک ہجوم نے مشال خان کو اتنے بے دردی سے قتل کر دیا تھا کہ انسانیت آج بھی اس واقعے کو یاد کرکے شرما جاتی ہے۔ مشال خان پر بھی الزام تھا، وہ الزام جو آج تک ثابت نہ ہوسکا البتہ اس کے قاتلوں کو عدالتوں نے سزائیں سنائیں ہیں۔ اور مزید شرم کی بات یہ تھی کہ ایک سیاسی پارٹی نے اس کے قاتلوں کو ”غازیان“ ڈکلیئر کر دیا تھا اور ان کے رہائی کے لئے احتجاج ریکارڈ کروائے تھے۔ لیکن پشتو میں ایک کہاوت ہے کہ ”چی ریښیا راځی نو دروغو بہ کلی وران کړی وی“ یعنی سچ سامنے آنے تک جھوٹ نے گاؤں اجاڑے ہوں گے۔

ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم آندھے مقلد ہیں، ہمیں بتایا جاتا ہے کہ فلاں کام ٹھیک ہے اور فلاں غلط، یہ بات عین اسلامی ہے اور یہ خلاف اسلام، اور یہ روش اتنی صدیوں سے چلی آ رہی ہے کہ اب مولوی تو مولوی، ایک عام آدمی کو بھی اس خول سے باہر سوچنے والا بندہ یا تو سرے سے مسلمان نہیں لگتا اور یا اپنے جیسا کٹر مرد مومن نہیں لگتا۔ یہاں سب اس نفرت اور شدت کی روش کے ساتھ ہی بڑے ہوکر جوان بن جاتے ہیں۔ ہمارے تعلیمی نصاب کو ہی دیکھ لیجیے، ہمارے پہلے جماعت سے لے کر میٹرک تک کے اسلامیات میں جنگ و جہاد پر مضامین زیادہ ہے یا زندگی کے دوسرے پہلوؤں پر؟

آپ کو نہیں لگتا کہ ہم نے اسلام کو صرف یہاں تک محدود کرکے رکھ دیا ہے؟ آپ کو نہیں لگتا کہ اصل شکل کو کچھ طبقے مل کر مسخ کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں؟ اور اس اصل شکل کو مسخ کر کے ایک ایسا ڈھانچہ تیار کر رہے ہیں جس کی بنیاد ہی خوف اور نفرت ہیں۔ تقریباً ایک ماہ پہلے ایک عیسائی ندیم جوزف کو بھی پشاور میں اس بات پر گولی مار دی گئی تھی کہ اس نے مسلمانوں کے محلے میں گھر لیا تھا۔ اب آپ ذرا سوچئے، کیا اسلام نے ہماری یہ تربیت کی ہے کہ غیر مسلم اگر تمہارے محلے میں گھر لے تو انھیں گولی مار کر قتل کر دو؟ جواب یقیناً یہ ہوگا کہ نہیں۔ جواب پانے کے بعد مزید سوچئے گا، آپ پر یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ مجرم کو سزا دینے کا اختیار صرف عدالت کو ہے، اگر کوئی ماورائے عدالت کسی کو قتل کریں تو وہ قاتل ہیں اور اس کی وہی سزا ہے جو ایک قاتل کی ہوتی ہے۔

اکیسویں صدی کی دنیا کے ساتھ چلنے کے لئے پاکستان کو بطور ریاست وہ تمام دروازے بند کروانے ہوں گے جس سے ہوکر شدت پسندی معصوم لوگوں کے رویوں میں آتی ہے۔ جو بھی مذہب کے نت نئے خود ساختہ تشریحات کر رہے ہیں، چاہے وہ سیاسی مفاد کے لئے ہو یا معاشی مفاد کے لئے، ان سب کا راستہ روکنا ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply