معمار وطن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


”آپ ملک و ملت کی تعمیر و ترقی کے لئے ہمیشہ کوشاں رہیں۔“ ”ملک و ملت کی تعمیر و ترقی“ ، یہ الفاظ سننے کے بعد عموماً ٹی۔ وی کی سکرین پر چند ایسے محنت کش دکھائے جاتے ہیں جو دھوپ میں کھڑے ہو کر کسی سڑک کی کھدائی یا کسی عمارت یا پل کی تعمیر میں سرگرم عمل دکھائی دیتے ہیں۔ ان میں ایک کے پاس کاغذ ہوتے ہیں۔ شاید، یہ کاغذ اس زمین کے ہوتے ہیں جو ان کے آبا و اجداد ترکے میں چھوڑ گئے تھے اور یہ حضرات اس موروثی زمین پر ملت کی بنیادیں کھڑی کرتے نظر آتے ہیں۔ ان ہستیوں کو دیکھ کر سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے کہ یہ معمار وطن کوئی اور نہیں بلکہ انجینئرز ہیں۔

اس کے علاوہ ان صاحبان کا لباس ان مجاہدوں کے لباس سے مماثلت رکھتا ہے جو سر پر کفن باندھے ہمہ وقت وطن عزیز پر جان چھڑکنے کے لئے پیش پیش رہتے ہیں۔ یہ اعزاز ملت کے کسی اور طبقہ کے پاس نہیں۔

وطن عزیز کے یہ فرزند ملک و قوم کا بوجھ اپنے مضبوط کندھوں پر اٹھائے رہتے ہیں۔ صرف یہاں تک نہیں بلکہ یہ حضرات زندگی کے ہر شعبے میں مصروف عمل ہیں۔ ان شعبوں میں سب سے معروف شعبہ تعمیرات کا ہے جو اب ہر انجینئر کی پہچان بن گیا ہے۔ اسے ”سول انجینئرنگ“ کے خوش الحان نام سے پکارا جاتا ہے۔ یہ نام سننے کے بعد پہلا تصور یہ ذہن میں آتا ہے کہ ان کا اور ان کی نسلوں کا ورثہ ان کے قسمت کے لوح میں تخلیق آدم سے پہلے سنہری حروفوں کے ساتھ سنہری مہر لگا کے لکھ دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ انجینئرز کی ایک جماعت شعبہ برقیات کی بانی تصور کی جاتی ہے۔ ان کی اس جماعت کو ”الیکٹریکل انجینئرز“ کے خطاب سے نوازا گیا ہے۔ عموماً یہ افراد کھمبوں سے جھولتے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ علاقے جہاں توانائی کا بحران طول پکڑ لے وہاں یہ عوام کے لئے تفریح فراہم کرتے ہیں۔ یہ لوگ ہر قسم کے برقی آلات کو اپنا خاندانی اثاثہ سمجھتے ہیں۔ ملت کا نام روشن کرنے میں ان کے کالے ہاتھ ملوث ہوتے ہیں۔

انجینئرز کی ایک اور جماعت جو زمانہ قدیم سے برسر پیکار ہے ”مکینیکل انجینئرز“ کے نام سے منسوب ہے۔ ان کا نام لیتے ہی صفحہ ذہن پر جدید دور کی قدیم گاڑیاں دوڑنے لگ جاتی ہیں۔ جیسے شیر کو بلی کا بھانجا گردانا جاتا ہے ویسے ہی انہیں گیراج کے استاد کا شاگرد تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن ان کے پاس ایک اعزاز ہے کہ بڑے بڑے دل و دماغ اور جگر و گردے کے ماہرین اپنی تحقیق و تدریس میں ان کا ذکر کرنا باعث مجبوری سمجھتے ہیں۔ کیونکہ، گاڑیوں کے بغیر اولاد آدم کا نظام وجود سمجھنا نا ممکن ہے۔ اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ گاڑیوں کی ایجاد کے بعد طب میں بڑی وسعت آئی ہے۔

اس کے بعد انجینئرز کی ایک اور جماعت ”کیمیکل انجینئرز“ جیسے دہشت زدہ نام سے منسوب ہے۔ ان کا نام سنتے ہی سب سے پہلے ”ایٹم بم“ کا تصور ذہن میں آتا ہے۔ حالانکہ ان کا ”ایٹم“ سے بھی رشتہ ساتویں پیڑھی سے جا کے ملتا ہے۔ ڈاکٹروں کی کمائی کے پیچھے ان کے دونوں خالی ہاتھ ملوث ہوتے ہیں۔

انجینئرز کی ایک اور جماعت ”سافٹ ویئر انجینئرز“ جیسے سافٹ نام سے مشہور زمانہ ہے۔ یہ لوگ اوپر سے جتنے سافٹ ہوتے ہیں اندر سے اتنے ہی سفاک۔ دور حاضر کے جدید جرائم میں ان کا سافٹ وجود کسی ہارڈ ویئر کی طرح ملوث ہے۔

اس کے بعد انجینئرز کی ایک اور جماعت ”ایروناٹیکل انجینئرز“ کے نامعروف نام سے منسوب ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں نہ جہاز خود سے بنانا سکھایا جاتا ہے نہ چلانا۔ اس کسمپرسی کی حالت میں یہ ساری زندگی گزار دیتے ہیں۔

انجینئرز کی ایک اور جماعت ”پٹرولیم انجینئرز“ کے نام سے مشہور زمانہ ہے۔ ان کا نام سنتے ہی پیٹرول اور پیٹرول پمپ کا خیال آتا ہے۔ یہ ملک کے لئے بطور ”پی۔ ایف۔ ایف“ یعنی پیٹرول فائنڈنگ فورس کا کام کرتے ہیں۔

انجینئرز کی ایک اور جماعت ”انوئر مینٹل انجینئرز“ کے نا قابل تسخیر نام سے یاد کی جاتی ہے۔ ان کا یہ ناقابل فہم نام ان کو ”انوائر“ کی شناخت نہیں دے سکا۔ عموماً ان کا کام ماحول کو صاف ستھرا رکھنا ہوتا ہے لیکن ان کوصرف کچرے کا سراغ لگاتے دیکھا گیا ہے۔

انجینئرز کی اتنی اقسام ہیں کہ ان کی درجہ بندی کرنے کے لئے ادب و تعظیم کے درجے کم پڑ جائیں۔ انجینئرز عموماً وہ لوگ بنتے ہیں جن کے اندر اختراع اور تحقیق کی بیماری کے جراثیم وافر مقدار میں موجود ہوں۔ انجینئرز کی یہ فراخ دلی ہے کہ جس شخص کو ہتھوڑا مارنا بھی آ جائے تو وہ خود کو اس مقدس جماعت کا ادنی خادم تصور کرنے لگ جاتا ہے۔

Latest posts by محمد نواز اعوان (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد نواز اعوان کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *