چاند نظر آنا شرعی تقاضا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بر صغیر پاک و ہند میں دو یا تین چاند ہی ایسے ہیں جن کے دکھائی دینے یا نہ دکھائی دینے کا ہمیشہ جھگڑا ہی رہتا ہے باقی 9 یا 10 چاند کب نکلتے ہیں اور کب نہیں، کبھی کوئی ان کے بارے میں جستجو کرتا ہوا نظر آتا ہے اور نہ ہی ان کی تاریخوں پر کسی قسم کا کوئی ہنگامہ کھڑا ہوتا ہے جبکہ ہر ماہ کی 29 تاریخ کو باقاعدگی سے رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس منعقد ہوتے ہیں اور چاند ہونے یا نہ ہونے کا نہایت ذمہ داری کے ساتھ اعلان کیا جاتا ہے۔

کئی باتیں ہیں جو پہلے صرف جہلا کی وجہ سے الجھن بن جایا کرتی تھیں لیکن اب وزیر سائنس اینڈ ٹیکنا لوجی کی دخل اندازی کی وجہ سے یہ بات کسی حد تک اس لئے خطرناک ہو سکتی ہے کہ اس ہونے یا نہ ہونے کی بحث میں وہ طبقہ جس کو عام طور پر دینی باتوں سے کبھی کوئی لینا دینا نہیں رہا، ان کی آرا عام لوگوں کے ذہنوں کو اور بھی الجھانے کا سبب بن سکتی ہیں جو آگے چل کر معاملے کو کسی وقت میں بگاڑ سکتی ہیں اور اس بات کا امکان بھی موجود ہے کہ دوطرفہ شدید رویے آپس میں عملاً نہ ٹکراجائیں اور معاشرے میں ایک اور فتنہ جنم لے بیٹھے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ سائنسی حساب کتاب ایک اٹل حقیقت ہے جس کا سب سے بڑا ثبوت سورج کے طلوع و غروب کا ایک مکمل نقشہ کئی برس سے ایک سند بنا ہوا ہے اور دنیا بھر میں، اس میں درج ہر قسم کے اوقات کو سند مانا جاتا ہے یہاں تک کہ تمام نمازوں کے اوقات، طلوع و غروب کا حساب کتاب اور مختلف اوقات میں عبادتوں کا وقت اس نقشے کی مدد سے ہی طے کیا جاتا ہے اور اس پر کسی بھی عالم یا مذہبی رہنما کو کبھی کوئی اعتراض ہوا بھی نہیں ہے۔

چاند کے افق پر ظاہر ہونے یا نہ ہونے کے متعلق بھی یہی علم درست حساب کتاب بتا سکتا ہے لیکن کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو دنیا کے ہر دین دھرم میں ہر قسم کی جدید سائنس کے حساب کتاب سے بہر صورت مختلف ہوتی ہیں جن سے روگردانی کسی طور ممکن نہیں ہوا کرتی۔ وہی حکمت کسی بھی قمری مہینے کا چاند کے اعلان سے وابستہ ہے جس کو سمجھنا ماہر فلکیات کے لئے ضروری ہے اور مجھے یقین ہے کہ مسلمان ہونے کی ناتے وہ اس باریکی کو ضرور سمجھتے ہوں گے اس لئے موجودہ وزیر سائنس اینڈ ٹیکنا لوجی لگتا ہے کہ جان بوجھ کر اور سب کچھ علم رکھنے کے باوجود، معاملات کو شاید اس لئے الجھاوے کا شکار کرنا چاہتے ہیں تاکہ رویت ہلال کا محکمہ ہی ختم ہو جائے جس کا اظہار وہ از خود متعدد بار کر چکے ہیں۔

بنیادی بات یہ ہے کہ موجودہ چاند کمیٹی کے چیئرمین ہوں یا ان کی ٹیم، الحمد اللہ نہ صرف دین کا ایک وسیع علم رکھتی ہے بلکہ وہ جدید سائنس کے بارے میں بھی کوئی غلط رائے نہیں رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سب کے سب، پاکستان میں جہاں جہاں بھی چاند دیکھنے کے لئے بیٹھتے ہیں، وہاں ان کے پاس ہر قسم کے جدید آلات اور محکمہ فلکیات کے ماہرین ساتھ ہوتے ہیں اور وہ ان ماہرین کی آرا کو فیصلوں میں برابر کا شریک رکھتے ہیں۔ ایک جانب علمائے کرام کے تعاون اور علمی بصیرت کا یہ عالم ہے تو دوسری جانب وزیر سائنس اینڈ تیکنالوجی کا کسی حد تک گستاخانہ رویہ قابل مذمت ہی نہیں لائق تعزیر بھی ہے۔

چاند کی رویت کے سلسلہ میں یہ بات نہایت واضح طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سائنسی حساب کتاب یا حقیقت میں چاند کا افق پر موجود ہونا ثابت ہی کیوں نہ ہو، اس کا دکھائی دیا جانا بہر صورت ضروری ہے۔ چاند افق پر موجود بھی ہو لیکن اس کے اور انسانی آنکھوں کے درمیان کوئی بھی شے، جیسے بادل کے دل کے دل یا گرد و غبار کا طوفان، حائل ہو جس کی وجہ سے چاند کا نظر آنا کسی طور بھی ممکن نہیں ہو تو اس کے موجود ہونے کا اعلان کیا ہی نہیں جا سکتا۔ ایسی صورت میں ملک کے طول و عرض سے ”مصدقہ“ گواہیوں کو بنیاد بنانا ضروری ہوا کرتا ہے۔ پورا پاکستان جانتا ہے کہ اگر پاکستان بھر میں کمیٹی کو چاند دکھائی نہیں دے سکا ہو تو وہ گواہیوں کا نہ صرف انتظار کرتی ہے بلکہ مصدقہ گواہیاں موصول ہونے پر اعلان کرنے میں کبھی کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتی۔

پاکستان میں پہلی مرتبہ ایسا ہو رہا ہے کہ بقرعید کے چاند کو متنازع بنایا گیا ہے ورنہ رمضان اور شوال کے دو چاندوں کے علاوہ کوئی چاند بھی کبھی متنازع نہیں بنایا گیا۔

یہاں ایک الجھن یہ بھی ہے کہ اس مرتبہ ذی الحج کے چاند کے روشن ہونے پر ابہام پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ممکن ہے کہ وہ 30 کی بجائے یکم (یعنی دوسرے دن) کا ہی چاند ہو لیکن اگر 29 کو چاند کسی کو بھی نظر نہیں آیا ہو اور کہیں سے تصدیق شدہ گوہیاں بھی نہیں ملی ہوں تو وزیر سائنس اینڈ ٹیکنا لوجی اور ان کی سی سوچ رکھنے والے یہ فرمائیں کہ چاند بنا دیکھے اور بنا گواہیاں موصول ہوئے کیا کمیٹی یا اس کا چیئرمین چاند ہونے کا اعلان کر سکتا تھا؟

چاند کے زیادہ روشن اور زیادہ دیر افق پر موجود رہنے کو بھی ایک دلیل بنایا جا رہا ہے کہ یہ پہلے دن کا نہیں دوسرے دن کا چاند تھا۔ راقم پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ پہلے دن ( 29 کا) چاند افق پر ہونے کے باوجود کیونکہ انسانی آنکھوں سے دکھائی دیا جانا دین کی ایک لازمی شرط ہے اس لئے اس بات کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ دکھائی دینے والا چاند دوسرے دن کا ہی ہو۔ ایک بہت ہی ضروری بات یہ بھی یاد رکھنے کی ہے کہ پہلے دن کے چاند میں اور دوسرے دن کے چاند میں 90 سے 100 منٹ کا وقفہ ہو سکتا ہے۔

یاد رکھنا چاہیے کہ چاند 29 یا 30 دن میں زمین کے گرد اپنا چکر مکمل کر لیا کرتا ہے گویا ہر دن وہ 50 سے 55 منٹ کے وقفے سے طلوع ہوتا ہے ٹھیک 13 ویں دن وہ مغربی افق سے مشرقی افق تک کی منزل عبور کر لیتا ہے اور اپنی 26 تاریخ کو وہ افق سے بالکل غائب ہو جاتا ہے جس کے بعد وہ دو یا ڈھائی دن بعد اس قابل ہوتا ہے کہ سورج غروب ہوجانے کے بعد دکھائی دے سکے۔ اس طرح پہلے دن کا ( 29 کا) چاند کم از کم سورج غروب ہوجانے پر 35 سے 40 منٹ بعد تک افق پر رہے تو انسانی آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے۔

اگر پہلے دن ( 29 کا) کا چاند کسی بھی سبب نہ دیکھا جا سکے تو 30 کا چاند کم از کم 80 سے 95 وے منٹ تک افق پر نظر آتا رہے گا جو 29 سے زیادہ پھولا ہوا اور روشن نظر آئے گا۔ اس کا یہ حجم اور روشن ہونا اکثر کم علمی کی وجہ سے ابہام کا سبب بن جاتا ہے۔ اس مرتبہ کئی حلقوں میں چاند کا کافی دیر تک افق پر رہنا تعجب کا سبب بنا ہوا ہے اور بد نیت افراد، لوگوں تک اصل معلومات پہنچانے کی بجائے مزید افتراق پھیلا کر ملک میں اس نازک اور خالص شرعی معاملے کو بھی مشکوک بنا کر الجھنوں میں اضافہ کرتے نظر آ رہے ہیں جو کسی طور بھی مثبت سوچ نہیں۔ یہ بات بھی بڑی دلچسپ ہے کہ ان میں زیادہ تر افراد وہ ہیں جن کو چاند دکھائی دینے یا نہ دکھائی دینے سے کبھی کوئی دلچسپی رہی ہی نہیں تھی لیکن نہ جانے کیوں اس مرتبہ سارے کے سارے برگزیدہ مسلمان بنے نظر آ رہے ہیں۔

میں کوئی قابل احترام مفتی منیب الرحمن کی طرح کوئی عالم، بلکہ ان کے علم کے سامنے کوئی دیا بھی نہیں نہ وزیر سائنس و ٹیکنالوجی جیسا بہت پڑھا لکھا لائق فائق اس لئے جو کچھ مجھ جیسے کم علم کو معلومات تھیں اس کے مطابق میں نے موجودہ جنم لینے والی کئی الجھنوں کو نہایت سادہ انداز میں سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ میں کسی بھی صورت میں اس خالص علمی و دینی معاملے میں اپنی رائے کو اٹل نہیں سمجھتا بلکہ ایک طالب علم کی حیثیت سے صاحبان علم سے رہنمائی چاہتا ہوں اور خواہش رکھتا ہوں کہ اگر میری باتوں میں کوئی سقم رہ گیا ہو تو اسے دور کیا جائے۔ امید ہے قارئین اور اہل علم حضرات، سبھی میری رہنمائی ضرور فرمائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply