مستقبل کے معمار۔ خطرات سے دوچار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا وبا کی تباہ کاریاں ہر شعبے میں بے مثال ہیں۔ جو لوگ اس کی زد میں آ کے جان گنوا بیٹھے ان کی تعداد ہزاروں میں ہے جو دوبارہ صحتمند ہوئے اور کلمہ شکر پڑھا ان کی بھی کثیر تعداد ہے۔ مگر یہ حقیت اپنی جگہ موجود ہے کہ اس کے اثرات نے تمام شعبہ ہائے زندگی کو متاثر کیا۔ اس کالم میں تعلیمی پہلو پر بات کی جائے گی دیکھنا یہ مقصود ہے کہ وقتی نقصان کتنا ہے؟ اور مستقبل کیسے داؤ پر لگ چکا ہے؟

کسی بھی صنعت سے وابستہ افراد اپنے روزگار کے ذریعے اپنے خاندان کی کفالت کرتے ہیں۔ کفالت سے مراد ان کی ضروریات زندگی ہیں جس کا ایک اہم حصہ تعلیم بھی ہے۔ لاک ڈاؤن کے گزشتہ مہینوں میں کاروبار کی نا گفتہ بہ حالت نے غریبوں کے مشکل سے چلتے چولہوں کے نیچے سے آنچ چھین لی تو مسئلہ روٹی مزیدشدت اختیار کر گیا اور تعلیمی ضروریات کا کوئی پرسان حال نہ رہا۔

ایسے حالات میں جب دو وقت کی روٹی نایاب ہو تعلیمی اخراجات برداشت سے باہر نظر آتے ہیں۔ سکولوں کی بندش کی صورت میں تعلیمی تعطل نے اس سارے معا ملے میں ”سونے پر سہاگہ“ کا کام کیا۔ شعبہ تعلیم ہی ایسا شعبہ تھا جس کے بارے میں ارباب اختیار نے نرم گوشہ بالکل اختیار نہ کیا۔ تعلیمی اداروں کو سب سے پہلے بند کیا گیا اور امید واثق ہے کہ سب سے آخر میں اس بندش کو ختم کیا جائے گا تا کہ زیادہ سے تعلیمی نقصان کو یقینی بنایا جا سکے۔

دیکھنے کو یہ پانچ یا چھ ماہ کا عرصہ ہے مگر یہ ایک مکمل تعلیمی سال کا نقصان یے۔ اس بات کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ ذریعہ معاش کے تعطل کی وجہ سے والدین اپنے بچوں کی سکول فیس اور داخلہ بھیجنے سے قاصر ہیں۔ بورڈ کلاسز کی رجسٹریشن کا آغاز ہو چکا ہے۔ جس حوالے سے حقائق ہوش ربا ہیں۔ جن والدین کے پاس روٹی کے لیے پیسے نہ ہوں وہ رجسٹر یشن کی فیس کہاں سے دیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ پراؤیٹ امیدوار کے طور پر داخلہ بھجنے کی کوشش کریں گے۔ اگر پھر بھی مالی صورتحال ایسی رہی تو اس سال کی پڑھائی کو اگلے سال مکمل کرنا پڑے گا۔ یہ بھی ممکن ہے والدین کا مالی بوجھ کم کرنے کے لیے بچوں کو والدین کے ساتھ کاروبار میں شامل ہو کر تعلیم کو خیر باد کہنا پڑے۔ وہ بچے جو ہمارا مستقبل ہیں آنے والے وقت کے ڈاکٹر اور انجینر ہیں مسلسل خطرات سے دوچار ہیں۔

حکومت کوچاہیے کہ والدین کو تعلیمی اخراجات کی مد میں خاص رقم دے کر اپنے تعلیم دوست حکومت ہونے کا حق ادا کرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
تنویر کاشف کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *